Visitors

Friday, March 20, 2026

لازوال محبت کی داستان - محمد علی اور زیبا بیگم

 لازوال محبت کی داستان - محمد علی اور زیبا بیگم

محمد علی پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہیں شہنشاہِ جذبات کہا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش 19 اپریل 1931 کو رامپور (برطانوی ہندوستان) میں ہوئی، جبکہ ان کی وفات 19 مارچ 2006 کو ہوئی۔ انہوں نے اپنی بھرپور اداکاری، مضبوط مکالمہ ادائیگی اور گہرے جذبات کے اظہار سے اردو فلمی صنعت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت میں وقار اور سنجیدگی تھی جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی تھی۔

زیبا بیگم پاکستان کی معروف اداکارہ ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنے فن کے ذریعے بھی ایک خاص مقام حاصل کیا۔ محمد علی اور زیبہ بیگم کی ملاقات فلمی دنیا میں ہوئی اور یہ تعلق وقت کے ساتھ ایک مضبوط اور سچی محبت میں ڈھل گیا۔ 1966 میں ان کی شادی ہوئی، جو ایک ایسے رشتے کی بنیاد بنی جس میں خلوص، اعتماد اور وفاداری نمایاں تھی۔

دونوں نے زندگی کے کئی اتار چڑھاؤ ایک ساتھ گزارے۔ محمد علی نے جہاں اپنے فن کے ذریعے شہرت حاصل کی، وہیں زیبہ بیگم نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔ ان کا رشتہ محض ایک شوہر اور بیوی کا تعلق نہیں تھا بلکہ ایک گہری دوستی اور بے لوث محبت کی مثال بھی تھا۔

محمد علی کی وفات کو ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ موجودہ ویڈیو میں زیبا بیگم کو محمد علی کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ قبر اور ان کے نام کو چھو رہی ہیں، جیسے وہ آج بھی اسی رشتے کو محسوس کر رہی ہوں۔

یہ لمحہ نہایت جذباتی ہے، جہاں الفاظ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بلکہ احساس خود بولنے لگتا ہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات اور انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محبت وقت کے گزرنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ اور گہری ہو جاتی ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کچھ رشتے جسمانی موجودگی سے نہیں بلکہ دل کی وابستگی سے زندہ رہتے ہیں۔

محمد علی اور زیبا بیگم کی محبت ایک ایسی حقیقت ہے جو وقت، فاصلے اور جدائی کے باوجود آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک خاموش مگر طاقتور جذبہ ہے جو یادوں میں سانس لیتا ہے اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔


https://www.youtube.com/shorts/UyqwuRMX0A0



 

