باب گیارہواں : محبت کے چراغ اور ظلم کی آندھیاں
رات کا اندھیرا قمونیہ پر اپنے پر پھیلائے ہوئے تھا۔ شہر کی گلیاں سنسان تھیں، اور دور کہیں جلتے ہوئے چراغوں کی روشنی کمزور سی امید کا سا منظر پیش کر رہی تھی۔ لیکن ایک کمرے میں روشنی کی کرن کچھ زیادہ ہی روشن تھی — یہ روشنی علیان اور نایاب کی محبت کی تھی، جو ہر ظلم کے اندھیرے کو چیرنے کا خواب دیکھ رہے تھے۔
علیان تھکا ہوا تھا، زخموں سے چور، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا سکون تھا۔ نایاب نے اس کے زخموں پر مرہم رکھا، مگر اس کے لمس میں صرف دوا نہیں تھی — محبت تھی، حوصلہ تھا، اور ایک خاموش التجا تھی کہ علیان ہار نہ مانے۔
نایاب نے علیان کی پیشانی کو چھوا اور مدھم سی آواز میں کہا:
"علیان،
کیا کبھی یہ جنگ ختم ہو گی؟ کیا ہم دونوں کبھی سکون سے زندگی گزار سکیں گے؟"
علیان نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے تھاما، جیسے وہ اس لمحے کو
ہمیشہ کے لیے روک لینا چاہتا ہو:
"یہ
جنگ ختم ہو گی، نایاب۔ مگر اس کے لیے ہمیں سب کچھ قربان کرنا ہو گا — شاید اپنی
محبت بھی۔"
نایاب کے آنسو اس کی پلکوں پر لرزنے لگے، مگر اس نے انہیں گرنے نہ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ علیان کا راستہ مشکل ہے، مگر وہ بھی اسی راستے پر چلنے کے لیے تیار تھی۔
دوسری طرف جنرل عتیق اور مذہبی رہنما مولوی سراج کی سازشیں تیز ہو رہی تھیں۔ انہوں نے عوام پر مزید ٹیکس نافذ کر دیے تھے۔ کھانے پینے کی اشیاء نایاب ہو چکی تھیں، اور جو لوگ بغاوت کرتے، انہیں یا تو سرِعام کوڑے مارے جاتے یا غائب کر دیا جاتا۔
ایک دن بازار میں ایک غریب عورت نے اپنے بچے کے لیے روٹی چرانے کی کوشش کی۔ سپاہیوں نے اسے بیچ بازار میں گھسیٹ کر مارنا شروع کر دیا۔ لوگ تماشائی بنے کھڑے رہے، کسی کی ہمت نہیں ہوئی کہ آگے بڑھ کر اسے بچائے۔ علیان اور نایاب یہ منظر دور سے دیکھ رہے تھے۔ علیان کے چہرے پر غصے اور درد کا طوفان تھا۔
نایاب نے آہستہ سے علیان کا ہاتھ تھام لیا:
"یہی
وقت ہے، علیان! اب ہمیں آواز بلند کرنی ہو گی، ورنہ یہ ظلم کبھی ختم نہیں ہو گا۔"
نایاب نے چھپ کر عورتوں کا ایک گروہ تیار کر لیا تھا — بیوائیں، مائیں، بہنیں، اور وہ لڑکیاں جنہیں ریاست نے غلامی کے طوق پہنائے ہوئے تھے۔ یہ عورتیں چپ چاپ علیان کے ساتھ مل کر تحریک میں شامل ہو چکی تھیں۔ انہوں نے خفیہ طور پر کھانے کا بندوبست کرنا شروع کیا، زخمی باغیوں کی دیکھ بھال کرنے لگیں، اور یہاں تک کہ راتوں کو شہر کی دیواروں پر آزادی کے نعرے لکھنے لگیں:
"القمونیہ آزاد ہو گا!"
"ظلم
کا تخت گرایا جائے گا!"
"عوام
کو زندہ رہنے کا حق ہے!"
نایاب نے خود اپنے ہاتھوں سے لکھا:
"علیان
زندہ باد!"
رات کے وقت، جب علیان اور نایاب تنہا بیٹھے تھے، علیان نے نایاب کے چہرے کو دیکھا، جیسے وہ اسے ہمیشہ کے لیے اپنے دل میں محفوظ کر لینا چاہتا ہو۔
"نایاب، اگر میں نہ رہا تو؟ اگر میں مر گیا تو تم کیا کرو گی؟"
نایاب کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے، مگر اس نے مسکراتے ہوئے
جواب دیا:
"علیان،
محبتیں مر کر زندہ ہوتی ہیں۔ اگر تم نہ رہے تو میں تمہارے خواب کو اپنی جان سے
زیادہ سنبھالوں گی۔ میں تمہاری جنگ کو اپنی جنگ بناؤں گی — اور جب تک القمونیہ
آزاد نہ ہو جائے، میں رکوں گی نہیں۔"
علیان نے اسے قریب کرتے ہوئے آہستہ سے کہا:
"نایاب،
تم میری روشنی ہو۔ اگر تم ساتھ ہو، تو میں کبھی ہار نہیں سکتا۔"
جیسے ہی علیان اور نایاب نے اپنی جنگ کو ایک نئی امید کے ساتھ آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا، ویسے ہی جنرل عتیق کو خبر ملی کہ علیان کے ساتھ عورتیں بھی اس بغاوت میں شامل ہو گئی ہیں۔ اس نے اعلان کیا کہ ہر اس عورت کو سنگسار کیا جائے گا جو علیان کا ساتھ دے گی۔
نایاب نے علیان کی آنکھوں میں دیکھا، اور پہلی بار علیان نے خوف محسوس کیا — خوف نایاب کو کھونے کا۔
"نایاب، میں تمہیں کھونا نہیں چاہتا۔"
نایاب نے علیان کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور مسکرا کر کہا:
"محبتیں
کھوئی نہیں جاتیں، وہ ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتی ہیں — بس تم مجھ سے وعدہ کرو علیان، اگر میں نہ رہی تو میری روشنی کو کبھی بجھنے نہ دینا۔"
No comments:
Post a Comment