باب سوم: زنجیروں کے بیچ امید کی چنگاری
علیان کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے، پیروں میں زنجیریں تھیں، اور آنکھوں کے سامنے گھپ اندھیرا۔ جیل کی سلاخوں کے پار سے آتی ٹھنڈی ہوا اس کے جسم کو کاٹ رہی تھی۔ مگر علیان کے دل میں جلتی بغاوت کی آگ کسی طوفان سے کم نہ تھی۔ اس کے ذہن میں بار بار وہ منظر ابھرتا جب اس نے مسجد میں کھڑے ہو کر سچائی کا نعرہ لگایا تھا — اور پھر لوگوں کے پتھراؤ اور گالیوں کے درمیان اس کے الفاظ دب گئے تھے۔
جیل کی دیواریں سرد تھیں،
مگر اس کے ارادے گرم تھے۔ علیان نے سوچا:
"اگر
میں مر بھی گیا، تو میری آواز زندہ رہے گی۔ یہ دیواریں میری روح کو قید نہیں کر سکتیں۔"
جیل میں علیان اکیلا نہ تھا۔ وہاں اور بھی لوگ تھے — ایسے لوگ جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہوئے اور ظلم کے پنجوں میں آ گئے تھے۔ علیان کی کوٹھری کے برابر میں ایک بوڑھا شخص تھا، جس کا نام حارث تھا۔ حارث کی آنکھوں میں صدیوں کا درد جھلک رہا تھا۔ علیان نے آہستہ سے پوچھا:
"بابا، آپ کو کیوں قید کیا گیا ہے؟"
حارث نے ایک تلخ مسکراہٹ
کے ساتھ کہا:
"میں
نے اپنے بچوں کو آزاد سوچنا سکھایا تھا۔ مذہبی پیشواؤں کو یہ گوارا نہ ہوا۔ انہوں نے کہا میں کافر ہوں، کیونکہ میں
نے کہا تھا کہ خدا محبت ہے، خوف نہیں۔"
علیان کو یہ سن کر جھٹکا لگا۔ یہ وہی الفاظ تھے جو اس کے دل میں بھی بار بار گونجتے تھے۔
علیان کی کوٹھری کے دوسری طرف ایک نوجوان قیدی تھا، رفیق۔ رفیق کسی زمانے میں فوج میں تھا، مگر اس نے مذہبی حکمرانوں کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا، کیونکہ اسے حکم دیا گیا تھا کہ "جو سوال کرے، اسے گولی مار دو"۔
ایک رات جب جیل کے محافظ
نیند میں تھے، رفیق نے علیان سے سرگوشی میں کہا:
"میں
نے یہاں کے راستے دیکھے ہیں۔ یہ دیواریں ناقابلِ شکست ہیں، مگر ہر دیوار میں ایک
دراڑ ہوتی ہے۔ اگر ہم مل کر کوشش کریں تو شاید نکل سکتے ہیں۔"
علیان کے دل میں امید کا دیا
جل اٹھا۔ مگر وہ جانتا تھا کہ صرف فرار کافی نہیں — اگر وہ باہر نکل گیا اور باقی
عوام اسی غلامی میں رہے، تو اس کا فرار بے معنی ہو گا۔ اسے لوگوں کو جگانا ہو گا۔ ایک
رات جب سب سو رہے تھے، علیان نے حارث اور رفیق کو دیکھا اور کہا:
"ہم
صرف بھاگیں گے نہیں۔ ہم باہر جا کر سچائی کو آواز دیں گے۔ ہم لوگوں کو بتائیں گے
کہ مذہب محبت ہے، قید نہیں۔ ہم ثابت کریں گے کہ حکومت اور مذہب کا گٹھ جوڑ عوام کے
لیے زہر ہے۔"
حارث نے آنکھوں میں امید
لیے کہا:
"بیٹا،
یہ کام بہت مشکل ہے۔ وہ تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔"
علیان مسکرا کر بولا:
"اگر
سچ کے لیے مرنا پڑے، تو یہ زندگی سے بڑی جیت ہو گی۔"
رفیق نے جیل کے پچھلے حصے میں ایک پرانی سرنگ کا بتایا، جسے قیدیوں نے برسوں پہلے کھودا تھا، مگر وہ مکمل نہ ہو سکی تھی۔ علیان، حارث اور رفیق نے محافظوں کو دھوکہ دے کر رات کے اندھیرے میں سرنگ تک پہنچنے کا منصوبہ بنایا۔
رات کے سناٹے میں جب
چاندنی مدھم ہو رہی تھی، علیان نے آخری بار اپنی کوٹھری کو دیکھا اور سرگوشی کی:
"یہ
ظلم کا قیدخانہ، میں اسے گرا کر رہوں گا۔"
تینوں نے سرنگ کے راستے رینگتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کی۔ زمین ٹھنڈی اور گیلی تھی، سانس لینا دشوار تھا، مگر آزادی کی خوشبو علیان کے دل کو گرما رہی تھی۔
بالآخر، کئی گھنٹوں کی
مشقت کے بعد، وہ سرنگ کے دوسرے کنارے پہنچے۔ رات کے اندھیرے میں ستارے چمک رہے
تھے، جیسے قدرت بھی ان کے سفر پر گواہ بننا چاہتی ہو۔ علیان نے مٹی جھاڑ کر آسمان
کی طرف دیکھا اور دل میں کہا:
"القمونیہ،
میں واپس آؤں گا — اور تمہیں آزاد کروں گا!"
باب چہارم: آزادی کے بعد بغاوت کی بنیاد
رات کا اندھیرا، آزادی کی خوشبو اور ستاروں کی روشنی — علیان، حارث اور رفیق مٹی میں لت پت، مگر دل میں امید کا چراغ جلائے، سرنگ سے باہر نکل آئے تھے۔ مگر یہ آزادی عارضی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ اب پورا القمونیہ ان کی تلاش میں ہو گا، اور واپسی کا راستہ خطرے سے بھرا ہو گا۔
علیان کے دل میں ایک ہی بات تھی: "یہ جنگ میں اکیلا نہیں لڑ سکتا۔ عوام کو بیدار کرنا ہو گا، اور اس بار عورتوں کو بھی اس تحریک کا حصہ بنانا ہو گا۔"
علیان، حارث اور رفیق چھپتے چھپاتے شہر کے کنارے ایک پرانے مٹی کے گھر میں پہنچے۔ یہ گھر بی بی زہرہ کا تھا — ایک بیوہ عورت جو برسوں سے خاموشی سے حکومت کے خلاف کام کر رہی تھی۔ اس کا بیٹا بھی فوج میں تھا، مگر وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر شہید کر دیا گیا تھا۔
بی بی زہرہ نے علیان کو
دیکھتے ہی کہا:
"مجھے
پتا تھا، ایک نہ ایک دن کوئی جوان کھڑا ہو
گا جو اس سڑے ہوئے نظام کو جڑ سے اکھاڑ
پھینکے گا۔ میری چھت تمہاری ہے بیٹا، مگر یہ جنگ آسان نہیں ہو گی۔"
علیان نے زہرہ کے جھریوں
بھرے چہرے میں ماں کا عکس دیکھا۔ اس نے سر جھکا کر کہا:
"ماں،
اگر ہم نہ لڑے، تو ہماری آنے والی نسلیں غلام رہیں گی۔ مجھے آپ کا ساتھ چاہیے۔"
بی بی زہرہ نے علیان کو بتایا کہ شہر میں بہت سی عورتیں ہیں جو اندر ہی اندر اس ظلم سے تنگ آ چکی ہیں۔ ان کے شوہر، بھائی اور بیٹے اس نظام کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے، مگر وہ خاموش تھیں — کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ "عورت کا کام برداشت کرنا ہے، سوال کرنا نہیں"۔
زہرہ نے علیان کو "بی
بی سلیمہ" سے
ملوایا — ایک مڈل کلاس گھرانے کی پڑھی لکھی عورت، جس کا شوہر "ملاؤں کے خلاف
بغاوت" کے الزام میں سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ بی بی سلیمہ نے آنکھوں میں