Thursday, March 19, 2026

میسوجنی (عورت دشمنی) ایک ہمہ جہتی سماجی مسئلہ

میسوجنی، جسے اردو میں عورت دشمنی کہا جاتا ہے، ایک ایسا منفی رویہ اور سوچ ہے جس کے تحت عورتوں کو کمتر، کمزور یا غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف کسی فرد کی ذاتی نفرت تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی مسئلہ ہے جو صدیوں سے مختلف معاشروں میں مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ میسوجنی کا اثر عورتوں کی زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، روزگار ہو، گھریلو زندگی ہو یا سماجی شرکت۔ میسوجنی کی جڑیں تاریخ میں بہت پیچھے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ قدیم معاشروں میں اکثر مردوں کو طاقت اور اختیار کا مرکز سمجھا جاتا تھا جبکہ عورتوں کو گھریلو دائرے تک محدود رکھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ سوچ روایات، رسومات اور سماجی اقدار کا حصہ بنتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر بعض معاشروں میں لڑکی کی پیدائش کو خوشی کی بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے، جبکہ لڑکے کی پیدائش پر جشن منایا جاتا ہے۔ یہ امتیاز بچپن ہی سے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے اور بڑے ہو کر یہی بچے اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی میسوجنی واضح نظر آتی ہے۔ کئی علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا ان کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دیہی علاقوں میں اکثر والدین یہ سوچ رکھتے ہیں کہ لڑکی نے آخرکار شادی کر کے گھر سنبھالنا ہے، اس لیے اس پر زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس لڑکوں کی تعلیم کو مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً خواتین کی بڑی تعداد اپنے حقوق اور مواقع سے محروم رہ جاتی ہے۔
ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی عورتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین کو برابر کام کے بدلے کم تنخواہ دی جاتی ہے، یا انہیں اہم عہدوں تک پہنچنے سے روکا جاتا ہے۔ ایک عام مثال یہ ہے کہ کسی دفتر میں اگر ایک مرد اور ایک عورت برابر صلاحیت رکھتے ہوں، تو اکثر ترقی مرد کو دی جاتی ہے کیونکہ اسے زیادہ "قابل" یا "مستحکم" سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کام کی جگہ پر ہراسانی، غیر مناسب رویہ اور خواتین کی قابلیت پر شک بھی میسوجنی کی نمایاں شکلیں ہیں۔
گھریلو سطح پر میسوجنی کا اثر اور بھی گہرا ہوتا ہے۔ بہت سی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں، مگر سماجی دباؤ یا بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہے تو اسے اکثر یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ "گھر کی بات گھر میں ہی رہنی چاہیے"۔ اس طرح ظلم کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور عورت کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ میڈیا اور ثقافت بھی میسوجنی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں اور اشتہارات میں اکثر عورت کو کمزور، جذباتی یا صرف خوبصورتی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مرد کو طاقتور، فیصلہ ساز اور کامیاب دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح کے کردار عوام کے ذہنوں میں ایک خاص تصور پیدا کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر اشتہارات میں عورت کو صرف گھر کے کام کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جبکہ مرد کو باہر کے کاموں میں مصروف دکھایا جاتا ہے۔
میسوجنی کی ایک اور خطرناک شکل آن لائن دنیا میں نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین کو ہراساں کرنا، ان پر تنقید کرنا یا ان کی کردار کشی کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے منفی تبصروں، دھمکیوں یا طنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسی بات پر مرد کو سراہا جاتا ہے۔ یہ رویہ خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے سے روکتا ہے۔
میسوجنی کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ مسلسل امتیازی سلوک اور تحقیر کا سامنا کرنے سے خواتین میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک باصلاحیت لڑکی اگر بار بار یہ سنے کہ وہ کسی کام کے قابل نہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف عورتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب آدھی آبادی کو پیچھے رکھا جائے تو معاشرہ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر اگر خواتین کو تعلیم اور روزگار کے برابر مواقع ملیں تو وہ معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جس سے ملکی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔
میسوجنی کے خاتمے کے لیے سب سے اہم قدم تعلیم ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی یہ سکھانا ضروری ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں اور دونوں کو یکساں عزت اور حقوق حاصل ہیں۔ تعلیمی نصاب میں بھی صنفی برابری کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ قانون سازی بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کو ایسے قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔ مثال کے طور پر ہراسانی، گھریلو تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کو مؤثر بنایا جائے اور متاثرہ خواتین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ انہیں ایسے مواد کو فروغ دینا چاہیے جو خواتین کو مضبوط، باصلاحیت اور خودمختار دکھائے۔ مثبت کردار اور کامیاب خواتین کی کہانیاں معاشرے میں ایک اچھا پیغام دے سکتی ہیں۔
مذہبی اور سماجی رہنما بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے خطبات اور تقاریر میں عورتوں کے حقوق اور احترام پر زور دیں اور غلط روایات کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسلام سمیت تمام مذاہب عورت کو عزت اور حقوق دیتے ہیں، لیکن ان تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ میسوجنی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کا حل صرف ایک فرد یا ادارہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب ہم اپنی سوچ بدلیں گے، دوسروں کا احترام کریں گے اور انصاف کو فروغ دیں گے، تب ہی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں گے جہاں عورت اور مرد دونوں برابر کے حقوق کے ساتھ ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔

عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے، اور یہی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

 

Monday, August 4, 2025

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا بحران


پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کا شعبہ ایک اہم چیلنج سے دوچار ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے گہرے اور دور رس اثرات ملک کے سماجی و اقتصادی مستقبل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کی وجوہات کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستانی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں کمی کے کئی اسباب ہیں، جنہیں مختلف پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ معاشی، سماجی اور تعلیمی عوامل۔ موجودہ اقتصادی صورتحال نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اور تعلیم بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث والدین کے لیے اپنے بچوں کی یونیورسٹی کی تعلیم کا خرچہ اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔ فیسوں میں مسلسل اضافہ، ہاسٹل، کتابوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات نے تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے طلباء تعلیم ادھوری چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں لگ جاتے ہیں تاکہ اپنے خاندان کی مالی مدد کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، تعلیمی معیار میں گراوٹ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کئی نئی یونیورسٹیاں بغیر مناسب منصوبہ بندی کے قائم کی گئی ہیں جہاں مناسب انفراسٹرکچر، تجربہ کار اساتذہ اور جدید سہولیات کا فقدان ہے۔ ایسی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنا طلباء کے لیے وقت اور پیسے کا ضیاع محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ ڈگریاں روزگار کے میدان میں ان کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوتیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں زیادہ تر فیس جمع کرنے پر توجہ دیتی ہیں، جبکہ تعلیم کے معیار کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا ایک بنیادی مقصد اچھی نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اکثر طویل عرصے تک بیروزگار رہتے ہیں، جس سے نوجوانوں میں مایوسی اور بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اگر ڈگری کے بعد بھی روزگار کی کوئی ضمانت نہیں تو اعلیٰ تعلیم کا فائدہ کیا ہے۔ یہ سوچ طلباء کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے روک دیتی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جن میں روزگار کے مواقع کم ہیں۔

اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کا نصاب بھی جدید صنعتی اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ طلباء کو وہ مہارتیں نہیں سکھائی جاتیں جو آج کے دور میں ضروری ہیں، اور تحقیق کا رجحان بھی انتہائی کمزور ہے۔ لیبارٹریز، تحقیقاتی سہولیات اور سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے طلباء کو جدید مسائل پر کام کرنے کا موقع نہیں ملتا، جس سے ان کی علمی اور عملی صلاحیتیں محدود رہ جاتی ہیں۔ ٹیکنیکل اور ہنر پر مبنی تعلیم کے فروغ نے اگرچہ کچھ طلباء کو روزگار دلوانے میں مدد دی ہے، مگر اس کا ایک اثر یہ بھی ہوا ہے کہ روایتی یونیورسٹی ڈگریوں کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں تعلیمی معیار کی گراوٹ بھی ایک تلخ حقیقت ہے جو نہ صرف داخلوں کی شرح میں کمی کا باعث بنی بلکہ پورے تعلیمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ کئی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتی کا معیار پست ہے اور ان کی تربیت پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ تحقیق کے میدان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے؛ فنڈنگ کی کمی، سہولیات کا فقدان اور اشاعت کے محدود ذرائع تحقیق کے فروغ میں رکاوٹ ہیں۔ انفراسٹرکچر کی کمی جیسے کہ جدید لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریریاں اور کمپیوٹر مراکز کی عدم دستیابی طلباء کی عملی تعلیم کو متاثر کرتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ یونیورسٹی فیسوں میں کمی کرے اور کم آمدنی والے طلباء کے لیے اسکالرشپس اور تعلیمی قرضے فراہم کرے تاکہ تعلیم ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ نصاب کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور جدید شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ تحقیق کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں اور یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جائے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی سرپرستی کرنی چاہیے اور یونیورسٹیوں کو کیریئر گائیڈنس سینٹرز کو فعال بنانا چاہیے تاکہ طلباء کو نوکریوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔

یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں کمی اور تعلیمی معیار کی گراوٹ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیم میں سرمایہ کاری، معیار کی بہتری اور روزگار کی فراہمی کے اقدامات ہی وہ پائیدار حل ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔



 


Saturday, August 2, 2025

زندگی کی واپسی (افسانہ)

کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی طاری تھی۔ ایسی خاموشی، جو موت سے ذرا پہلے آ کر دل کے کسی سنسان کونے میں بیٹھ جاتی ہے اور سانسوں کے بجتے ساز کو دھیما کر دیتی ہے۔ احمد کا جسم بستر پر بے جان سا پڑا تھا۔ آکسیجن ماسک سے ہلکی ہلکی سانسوں کی مدھم آواز سنائی دے رہی تھی۔ نرس آئی، اس کی نبض چیک کی، آکسیجن کا بہاؤ بڑھایا، اور آہستگی سے دروازہ بند کر کے چلی گئی۔ لیکن احمد کے بند پلکوں کے پیچھے ایک ہلچل سی تھی، جیسے کوئی سوئی ہوئی روشنی جاگنے لگی ہو۔ دفعتاً اندھیرے میں ایک آہٹ ہوئی، جیسے کسی نے آ کر اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔ ایک سوال ابھرا: "اگر ایک بار پھر موقع ملے زندگی کو جینے کا، وہ زندگی جو تمہاری تھی، تو کیا تم قبول کرو گے؟" احمد نے کوئی جواب نہ دیا، مگر اس کی روح میں ہلکی سی جنبش ہونے لگی، جیسے کوئی بھولی بسری یاد دھیرے دھیرے آنکھیں کھول رہی ہو۔ روشنی اور سائے کے درمیان ایک منظر ابھرا۔ احمد نے آنکھیں بند کیے کسی کو آتے دیکھا — سفید لباس میں، نرم چال سے چلتا ہوا، نگاہوں میں سکون لیے۔

موت نے کہا، "بس کچھ پل باقی ہیں احمد۔ بس ذرا سا فاصلہ ہے تمہارے اور میرے درمیان۔" پھر دوسری طرف ایک چمکدار سایہ نمودار ہوا، جیسے روشنی نے خود کو مجسم کر لیا ہو۔ وہ زندگی تھی۔ اس نے کہا، "نہیں، وہ ابھی جاگ سکتا ہے۔ وہ ابھی جی سکتا ہے۔ اسے موقع دو۔" احمد کی روح نے سوال کیا، "کیا واقعی میرے لیے کچھ باقی ہے؟ میں تو برسوں سے صرف زندہ رہا ہوں، جیا نہیں۔" زندگی نے ہنس کر جواب دیا، "میں نے کئی بار آواز دی، تم نے سنا نہیں۔ تم نے خود کو دفتری حاضری، یوٹیلٹی بل، دوپہر کی چائے، اور قسطوں کی ہتھکڑیوں میں قید کر لیا۔ مگر میں تب بھی تمہارے اندر موجود رہی — تمہارے گٹار میں، تمہارے ادھورے شعروں میں، تمہارے خوابوں میں۔" احمد نے دھیرے سے کہا، "وہ خواب... جو میں نے آخری بار اس دن دیکھے تھے، جب میرا پہلا بچہ پیدا ہوا تھا۔ تب میں نے خود سے کہا تھا: خوابوں کا وقت ختم، اب ذمہ داری شروع۔"

زندگی اس کے قریب آئی اور نرمی سے بولی، "ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ تم خود کو دفن کر دو۔ تم جو بننا چاہتے تھے، وہ اب بھی تم بن سکتے ہو۔ بس ایک ہاں چاہیے۔" تبھی موت نے قدم آگے بڑھایا اور کہا، "یاد رکھو احمد، میں بہت نرم ہوں، بہت سادہ۔ میرے بعد نہ بل آتے ہیں، نہ تھکن، نہ بھاگ دوڑ۔ صرف سکون ہوتا ہے۔" زندگی نے جواب دیا، "لیکن میرے بعد وہ سب ہوتا ہے، جو تم نے صرف محسوس کیا، مگر کبھی چھوا نہیں۔ وہ گیت، وہ پہاڑ، وہ عشق... وہ تم۔" موت نے کہا، "چلو احمد، تھک گئے ہو نا؟" زندگی نے پکارا، "چلو احمد، جاگ لو نا۔"

احمد کی پلکوں کے نیچے نمی کی ایک بوند ٹھہر گئی۔ اس نے جیسے دل کے اندر سے صدیوں پرانی زنجیر توڑی اور بس اتنا کہا، "میں تھکا ضرور ہوں، مگر مرا نہیں۔ میں جینا چاہتا ہوں... اپنی زندگی۔" تب روشنی کا ایک جھماکا ہوا۔ احمد کی آنکھیں کھل گئیں۔ نرس چونک گئی، قریب آئی اور بولی، "آپ جاگ گئے؟" احمد نے ہولے سے مسکرایا۔ اس کی آواز دھیمی، مگر پُرعزم تھی: "نہیں، اب جاگا ہوں۔ اب میں اپنی زندگی جینے والا ہوں۔"

  

Saturday, July 19, 2025

جب تعلیم جرم، اور جہالت انعام بن جائے!



 پاکستان کے آئین کے مطابق تعلیم، صحت اور سیکیورٹی ہر شہری کا بنیادی حق ہیں، اور ان کی فراہمی ریاست کی آئینی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ یہی بنیاد تھی جس پر ریاست عوام سے مختلف نوعیت کے ٹیکسز، محصولات اور ڈیوٹیاں لیتی ہے تاکہ شہریوں کو ایک باوقار، محفوظ اور باعلم زندگی فراہم کی جا سکے۔ مگر بدقسمتی سے یہ آئینی وعدے اب محض کاغذی دعوے بن چکے ہیں۔ ریاست کی ترجیحات میں نہ تعلیم ہے، نہ صحت اور نہ ہی عوامی تحفظ۔ اصل ترجیح اشرافیہ کا تحفظ، مراعات یافتہ طبقے کا تسلسل، اور عوامی شعور کا انسداد بن چکی ہے۔

خاص طور پر تعلیم کا شعبہ، جو کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، آج پاکستان میں بدترین زوال کا شکار ہے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض انتظامی غفلت یا مالی مشکلات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی منصوبہ بندی دکھائی دیتا ہے — ایک سازش جس کا مقصد عوام کو باشعور شہری بننے سے روکنا ہے، تاکہ وہ حکمرانوں سے سوال نہ کر سکیں، احتساب نہ مانگ سکیں، اور غلامی کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیں۔

آج اگر پنجاب کے کالج اساتذہ کی حالت پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس ریاست کی نظر میں استاد کی کیا وقعت رہ گئی ہے۔ ان کی تنخواہیں سالوں سے منجمد ہیں، کنوینس الاؤنس، بجلی کی سبسڈی، صحت سہولیات اور دیگر معمولی مراعات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ تنخواہوں میں کٹوتیاں، بے جا ٹیکسز، اور "ریبیٹس ریورسل" جیسے ذلت آمیز حربے متعارف کروائے گئے ہیں۔ استاد اگر آواز اٹھائے تو اس پر انکوائری، شوکاز نوٹس اور انتقامی کارروائیاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ گویا سوال کرنا جرم ہے، اور تعلیم دینا ایک بغاوت!

یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب حکمران طبقہ دن بہ دن اپنی مراعات میں اضافہ کر رہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں وفاقی وزیروں اور ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں چھ سو گنا اضافہ کر دیا گیا، جب کہ عام سرکاری ملازمین، خصوصاً تعلیم اور صحت سے جڑے افراد کے لیے محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا وہ بھی اس وقت جب مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ پیٹرول، بجلی، گیس، دوا، آٹا سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے، مگر حکمرانوں کی گاڑیاں نئی ہو رہی ہیں، دفاتر کی آرائش پر کروڑوں لگ رہے ہیں، اور پروٹوکول کے قافلے لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید خطرناک پہلو یہ ہے کہ ریاست تعلیمی اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کر کے انہیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر رہی ہے اور وہ پرائیویٹ سیکٹر اب صرف اہل افراد کے نہیں بلکہ ان پڑھ، دولت مند اور بااثر لوگوں کے قبضے میں ہے جن کا مقصد تعلیم دینا نہیں بلکہ تعلیم کو کنٹرول کرنا ہے۔ یہ ادارے نصاب، امتحانات، تقرریاں، داخلے اور ڈگری سب کچھ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں۔ وہاں نہ میرٹ ہے، نہ شفافیت، نہ نظریاتی توازن۔ یوں علم فروشی کو کاروبار میں بدلا گیا ہے، اور طالب علم محض ایک کسٹمر بن کر رہ گیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت زیادہ ہولناک ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ انہی جعلی اور کاروباری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد اب خود پالیسی ساز بن چکے ہیں۔ ریاست نے ادارے ان لوگوں کے حوالے کر دیے ہیں جن کے لیے تعلیم کا مطلب صرف ڈگری ہے اور شعور صرف خطرہ۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ریاست پیچھے ہٹی اور غیر ریاستی عناصر، سرمایہ دار، مذہبی گروہ، سیاسی خاندان اور بین الاقوامی این جی اوز نے تعلیم پر قبضہ کر لیا۔ وہی پڑھا رہے ہیں، وہی نصاب لکھ رہے ہیں، وہی اقدار طے کر رہے ہیں، اور وہی یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ نئی نسل کو کیا سوچنا ہے، کیا نہیں سوچنا۔

یہی وہ روش تھی جو ماضی میں کئی ریاستوں کے زوال کا سبب بنی۔ جب تعلیم کو نظریاتی ہتھیار بنا کر عوام کو تقسیم کیا جاتا ہے، جب اداروں کو بیچا جاتا ہے، جب ملک کی فکری باگ ڈور شعور دشمن قوتوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، تو پھر ریاستیں صرف معاشی نہیں، فکری اور جغرافیائی طور پر بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔

پاکستان کے نوجوان جب یہ کہتے ہیں کہ "اتنی پڑھائی کا کیا فائدہ؟" تو یہ صرف ایک ذاتی مایوسی نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہے۔ یہ اس ریاست کی ناکامی کا اعلان ہے جس نے اپنے شہریوں کو اعتماد، راستہ، مقصد اور امید دینے کی بجائے ان سے سب کچھ چھین لیا۔

ریاست اگر واقعی اپنی بقا اور عوام کی بہتری چاہتی ہے تو اسے اب تقاریر سے آگے بڑھ کر حقیقی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اساتذہ کو معاشی تحفظ دینا ہوگا، اداروں کو خودمختاری دینا ہوگی، تعلیم کو کاروبار سے نکال کر خدمت کے دائرے میں لانا ہوگا۔ نصاب کو آزاد، جامع اور انسان دوست بنانا ہوگا، نہ کہ مخصوص طبقے، فرقے یا نظریے کی خدمت کا آلہ۔ پرائیویٹائزیشن کے نام پر جو تباہی مچائی جا رہی ہے، اسے روکنا ہوگا اور عوامی اداروں کو دوبارہ فعال، باوقار اور مؤثر بنانا ہوگا۔

کیونکہ قومیں اس وقت مٹتی ہیں جب وہ تعلیم کو دفن کر دیتی ہیں، اور جہالت کو جھنڈا تھما دیتی ہیں۔ افسوس کہ آج ہماری ریاست اسی راہ پر گامزن ہے  جہاں شعور ایک خطرہ اور اندھی تقلید ایک خوبی بن چکی ہے۔