Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب پندرہواں: آخری رات اور بغاوت کے بیج

 

باب پندرہواں: آخری رات اور بغاوت کے بیج

رات کے سائے القمونیہ  پر گہرے ہو چکے تھے۔ قلعے کی کوٹھری میں علیان زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا، مگر اس کی آنکھوں میں عجب سکون تھا — جیسے اسے اپنی موت کا کوئی خوف نہ ہو۔ اس کے زخموں سے خون رس رہا تھا، مگر اس کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

"یہ ظلم زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا،" علیان نے دل ہی دل میں خود سے کہا۔

اچانک دروازے پر آہستہ سے دستک ہوئی۔ علیان چونکا، اور دروازے کی درز سے ایک دھیمی سی آواز آئی:

"علیان!"

یہ نایاب کی آواز تھی۔ مگر یہ کیسے ممکن تھا؟ نایاب تو مر چکی تھی... یا شاید یہ اس کی کوئی ساتھی تھی؟

دروازہ آہستہ سے کھلا اور ایک نقاب پوش عورت اندر داخل ہوئی۔ اس نے نقاب اتارا، اور علیان نے حیرت سے دیکھا — یہ نایاب نہیں تھی، مگر اس کی آنکھوں میں وہی چمک تھی۔

"میں زرمینہ ہوں، نایاب کی بہن۔" عورت نے آہستہ سے کہا۔ "نایاب نے آخری سانس میں کہا تھا کہ اس کا خواب مکمل ہونا چاہیے۔ میں اس خواب کو پورا کروں گی۔"

زرمینہ نے علیان کو بتایا کہ نایاب کے مرنے کے بعد بہت سی عورتوں نے اس کی تحریک کو اپنا لیا تھا۔ وہ خفیہ طور پر گلی کوچوں میں شعور پھیلانے لگی تھیں، اور اب ان کے پاس ایک مکمل جال تھا — گھریلو عورتیں، بازار کی کام کرنے والیاں، اسکول کی استادیں، اور حتیٰ کہ کچھ فوجی افسران کی بیویاں بھی اس تحریک کا حصہ بن چکی تھیں۔

"ہمیں تمہاری رہنمائی چاہیے، علیان!" زرمینہ نے التجا کی۔

علیان نے مسکرا کر کہا:
"
اگر میں نہ بھی رہا، تو تمہیں اس خواب کو زندہ رکھنا ہوگا۔ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے کسی علیان کی ضرورت نہیں — ہر عورت، ہر مرد، ہر بچہ علیان بن سکتا ہے!"

زرمینہ نے آگے بڑھ کر علیان کے زخموں پر مرہم لگایا اور کہا:
"
ہم تمہیں یہاں سے نکالنے کی کوشش کریں گے۔ ہماری عورتیں جیل کے محافظوں کو خرید چکی ہیں۔ مگر اگر ہم ناکام ہو گئے، تو میں وعدہ کرتی ہوں کہ تمہاری قربانی رائیگاں نہیں جائے گی۔ ہم اس گلی سڑی ریاست کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے!"

علیان نے سر ہلایا اور آہستہ سے کہا:
"
میری فکر نہ کرو، زرمینہ۔ اگر میں زندہ رہا تو یہ جنگ میں خود لڑوں گا، اور اگر میں مر گیا... تو میری موت ہی اس تحریک کو زندہ رکھے گی!"

دوسری طرف، جنرل عتیق، مولوی سراج، مراد حیات، اور شاہنواز رشید ایک خفیہ میٹنگ میں مصروف تھے۔

"علیان کا کل انجام ہو جائے گا، مگر ہمیں ایک اور کھیل کھیلنا ہوگا،" جنرل عتیق نے سگار سلگاتے ہوئے کہا۔ "عوام کو قابو میں رکھنے کے لیے ہمیں نیا دشمن دکھانا ہوگا!"

"کیسا دشمن؟" شاہنواز رشید نے سوال کیا۔

مولوی سراج نے مسکرا کر کہا:
"
ہم عورتوں کی تحریک کو نیا دشمن بنا  دیں گے۔ ہم لوگوں کو بتائیں گے کہ یہ سب فحاشی اور بے راہ روی پھیلانے والی باغی عورتیں ہیں۔ عوام کو ان کے خلاف کھڑا کر دیں گے!"

مراد حیات نے قہقہہ لگایا:
"
واہ! عورتوں کو اگر دشمن بنا  دیا،  تو مرد خود ہی ہمارا ساتھ دیں گے!"

رات گہری ہو چکی تھی۔ علیان کو زنجیروں میں جکڑ کر پھانسی گھاٹ کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔ اس کے راستے میں عوام جمع تھے — کچھ خوش، کچھ خاموش، اور کچھ آنسوؤں میں ڈوبے ہوئے۔

ایک بوڑھی عورت نے آہستہ سے کہا:
"
وہ سچ بولتا تھا... مگر ہم نے اسے نہیں سمجھا۔"

علیان نے مڑ کر اس عورت کو دیکھا اور مسکرا کر کہا:
"
سچ ہمیشہ دیر سے سمجھا جاتا ہے، اماں۔ مگر ایک نہ ایک دن سب کو سمجھ آ ہی جائے گا!"

جب علیان کو پھانسی گھاٹ پر لے جایا گیا، اچانک بھیڑ میں دھماکہ ہوا۔ دھواں بھر گیا، اور چیخ و پکار مچ گئی۔ فوجی بھاگنے لگے، اور اسی لمحے زرمینہ اور اس کی عورتوں نے حملہ کر دیا۔

"علیان کو بچاؤ!" زرمینہ نے نعرہ لگایا۔

خواتین نے پتھر، لاٹھیاں، اور جو ہاتھ میں آیا اٹھا کر فوجیوں پر حملہ کر دیا۔ عوام نے حیرانی سے یہ منظر دیکھا — عورتیں لڑ رہی تھیں، وہی عورتیں جنہیں ہمیشہ کمزور سمجھا جاتا تھا!

علیان کو زنجیروں سے آزاد کرنے کی کوشش کی گئی، مگر فوجی بہت زیادہ تھے۔ زرمینہ کے قریب پہنچنے سے پہلے ہی ایک گولی چلی، اور علیان کے سینے کو چیر گئی۔

علیان نیچے گرا، مگر اس کی آنکھوں میں وہی روشنی باقی تھی۔

"زرمینہ..." علیان نے کمزور آواز میں کہا، "یہ جنگ تمہیں لڑنی ہے... میری موت ایک آغاز ہے، اختتام نہیں!"

زرمینہ کے آنسو بہنے لگے، مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے اپنے آنسو پونچھے اور کہا:
"
میں وعدہ کرتی ہوں علیان، میں یہ جنگ جیتوں گی!"

 

 

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment