Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب دہم: محبت، جنگ اور خوابوں کی سرزمین

 

باب دہم: محبت، جنگ اور خوابوں کی سرزمین

القمونیہ میں آزادی کی نئی ہوا چل رہی تھی، مگر علیان کی زندگی میں ایک ہوا اور بھی چل رہی تھی — محبت کی ہوا۔ اس جنگ کے بیچوں بیچ، جہاں خون اور آنسو تھے، وہاں علیان کے دل میں ایک نرم گوشہ بھی تھا، جس کا نام تھا نایاب۔

نایاب القمونیہ کے ایک دور افتادہ گاؤں کی لڑکی تھی، جو علیان کے ساتھ اس کی تحریک میں شامل ہوئی تھی۔ وہ پڑھنے لکھنے کی شوقین تھی، مگر حالات نے اس کی راہ میں ہر قدم پر دیواریں کھڑی کر دی تھیں۔ اس کے والد کو مولویوں نے کافر قرار دے کر قتل کر دیا تھا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ نایاب مدرسے میں پڑھے اور غلامی کے سبق یاد کرے، مگر اس کے والد نے اسے جدید تعلیم دینے کا خواب دیکھا تھا۔ نایاب کا دل علیان کی جدوجہد دیکھ کر دھڑکتا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ علیان صرف ایک بغاوت کرنے والا نوجوان نہیں، بلکہ وہ ایک نئی صبح کی امید ہے۔

علیان اور نایاب کی پہلی ملاقات اس دن ہوئی جب علیان کو زخمی حالت میں چھپایا جا رہا تھا۔ نایاب نے اسے اپنے گھر میں پناہ دی تھی۔ جب علیان کو ہوش آیا تو اس نے نایاب کو دیکھا — بڑی، سنجیدہ آنکھیں، چہرے پر تھکی ہوئی مگر باوقار مسکراہٹ، اور آنکھوں میں ایسا عزم جیسے وہ بھی علیان کے ساتھ اس جنگ کا حصہ ہو۔

نایاب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
"
آپ کو مرنے نہیں دوں گی، علیان۔ آپ مر گئے تو قمونیہ پھر اندھیرے میں ڈوب جائے گا۔"

علیان اس لمحے خاموش ہو گیا، مگر دل میں کہیں ایک نرم گوشہ بن چکا تھا۔

جنگ کے درمیان دونوں ایک دوسرے کے قریب آتے گئے، مگر علیان جانتا تھا کہ اس کی زندگی صرف محبت کے لیے نہیں بنی۔ اس نے نایاب سے کہا:
"
نایاب، میں تم سے محبت کرتا ہوں، مگر میں اس محبت کو اپنے خوابوں کے پیچھے نہیں چھوڑ سکتا۔ میری جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اگر میں بچ گیا تو تم سے ایک نئی زندگی کا وعدہ کرتا ہوں، مگر اگر نہ بچا تو تم نے اس تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔"

نایاب کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر اس نے سر ہلایا:
"
میں تمہارے خوابوں کے ساتھ ہوں، علیان۔ اگر ہم دونوں بچ گئے، تو پھر ہم ایک نئی دنیا کا خواب ساتھ دیکھیں گے۔"

نایاب علیان کی ساتھی نہیں، بلکہ اس کی تحریک کا بھی ستون بن گئی تھی۔ اس نے عورتوں کو منظم کیا، انہیں بتایا کہ وہ صرف گھر سنبھالنے کے لیے پیدا نہیں ہوئیں۔ انہوں نے آہستہ آہستہ اپنی آواز بلند کرنا شروع کی۔

ایک دن، جب علیان نے دیکھا کہ نایاب عورتوں کے ایک گروہ کو لڑائی کے گر سکھا رہی ہے، تو وہ حیرت زدہ رہ گیا۔

"نایاب، تم تو تحریک کی روح  بن  چکی ہو!"

نایاب مسکرا کر بولی:
"
روحیں جنگ میں نہیں مرتیں، علیان — وہ نسلوں تک زندہ رہتی ہیں۔"

جب جنرل عتیق نے القمونیہ پر دوبارہ حملہ کیا، تو نایاب زخمی عورتوں کی مدد کر رہی تھی۔ دشمن کی فوج نے اسے قیدی بنانے کی کوشش کی، مگر اس نے خود کو بچانے کے بجائے علیان کے پیغام کو بچانے کو ترجیح دی۔

نایاب نے عورتوں کے ساتھ مل کر قلعے کے داخلی دروازے پر دفاعی دیوار بنا دی۔ اس نے علیان سے کہا:
"
اگر میں نہ بچی تو یاد رکھنا، علیان — محبت کو قربانی سے بڑا کوئی جذبہ مکمل نہیں کرتا۔"

علیان نے اس کے ہاتھ تھامے اور آنکھوں میں آنسو لیے بولا:
"
تم میری جنگ کی طاقت ہو،  نایاب ۔ تم  نہ ہوتی تو شاید میں کب کا  ہار چکا  ہوتا۔"

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment