Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب تیرہواں: سازشوں کا جال اور منافق چہرے

 
القمونیہ کی گلیاں اب خون سے رنگین ہو چکی تھیں، مگر علیان اور اس کے ساتھیوں کے دل میں آزادی کی چنگاری مزید بھڑک اٹھی تھی۔ نایاب کی قربانی نے بغاوت کو اور بھی طاقتور بنا دیا تھا۔ عوام آہستہ آہستہ علیان کے نظریے کو سمجھنے لگی تھی، مگر دشمن بھی خاموش نہیں بیٹھے تھے۔
جنرل عتیق اور مولوی سراج کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ طاقت سے علیان کو توڑا نہیں جا سکتا۔ اب انہیں ایک نیا راستہ تلاش کرنا تھا — اور یہ راستہ تھا سیاست کا، منافقت کا، اور عوام کو گمراہ کرنے کا۔
یہیں پر دو نئے کردار داخل ہوئے — وزیرِ داخلہ مراد حیات اور حزبِ اختلاف کے لیڈر شاہنواز رشید۔
مراد حیات، بظاہر ایک مہذب، شائستہ اور عوام دوست سیاستدان تھا، مگر اندر سے وہ جنرل عتیق کا پٹھو تھا۔ اس کا کام عوام کو یہ یقین دلانا تھا کہ علیان ملک دشمن ہے، اور فوج ہی قوم کو بچا سکتی ہے۔
شاہنواز رشید، حزبِ اختلاف کا رہنما، جو ہر وقت عوام کی ہمدردی کا ڈھونگ رچاتا تھا، اندر ہی اندر مولوی سراج سے ملا ہوا تھا۔ اس کا مفاد یہ تھا کہ اگر فوج کی حکومت گرتی ہے تو وہ خود اقتدار میں آ جائے۔
جنرل عتیق نے مراد حیات سے کہا:
"
ہمیں علیان کو میدان جنگ میں نہیں، سیاست کے دلدل میں پھنسانا ہوگا۔ عوام کو یہ دکھانا ہوگا کہ وہ صرف اقتدار کے لیے لڑ رہا ہے، آزادی کے لیے نہیں۔"
مراد حیات نے مسکرا کر کہا:
"
میں سمجھ گیا جنرل صاحب، عوام کو خواب بیچنا میرا کام ہے۔"
مولوی سراج نے شاہنواز رشید سے ملاقات کی اور بولا:
"
علیان کو شہید بننے نہیں دینا۔ اگر وہ مرا تو ہیرو بن جائے گا۔ اسے بدنام کرو، اسے غدار بنا دو، تاکہ عوام خود ہی اسے مسترد کر دے۔"
مراد حیات نے ایک نئی مہم کا آغاز کیا:
"
علیان غیر ملکی ایجنٹ ہے! وہ ہمارے مذہب کو مٹانے نکلا ہے! اس کا مقصد قمونیہ کو کافروں کے ہاتھ بیچ دینا ہے!"
شاہنواز رشید نے بھی بیان دیا:
"
ہم علیان کی بغاوت کی مذمت کرتے ہیں۔ اس نے نایاب جیسی عورتوں کو گمراہ کیا اور اب لوگوں کو جنگ میں جھونک رہا ہے۔ یہ انقلاب نہیں، تباہی ہے!"
مولوی سراج نے خطبے میں کہا:
"
جو علیان کا ساتھ دے گا، وہ جہنمی ہے۔ علیان مذہب کے خلاف ہے، وہ کافروں کا ایجنٹ ہے!"
علیان اور اس کے ساتھی چھپ کر اپنے اگلے حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے جب اچانک خبر آئی — حکومت نے علیان پر ملک سے غداری اور دہشتگردی کے مقدمات درج کر دیے ہیں۔
"علیان عوام کا دشمن ہے! وہ غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے!"
"نایاب اور اس کی عورتیں دراصل بے راہ روی پھیلانے کی کوشش کر رہی تھیں!"
یہ الزامات جنگ سے زیادہ خطرناک تھے، کیونکہ اب عام لوگ بھی شک میں مبتلا ہونے لگے تھے۔
علیان کے کچھ ساتھی بھی خوف کا شکار ہونے لگے۔ ایک دن علیان نے اپنے سب سے قریبی دوست فاروق کو بدحواس پایا۔
"علیان، اگر یہ سچ ہے تو؟ اگر واقعی وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں؟"
علیان نے فاروق کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا:
"
ہماری جنگ سچائی کے لیے ہے، طاقت کے لیے نہیں۔ جو لوگ مراد حیات اور مولوی سراج کی باتوں پر یقین کر رہے ہیں، وہ اصل میں غلامی کے عادی ہو چکے ہیں۔"
فاروق نے شرمندہ ہو کر سر جھکا لیا، مگر دل میں شک کا بیج بویا جا چکا تھا۔
شہر میں علیان کے حامیوں پر ظلم بڑھ گیا۔ عورتوں کو گرفتار کیا جانے لگا، بچے بھوک سے مرنے لگے، اور مردوں کو بغاوت کے الزام میں پھانسیاں دی جانے لگیں۔
ایک دن علیان کو خبر ملی کہ اس کے ٹھکانے کا راز حکومت کو مل چکا ہے۔ اسے یقین ہو گیا کہ اندرونی سازش ہو رہی ہے۔
رات کے اندھیرے میں علیان نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور پوچھا:
"
ہم میں سے کوئی غدار ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ خود آگے آ کر اعتراف کرے۔ اگر نہیں کرے گا تو کل جب ہمیں پھانسی پر لٹکایا جائے گا، وہ ہماری لاشوں کو دیکھ کر زندہ نہیں رہ سکے گا!"
کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اچانک فاروق نے کانپتے ہاتھوں سے خنجر نکالا اور زمین پر پھینک دیا:
"
معاف کر دو علیان، میں نے غداری نہیں کی، مگر میں نے شک کیا تھا۔ میں نے اپنے دل میں تم پر یقین نہیں کیا — اور یہی سب سے بڑی غداری تھی!"
علیان نے آگے بڑھ کر فاروق کو گلے لگا لیا:
"
دوست، شک گناہ نہیں، مگر اپنے ضمیر کو بیچ  دینا سب سے بڑا  گناہ ہے۔ ہم ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کریں تو  دشمن ہمیں ختم کر دے گا۔"
القمونیہ کی گلیاں اب صرف بغاوت کا مرکز نہیں، سازشوں کا میدان بھی بن چکی تھیں۔ علیان کے خلاف جھوٹے مقدمات، عوام میں شک اور منافق سیاستدانوں کا گٹھ جوڑ — یہ سب ایک بڑے طوفان کا پیش خیمہ تھے۔
 
 

No comments:

Post a Comment