Visitors

Tuesday, August 25, 2026

تین نسلیں، تین فلمی کردار اور بدلتا ہوا پاکستانی ذہن

پاکستانی معاشرے کی گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ کو اگر صرف سیاست، حکومتوں اور حکمرانوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو شاید ہماری اجتماعی نفسیات کی ایک اہم کہانی ہم سے چھپ جائے۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے پاکستانی سینما بھی ایک اہم آئینہ ہے، کیونکہ فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے عہد کے خواب، محرومیاں، خواہشیں، خوف، معاشرتی تضادات اور اخلاقی تصورات بھی اپنے اندر سمیٹتی ہے۔

یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ فلموں نے پاکستانی معاشرے کو بنایا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ فلموں نے معاشرے میں پہلے سے موجود رویوں کو کردار، مکالمے اور کہانی دے کر عام ذہن تک پہنچایا اور بعض رویوں کو قابل قبول، قابل تقلید یا قابل فخر بھی بنا دیا۔

پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بننے والی فلموں میں سماجی، گھریلو، اصلاحی اور رومانوی موضوعات نمایاں تھے۔ غربت، طبقاتی فرق، خاندانی مسائل، عورت کی مشکلات، معاشی محرومیاں اور سماجی ناانصافیاں بھی فلموں کا حصہ بنتی رہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستانی سینما نے ہمیشہ معاشرے کو غلط سمت دکھائی۔ بہت سی فلموں نے لوگوں کو ان کے مسائل کا آئینہ دکھایا، سوچنے پر مجبور کیا اور زندگی کے بہتر راستے کی طرف رہنمائی بھی کی۔

اسی دور میں رومانوی فلمیں بھی بہت مقبول ہوئیں۔ محبت، قربانی، جدائی، حسن اور بہتر زندگی کے خواب ان کہانیوں کا حصہ تھے۔ لیکن رومانویت کا یہ تصور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے یکساں نہیں تھا۔ ایک طرف معاشی طور پر خوشحال طبقہ تھا جس کے پاس خواب دیکھنے، محبت کو زندگی کا مرکزی مسئلہ بنانے اور آسودہ زندگی کے تصور سے لطف اندوز ہونے کی گنجائش تھی، جبکہ دوسری طرف غریب اور محروم طبقہ تھا جس کے لیے زندگی کا بنیادی سوال روٹی، روزگار، گھر، عزت، انصاف اور معاشی تحفظ تھا۔

یوں ایک ہی معاشرے میں دو مختلف دنیائیں پروان چڑھ رہی تھیں۔ ایک دنیا محبت، حسن اور رومان کے خواب دیکھ رہی تھی اور دوسری دنیا معاشی بقا اور عزت کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔

پھر پاکستانی سینما کے پردے پر ایسے کردار بھی مقبول ہوئے جنہوں نے ہمارے اجتماعی اخلاقی رویوں کو ایک عجیب جواز فراہم کیا۔ 1956 کی فلم سرفروش میں سنتوش کمار کے چور کے کردار سے منسوب مشہور مکالمہ تھا:

”چوری میرا پیشہ ہے، نماز میرا فرض۔“

کہانی میں چوری کرنے والا شخص اذان سن کر نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک فلمی مکالمہ تھا، لیکن بعد کی دہائیوں میں یہ ہمارے معاشرتی رویے کی ایک علامت بن گیا۔ مسئلہ نماز نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ انسان نے اپنے غلط عمل کو ترک کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ایک مذہبی عمل جوڑ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کا راستہ تلاش کر لیا۔

چوری بھی جاری، نماز بھی جاری۔

بددیانتی بھی جاری، خیرات بھی جاری۔

ظلم بھی جاری، مذہبی شناخت بھی جاری۔

یوں ہمارے ہاں ایک خطرناک ذہنی رویہ پیدا ہوا کہ اگر انسان کچھ برے کاموں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کر رہا ہے تو شاید اس کے برے اعمال قابل معافی یا قابل قبول ہو جاتے ہیں۔ کردار کی اصل قدر اس کے مجموعی عمل سے ہونے کے بجائے اس کی ظاہری نیکیوں سے ہونے لگی۔

