Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب پنجم: انقلاب کی آگ

 

باب پنجم: انقلاب کی آگ

القمونیہ کے گلی کوچے خاموش تھے، مگر اس خاموشی کے پیچھے ایک طوفان پل رہا تھا۔ علیان اور اس کے ساتھیوں کی تحریک اب زیرِ زمین سے نکل کر عوام کے دلوں میں سرایت کر چکی تھی۔ بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ کی قیادت میں عورتیں بھی کھل کر میدان میں آ رہی تھیں۔ ہر طرف بغاوت کے بیج بوئے جا چکے تھے — اب بس انتظار تھا اس فصل کے پکنے کا، جو ظالم حکمرانوں کے محلات کو جڑ سے اکھاڑ دے گی۔

حکمرانوں کو جب احساس ہوا کہ علیان کی تحریک بڑھتی جا رہی ہے، تو انہوں نے ایک اور چال چلی۔ مذہبی پیشواؤں نے مساجد میں علیان اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کفر کے فتوے جاری کر دیے:

"جو علیان کا ساتھ دے گا، وہ دوزخی ہے!"
"جو عورت گھر سے باہر نکلے گی، اس کا ایمان خطرے میں ہے!"
"بغاوت کرنے والا خدا کا دشمن ہے!"

مگر اب عوام میں اتنا خوف نہیں رہا تھا جتنا حکمران سمجھ رہے تھے۔ بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ کی محنت رنگ لا رہی تھی۔ ہر گلی میں خواتین چپکے چپکے خفیہ پیغام پہنچا رہی تھیں، بازاروں میں بچے "آزادی کا منشور" بانٹ رہے تھے، اور نوجوانوں میں نئی اُمید جاگ رہی تھی۔

ایک دن علیان کو خبر ملی کہ شہر کے مدرسے میں کچھ لڑکیوں نے کھل کر ملاؤں کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ یہ سن کر علیان، حارث اور رفیق وہاں پہنچے۔

مدرسے کے اندر کا منظر دیکھ کر علیان حیران رہ گیا — سامنے نورین کھڑی تھی، وہی نوجوان لڑکی جو بازار میں بولی تھی۔ اس کے ساتھ اور بھی کئی لڑکیاں کھڑی تھیں، آنکھوں میں بے خوف چمک لیے۔

نورین نے بلند آواز میں کہا:
"ہمیں برسوں سے کہا جا رہا ہے کہ ہم کمزور ہیں، مگر آج ہم نے خود کو پہچان لیا ہے۔ اگر ہمارا جسم کمزور ہے، تو کیا ہوا؟ ہمارا ذہن اور دل مضبوط ہیں۔ اب ہم ظلم نہیں سہیں گی!"

مدرسے کے پیشوا نے غصے میں چیخ کر کہا:
"یہ لڑکیاں بغاوت کر رہی ہیں! انہیں قید میں ڈالو!"

لیکن اس سے پہلے کہ فوج حرکت میں آتی، مدرسے کے باہر جمع ہونے والی عورتوں نے شور مچا دیا:
"ہم اپنی بیٹیوں کو غلام نہیں بننے دیں گی!"

یہ خبر پورے القمونیہ میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ بازاروں میں لوگ علیان کا نام لے کر نعرے لگانے لگے:

"علیان ہمارا رہنما!"
"ظلم کا خاتمہ، آزادی کا آغاز!"

بی بی زہرہ نے عورتوں کا جلوس نکالا، جس میں ہر عورت کے ہاتھ میں ایک سفید کپڑا تھا — آزادی کی علامت کے طور پر۔ بی بی سلیمہ کے الفاظ گلیوں میں گونجنے لگے:

"اگر مردوں میں اتنی ہمت نہیں کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں، تو ہم عورتیں یہ جنگ لڑیں گی!"

حکمرانوں نے آخرکار کھل کر جنگ کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے فوج کو حکم دیا کہ علیان کو زندہ یا مردہ پکڑ کر لایا جائے۔ شہر کے ہر کونے میں چھاپے پڑنے لگے۔ حارث اور رفیق کو گرفتار کر لیا گیا، بی بی زہرہ کے گھر کو دوبارہ آگ لگا دی گئی، مگر وہ عورتیں جنہوں نے یہ تحریک شروع کی تھی، وہ اب پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکی تھیں۔

بی بی زہرہ نے علیان سے کہا:
"بیٹا، یہ ظلم جتنا بڑھے گا، انقلاب اتنا قریب ہو گا۔ تمہیں اب چھپنے کے بجائے سامنے آنا ہو گا۔ عوام تمہاری قیادت کے لیے تیار ہیں۔"

رات کے اندھیرے میں علیان نے شہر کی جلتی روشنیوں کو دیکھا اور دل میں ایک عہد کیا:
"ظلم کا سورج ڈوبنے والا ہے، اور آزادی کا سورج طلوع ہو گا۔"

 

 


No comments:

Post a Comment