آنسو لیے کہا:
"علیان
بھائی، اگر ہم عورتیں اب بھی نہ اٹھیں
تو یہ ظلم کبھی ختم نہیں ہو گا۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے جنگ لڑنی ہو گی۔"
علیان، حارث، رفیق، بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں کو آہستہ آہستہ بیدار کریں گے۔ ان کا پہلا قدم تھا "سچ کا منشور" — ایک خفیہ کتابچہ، جس میں لکھا گیا:
"خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا، اسے غلام بنانے کا حق کسی کو نہیں۔"
"مذہب محبت، اخلاق اور کردارسکھانے کے لیے ہے، حکومت بنانے کے لیے نہیں۔"
"جو حکمران عوام سے سوال چھین لیتے ہیں، وہ دراصل خدا کے دشمن ہوتے ہیں۔"
بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ نے اس منشور کو خواتین میں پھیلانا شروع کیا۔ بازار میں جاتی عورتیں، گھر گھر کام کرنے والی خادمائیں، اور مدرسے میں پڑھنے والی بچیاں — سب تک یہ پیغام پہنچایا گیا۔
ایک دن علیان نے بازار
میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھا۔ ایک نوجوان لڑکی "نورین"
— جو ایک مذہبی پیشوا کی بیٹی تھی — سرِعام بازار میں
کھڑی ہو گئی اور اونچی آواز میں بولی:
"میرے
باپ نے مجھ سے پڑھنے کا حق چھین لیا، مگر میں غلام نہیں بنوں گی! خدا نے مجھے عقل
دی ہے، میں اس کا استعمال کروں گی!"
یہ منظر دیکھ کر لوگ ہکے
بکے رہ گئے۔ ملاؤں نے نورین کو پکڑنے کا حکم دیا، مگر بازار کی عورتیں اس کے آگے
ڈھال بن گئیں۔ بی بی زہرہ نے آگے بڑھ کر کہا:
"آج
اگر نورین کو پکڑا گیا، تو ہمیں بھی پکڑنا ہو گا!"
یہ پہلا موقع تھا جب عورتوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، اور علیان نے محسوس کیا کہ انقلاب کی پہلی چنگاری روشن ہو چکی ہے۔
حکمرانوں کو جب پتا چلا کہ عورتیں بھی بغاوت میں شامل ہو رہی ہیں، تو ان میں بوکھلاہٹ پھیل گئی۔ فوج نے جگہ جگہ چھاپے مارنے شروع کیے۔ بی بی زہرہ کے گھر کو آگ لگا دی گئی، مگر وہ پہلے ہی علیان اور دوسروں کو محفوظ مقام پر پہنچا چکی تھیں۔
مذہبی پیشواؤں نے فتوے
دینا شروع کیے:
"جو
اس تحریک کا ساتھ دے گا، وہ کافر ہے!"
"عورت
کا کام گھر میں رہنا ہے، سیاست میں آنا اس کے ایمان کو برباد کر دے گا!"
مگر عوام میں اب خوف کم
اور غصہ زیادہ تھا۔ عورتیں، بچے، مرد — سب نے ان فتووں کو رد کرنا شروع کر دیا۔
علیان کو احساس ہوا کہ ظلم کی دیواریں لرزنے لگی ہیں۔ رات کے اندھیرے میں علیان نے آسمان کی
طرف دیکھا اور سوچا:
"اگر
عورتیں اٹھ کھڑی ہوئیں، تو یہ انقلاب کوئی نہیں روک سکتا۔"
بی بی زہرہ نے علیان کے
کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹا،
روشنی جب پھیلتی ہے تو اندھیرا خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ بس یہ چراغ بجھنے نہ دینا۔"
No comments:
Post a Comment