پھر وقت بدلا اور 1970ء کی آخری دہائی اور 1980ء کی دہائی میں پاکستانی خصوصاً پنجابی سینما میں ایک نیا ہیرو سامنے آیا۔ سلطان راہی جیسے اداکاروں نے ڈاکو، باغی، طاقتور اور قانون سے بے نیاز کرداروں کو مقبولیت دی۔ مولا جٹ، رنگا ڈاکو اور اس نوعیت کی بے شمار فلموں میں ایک ایسا ہیرو سامنے آیا جو طاقتور لوگوں سے ٹکراتا، ان سے بدلہ لیتا اور بعض اوقات دولت چھین کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔

یہ کردار محض ایک فلمی کردار نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک پورا سماجی اور نفسیاتی پس منظر موجود تھا۔ جب ایک عام آدمی کو محسوس ہو کہ قانون طاقتور کے لیے مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہے، جب انصاف تک رسائی مشکل ہو اور بااثر لوگ اپنے اثر و رسوخ سے قانون کو شکست دیتے نظر آئیں تو پھر سینما کا وہ ہیرو عوام کو اپنی خواہش پوری کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو خود قانون ہاتھ میں لے کر طاقتور سے حساب لیتا ہے۔

اسی لیے سلطان راہی کا کردار ایک خاص طبقے کے غصے، محرومی اور بے بسی کا اظہار بھی بن گیا۔

لیکن یہاں بھی ایک خطرناک تصور پیدا ہوا۔ انصاف اور انتقام کے درمیان فرق دھندلا ہونے لگا۔ قانون اور طاقت کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگا اور یہ تصور مقبول ہونے لگا کہ اگر مقصد اچھا ہو تو طریقہ بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔

یہی وہ ذہنی رویہ تھا جو پہلے چور کو نماز کے ذریعے اپنے عمل کا جواز فراہم کرتا تھا اور اب ڈاکو کو غریب پروری کے ذریعے اپنے عمل کا جواز فراہم کرنے لگا۔

یعنی کردار بدل گیا، مگر منطق کہیں نہ کہیں وہی رہی:

میں غلط کام ضرور کر رہا ہوں، لیکن میرے پاس اپنے غلط کام کو درست ثابت کرنے کی ایک بڑی وجہ موجود ہے۔

یہی سوچ بعد میں ہماری حقیقی زندگی میں بھی مختلف شکلوں میں دکھائی دینے لگی۔ کوئی کرپشن کرتا ہے اور مسجد بناتا ہے، کوئی دوسروں کا حق مارتا ہے اور خیرات کرتا ہے، کوئی ظلم کرتا ہے اور پھر غریبوں میں راشن بانٹ کر اپنے لیے عزت خرید لیتا ہے، کوئی ناجائز دولت بناتا ہے اور اس کا ایک حصہ فلاحی کاموں میں لگا کر خود کو محسن ثابت کرتا ہے۔

یوں سوال یہ نہیں رہتا کہ تم نے کیا کیا، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ تم نے اس کے ساتھ کتنا اچھا کام بھی کیا۔

یہاں آ کر ہماری اخلاقی ترجیحات میں ایک بنیادی خرابی پیدا ہوئی۔ کیونکہ اخلاقیات کا اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ عمل درست ہے یا غلط، نہ کہ یہ کہ غلط عمل کے ساتھ کتنے اچھے کام شامل کر دیے گئے ہیں۔

لیکن پاکستانی سینما کی پوری کہانی صرف منفی نہیں تھی۔ اس دوران بے شمار سماجی، گھریلو اور اصلاحی فلمیں بھی بنتی رہیں جنہوں نے عام آدمی کے مسائل، غربت، خاندانی تنازعات، طبقاتی فرق، عورت کے مسائل، معاشرتی ناانصافی اور معاشی مشکلات کو موضوع بنایا۔ ان فلموں نے کئی لوگوں کو سوچنے، سوال کرنے اور بہتر زندگی کی طرف دیکھنے کا موقع بھی دیا۔

اس لیے فلم کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔ فلم معاشرے کی پیداوار بھی ہے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے والی طاقت بھی۔ وہ کبھی آئینہ ہوتی ہے اور کبھی ذہن پر اثر انداز ہونے والی قوت۔

پھر 1980ء کی دہائی کے بعد حالات مزید بدلتے گئے۔ تشدد، طاقت، بدلہ، غیرت اور ذاتی انصاف پر مبنی کہانیاں زیادہ نمایاں ہوئیں۔ ایک ایسی نسل بھی پروان چڑھی جس کے لیے طاقتور ہونا، مخالف کو ختم کرنا، اپنا حق خود لینا اور قانون سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنا ایک خاص قسم کی مردانگی اور بہادری کی علامت بن گیا۔

لیکن اب ہم ایک بالکل مختلف زمانے میں داخل ہو چکے ہیں۔

2000ء کے بعد پروان چڑھنے والی نئی نسل کے ہاتھ میں گنڈاسا نہیں، موبائل فون ہے۔ اس کے سامنے صرف ایک فلم نہیں بلکہ پوری دنیا موجود ہے۔ وہ ایک ہی کہانی کو آخری سچ سمجھنے کے بجائے مختلف زاویے دیکھ سکتی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے، ثبوت تلاش کرتی ہے اور شخصیت سے زیادہ عمل کو اہمیت دینے لگی ہے۔

وہ پوچھتی ہے کہ اگر کوئی شخص بہت مذہبی نظر آتا ہے تو کیا اس کے معاملات بھی دیانت دار ہیں؟

اگر کوئی غریبوں میں پیسہ بانٹتا ہے تو یہ پیسہ آیا کہاں سے؟

اگر کوئی خود کو محب وطن کہتا ہے تو کیا اس کے اعمال بھی اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں؟

اگر کوئی ظلم کرتا ہے اور پھر خیرات کرتا ہے تو کیا خیرات اس ظلم کو ختم کر دیتی ہے؟

یہاں ایک نئی اخلاقی سوچ جنم لے رہی ہے۔

پہلے شخصیت دلیل تھی، اب دلیل شخصیت سے بڑی ہونے لگی ہے۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ بہت نیک آدمی ہے، اس لیے اس پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ نئی نسل پوچھتی ہے کہ اس نے کیا کیا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ بڑا متقی ہے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ اس کا کردار کیسا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ غریبوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ اس دولت کا ذریعہ کیا ہے؟

یہ صرف نسلوں کا اختلاف نہیں، بلکہ اخلاقی معیار کے بدلنے کی علامت ہے۔

پرانے معاشرے میں ظاہری نیکی اکثر کردار کا ثبوت سمجھی جاتی تھی۔ نئی نسل کہتی ہے کہ نیکی کا اصل ثبوت مستقل کردار ہے۔

یہاں آ کر پرانی اور نئی نسلوں کے درمیان اصل تصادم شروع ہوتا ہے۔

ایک نسل کے پاس جواز ہیں، دوسری کے پاس سوال۔

ایک نسل کہتی ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے، اس لیے اچھا آدمی ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ نماز اپنی جگہ، مگر اس نے دوسروں کے ساتھ کیا کیا؟

ایک کہتی ہے کہ وہ غریبوں میں بہت بانٹتا ہے۔ دوسری پوچھتی ہے کہ جو بانٹ رہا ہے وہ آیا کہاں سے؟

ایک کہتی ہے کہ وہ ہمارا محسن ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ کسی کو محسن کہنے سے پہلے اس کا پورا کردار دیکھو۔

شاید پاکستانی معاشرے میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی یہی ہے۔ یہ مذہب سے بغاوت نہیں، نیکی سے بغاوت نہیں، خیرات کے خلاف نہیں اور عبادت کے خلاف بھی نہیں۔ یہ دراصل مذہب، نیکی، عبادت اور اخلاقی کردار کو دوبارہ ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش ہے۔

کیونکہ نماز اپنی جگہ عبادت ہے، خیرات اپنی جگہ نیکی ہے اور مذہبی شناخت اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، لیکن کسی انسان کے کردار کا اصل امتحان اس کے ساتھ رہنے والے انسانوں کے حقوق، اس کی دیانت، اس کے معاملات، اس کے رویے اور اس کے اختیار کے استعمال میں ہوتا ہے۔

شاید اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کتنے مذہبی ہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ آپ کتنے دیانت دار ہیں۔

شاید یہ بھی نہیں کہ آپ نے کتنی خیرات کی، بلکہ یہ کہ آپ نے کسی کا حق تو نہیں مارا۔

شاید یہ بھی نہیں کہ آپ کتنے بااثر ہیں، بلکہ یہ کہ آپ نے اپنے اختیار کے ساتھ کیا کیا۔

ایک وقت تھا جب ہم فلمی کرداروں میں اپنے لیے جواز تلاش کرتے تھے۔ پہلے چور کے پاس نماز کا جواز تھا، پھر ڈاکو کے پاس غریب پروری کا جواز آیا، پھر طاقتور کے پاس خیرات اور فلاحی کاموں کا جواز آیا۔

اب شاید ایک نئی نسل ان تمام جوازوں سے آگے بڑھ کر صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے:

آپ کا اصل کردار کیا ہے؟

اور شاید یہی سوال پاکستانی معاشرے کی اگلی اخلاقی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

کیونکہ حقیقی نیکی یہ نہیں کہ انسان اپنے غلط کاموں کے ساتھ کچھ اچھے کام بھی کرتا رہے۔ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے غلط کام کو غلط تسلیم کرے، دوسروں کا حق نہ مارے، اپنے اختیار کا ناجائز استعمال نہ کرے اور اپنے کردار کو مذہبی، سماجی یا فلاحی پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش نہ کرے۔

ہماری فلمیں بدلتی رہیں، ہمارے ہیرو بدلتے رہے، ہمارے مکالمے بدلتے رہے، لیکن اب شاید ناظر بھی بدل رہا ہے۔

اور جب ناظر بدل جائے تو پھر ہیرو بھی بدلنا پڑتا ہے۔

 


Thursday, June 18, 2026

رسمِ دہر

 


مفادِ وقت چھپا ہے ہر ایک رشتے میں

بچا ہی کیا ہے بھلا اب اِس زمانے میں


جسے یہ دُنیا محبت پکارتی ہے مدام

وہ ایک غرض کا لبادہ ہے اِس دُکانے میں


محبتوں کے سرابوں میں ہم رہے تنہا

ہر ایک مِحو رہا اپنی بزم سَجانے میں


مریں گے جب تو تھوڑی دیر ہاہاکار ہوگی

پھر سب لگ جائیں گے رسمیں نبھانے میں


بہا کے چند آنسو کہیں گے "بس اب چلو"

کہ رسمِ دہر ہے یہ، اب دیر کیا دفنانے میں


مِیرا جینا جنہیں اِک پل نہ بھایا تھا 'اسد'

وہ نوحہ گر ہیں مِیری لحد کے سرہانے میں



(ڈاکٹر اسد رضا )






Monday, April 27, 2026

کیا واقعی پاکستان میں تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے؟ ایک عالمی اور تقابلی جائزہ








پاکستان میں آج کل یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے کہ تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ بظاہر حالات کو دیکھ کر یہ بات کسی حد تک درست محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جب تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار نظر آتے ہیں۔ مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی، عالمی تناظر اور سماجی اثرات کے ساتھ دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ تعلیم کی افادیت کا نہیں بلکہ اس کے نظام، ترجیحات اور معاشرتی رویّوں کا ہے۔

دنیا کی تاریخ اس بات کی واضح گواہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام نے اپنی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر رکھی۔ فن لینڈ، جنوبی کوریا، ناروے اور برطانیہ جیسے ممالک نے تعلیم کو صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنایا۔ ان ممالک نے تحقیق، جدت اور عملی مہارتوں پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں ان کی معیشتیں مضبوط اور پائیدار ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم صرف ڈگری نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہے جو فرد کو زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب بناتا ہے۔

اگر ہم تعلیمی بجٹ کا جائزہ لیں تو فرق مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک عموماً اپنی جی ڈی پی کا پانچ سے سات فیصد تک تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ فن لینڈ اور ناروے جیسے ممالک چھ فیصد یا اس سے زائد سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ جنوبی کوریا بھی پانچ فیصد سے زیادہ بجٹ مختص کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت تقریباً ڈھائی سے تین فیصد، چین تقریباً چار فیصد اور پاکستان عموماً ڈیڑھ سے دو فیصد کے درمیان تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے، اور یہی کم سرمایہ کاری تعلیمی نظام کی کمزوریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

پاکستان میں تعلیمی مسائل کی ایک اہم وجہ پالیسی سازی کی کمزوری ہے۔ جب اہم تعلیمی عہدوں پر ایسے افراد تعینات کیے جائیں جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو نہ نصاب اپڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں جدت آتی ہے۔ نتیجتاً طلبہ وہی پرانے طریقوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو عملی زندگی میں زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو سوشل میڈیا کا اثر ہے۔ آج کے دور میں ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے معلومات کے پھیلاؤ کو انتہائی تیز کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک منفی پہلو بھی سامنے آیا ہے، یعنی غیر مستند معلومات اور نام نہاد دانشوروں کا بڑھتا ہوا اثر۔

سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو بغیر کسی علمی بنیاد کے یہ تاثر دیتے ہیں کہ تعلیم فضول ہے اور کامیابی کے لیے ڈگری کی ضرورت نہیں۔ چند کامیاب مثالوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ افراد کتنی محنت، مہارت اور مخصوص حالات کے باعث کامیاب ہوئے۔ اس طرح کی یکطرفہ اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہے اور ان کے ذہن میں تعلیم کے بارے میں منفی سوچ پیدا کرتی ہے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر فوری شہرت اور آسان پیسے کا تصور بھی نوجوانوں کو تعلیم سے دور کر رہا ہے۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ کوئی شخص بغیر تعلیم کے صرف ویڈیوز بنا کر پیسہ کما رہا ہے تو وہ طویل تعلیمی سفر کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ یہ کامیابی عموماً عارضی ہوتی ہے اور ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔

تعلیم سے دوری کی دیگر وجوہات بھی کم اہم نہیں ہیں۔ سب سے پہلی وجہ بے روزگاری ہے۔ جب ڈگری کے باوجود ملازمت نہ ملے تو تعلیم پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ دوسری وجہ تعلیم اور مارکیٹ کے درمیان خلا ہے، جہاں یونیورسٹیاں وہ مہارتیں نہیں دے رہیں جو انڈسٹری کو درکار ہیں۔ تیسری وجہ معاشی دباؤ ہے، جہاں بہت سے نوجوان جلدی کمانا چاہتے ہیں تاکہ گھر کی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ چوتھی وجہ تعلیم کا معیار ہے، جہاں کئی اداروں میں محض ڈگری دی جاتی ہے، علم اور مہارت نہیں۔ پانچویں وجہ رہنمائی یعنی کیریئر کاؤنسلنگ کی کمی ہے، جس کے باعث طلبہ درست سمت کا انتخاب نہیں کر پاتے۔

ان تمام مسائل کے باوجود یہ کہنا کہ تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے، حقیقت سے دور ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود کر دیا ہے، جبکہ جدید دنیا میں کامیابی کے لیے تعلیم کے ساتھ عملی مہارتیں، ٹیکنالوجی کا علم اور تخلیقی سوچ بھی ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور، تنقیدی سوچ اور بہتر فیصلہ سازی کی بنیاد ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور فکری ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

مختصراً، پاکستان میں تعلیم کا فائدہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے نظام، پالیسی اور سماجی رویّوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو متوازن کرنے، تعلیمی بجٹ بڑھانے، نصاب کو جدید بنانے اور تعلیم کو عملی مہارتوں سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب یہ اصلاحات آئیں گی تو یہی تعلیم پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا سب سے مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔

 

حوالہ جات

World Bank – Education Spending Data (% of GDP)
UNESCO – Global Education Monitoring Reports
OECD – Education at a Glance Reports
Government of Pakistan – Economic Survey of Pakistan
Government of India – Union Budget Documents
Government of China – National Education Statistics Reports

 


Tuesday, March 31, 2026

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد کی ریٹائرمنٹ پر خراجِ تحسین

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد کی ریٹائرمنٹ پر خراجِ تحسین


آج ہم ایک عظیم ماہرِ تعلیم، مدبر اور شفیق استاد پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر انہیں دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ آپ نے بطور سابق پرنسپل گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان، سابق پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج سول لائنز ملتان، اور سابق رجسٹرار ایمرسن یونیورسٹی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بصیرت اور قائدانہ کردار کے ذریعے تعلیمی اداروں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

انگریزی ادب اور لسانیات کے میدان میں آپ کی خدمات نہایت نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔ آپ نے نہ صرف کلاسیکی اور جدید انگریزی ادب کی تدریس کو مؤثر انداز میں فروغ دیا بلکہ طلبہ میں تنقیدی فکر، تجزیاتی صلاحیت اور تحقیقی رجحان کو بھی پروان چڑھایا۔ ادب کی مختلف اصناف شاعری، ناول، ڈرامہ اور تنقید   پر آپ کی گہری دسترس نے طلبہ کو مضامین کو محض پڑھنے کے بجائے سمجھنے اور ان پر تحقیق کرنے کی صلاحیت عطا کی۔

لسانیات کے شعبے میں آپ نے زبان کی ساخت، صوتیات (آوازوں کا علم)، صرف و نحو (الفاظ اور جملوں کی ساخت کا علم) اور معنیات (معانی کا علم) جیسے اہم پہلوؤں کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔ آپ نے طلبہ کو زبان کو ایک سائنسی، فکری اور معاشرتی نظام کے طور پر سمجھنے کی تربیت دی، جس کے نتیجے میں ان کے شاگرد تدریس اور تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

آپ کی علمی رہنمائی کا اثر اس بات سے واضح ہے کہ انگریزی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق حاصل کرنے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد آپ کے شاگردوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے طلبہ کو تحقیق کے اصول، مقالہ نویسی کے تقاضے اور علمی دیانت کی اہمیت سے روشناس کروایا، جس کے نتیجے میں کئی شاگردوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

بطور منتظم، آپ نے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، تحقیقی ماحول اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان مثبت اور تعمیری روابط کو فروغ دیا۔ آپ کی قیادت میں اداروں میں ایک ایسا علمی ماحول قائم ہوا جہاں علم، تحقیق اور کردار سازی کو اولین حیثیت حاصل رہی۔

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک رہنما، مربی اور ایک ادارہ ساز شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے علم، کردار اور اخلاص سے بے شمار زندگیوں کو متاثر کیا۔ آپ کی ریٹائرمنٹ بلاشبہ ایک عہد کا اختتام ہے، مگر آپ کی علمی و فکری خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوشی اور سکون سے بھرپور زندگی عطا فرمائے۔ آپ کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔

 


Friday, March 20, 2026

لازوال محبت کی داستان - محمد علی اور زیبا بیگم

 لازوال محبت کی داستان - محمد علی اور زیبا بیگم

محمد علی پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہیں شہنشاہِ جذبات کہا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش 19 اپریل 1931 کو رامپور (برطانوی ہندوستان) میں ہوئی، جبکہ ان کی وفات 19 مارچ 2006 کو ہوئی۔ انہوں نے اپنی بھرپور اداکاری، مضبوط مکالمہ ادائیگی اور گہرے جذبات کے اظہار سے اردو فلمی صنعت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت میں وقار اور سنجیدگی تھی جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی تھی۔

زیبا بیگم پاکستان کی معروف اداکارہ ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنے فن کے ذریعے بھی ایک خاص مقام حاصل کیا۔ محمد علی اور زیبہ بیگم کی ملاقات فلمی دنیا میں ہوئی اور یہ تعلق وقت کے ساتھ ایک مضبوط اور سچی محبت میں ڈھل گیا۔ 1966 میں ان کی شادی ہوئی، جو ایک ایسے رشتے کی بنیاد بنی جس میں خلوص، اعتماد اور وفاداری نمایاں تھی۔

دونوں نے زندگی کے کئی اتار چڑھاؤ ایک ساتھ گزارے۔ محمد علی نے جہاں اپنے فن کے ذریعے شہرت حاصل کی، وہیں زیبہ بیگم نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔ ان کا رشتہ محض ایک شوہر اور بیوی کا تعلق نہیں تھا بلکہ ایک گہری دوستی اور بے لوث محبت کی مثال بھی تھا۔

محمد علی کی وفات کو ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ موجودہ ویڈیو میں زیبا بیگم کو محمد علی کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ قبر اور ان کے نام کو چھو رہی ہیں، جیسے وہ آج بھی اسی رشتے کو محسوس کر رہی ہوں۔

یہ لمحہ نہایت جذباتی ہے، جہاں الفاظ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بلکہ احساس خود بولنے لگتا ہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات اور انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محبت وقت کے گزرنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ اور گہری ہو جاتی ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کچھ رشتے جسمانی موجودگی سے نہیں بلکہ دل کی وابستگی سے زندہ رہتے ہیں۔

محمد علی اور زیبا بیگم کی محبت ایک ایسی حقیقت ہے جو وقت، فاصلے اور جدائی کے باوجود آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک خاموش مگر طاقتور جذبہ ہے جو یادوں میں سانس لیتا ہے اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔


https://www.youtube.com/shorts/UyqwuRMX0A0