Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب سولہواں: زرمینہ — بغاوت کی نئی امید

 

باب سولہواں: زرمینہ — بغاوت کی نئی امید

علیان کی شہادت کے بعد القمونیہ کا آسمان جیسے سوگوار ہو گیا تھا۔ شہر کی گلیوں میں خاموشی کا راج تھا، مگر اس خاموشی کے پیچھے ایک نئی چنگاری جنم لے چکی تھی — زرمینہ کی صورت میں!

رات کے اندھیرے میں، علیان کے خون سے بھیگی زمین پر کھڑی زرمینہ نے اپنے آنسو پونچھے اور اپنے اندر اٹھتے ہوئے طوفان کو قابو میں کیا۔ اس کے دل میں ایک ہی بات گونج رہی تھی:

"علیان مر سکتا ہے، مگر اس کا خواب زندہ رہے گا!"

زرمینہ جانتی تھی کہ عوام ڈرے ہوئے ہیں۔ انہیں یقین دِلانے کے لیے صرف نعرے کافی نہیں تھے — انہیں عمل چاہیے تھا، قربانی چاہیے تھی۔

اگلی ہی رات زرمینہ نے علیان کے ساتھیوں کو خفیہ مقام پر اکٹھا کیا۔ وہ سب اداس اور شکستہ دل تھے، مگر زرمینہ کے چہرے پر عزم کی چمک تھی۔

"علیان کے بعد یہ جنگ ختم نہیں ہوئی،" زرمینہ نے بلند آواز میں کہا۔ "ہم میں سے ہر کوئی اب علیان ہے! ہم اپنے بچوں کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم عورتیں، مرد، سب مل کر اس ظالمانہ نظام کو گرا دیں گے!"

کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ پھر ایک جوان عورت، فاطمہ، اٹھ کھڑی ہوئی:
"
میں زرمینہ کے ساتھ ہوں! میں نے اپنے بھائی کو فوج کے ہاتھوں کھو دیا، اب میں خاموش نہیں رہوں گی!"

پھر ایک ایک کر کے سب نے زرمینہ کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔

زرمینہ نے جلد ہی عورتوں کا ایک خفیہ نیٹ ورک تیار کیا۔ وہ جانتی تھی کہ فوج اور مذہبی پیشوا عورتوں کو کمزور اور بے ضرر سمجھتے ہیں — یہی ان کی سب سے بڑی غلطی تھی!

بازار کی حلیمہ بی بی، جو روز صبح سبزی بیچتی تھی، درحقیقت باغیوں کو خفیہ پیغام پہنچانے کا کام کرنے لگی۔

مدرسے کی استاد خدیجہ بیگم، جو بچوں کو قرآن پڑھاتی تھی، اب عورتوں میں شعور بانٹنے لگی کہ "حقیقی دین ظالم کا ساتھ دینے سے روکتا ہے"  نہ کہ اسے جائز ٹھہراتا ہے۔

سارہ، جو فوج کے ایک افسر کی بیوی تھی، خفیہ طور پر فوجی تحرکات کی خبریں زرمینہ کو پہنچانے لگی۔

دوسری طرف، جنرل عتیق اور مولوی سراج کو زرمینہ کی سرگرمیوں کا علم ہو چکا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ علیان تو مر چکا، مگر زرمینہ کے ہوتے ہوئے یہ بغاوت ختم نہ ہوگی۔

"ہمیں عوام کے دلوں میں زرمینہ کے خلاف نفرت پیدا کرنی ہوگی،" مولوی سراج نے کہا۔

"ہم اسے فاحشہ، بے دین، اور مغربی ایجنٹ قرار دیں گے،" جنرل عتیق نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا۔

مولوی سراج نے سر جھکایا اور مکاری سے کہا:
"
میں منبر سے اعلان کروں گا کہ یہ عورتیں دین کے خلاف بغاوت کر رہی ہیں۔ ہم مردوں کو ان کے خلاف کھڑا کریں گے۔"

زرمینہ نے فیصلہ کیا کہ وہ چھپ کر لڑنے کے بجائے کھل کر عوام کے سامنے آئے گی۔

شہر کے مرکزی چوراہے پر وہ برقع میں لپٹی، مگر آنکھوں میں آگ لیے کھڑی ہو گئی۔ اس نے نقاب ہٹایا اور بلند آواز میں کہا:

"میں زرمینہ ہوں، علیان کی ساتھی۔ علیان نے ہمیں آزاد کرنے کے لیے اپنی جان دی۔ کیا تم سب اپنی جانیں یوں ہی دیتے رہو گے؟ کیا تم اپنے بچوں کو غلام پیدا کرو گے؟ کب تک تمہیں مذہب کے نام پر بیوقوف بنایا جاتا رہے گا؟"

عوام میں ہلچل مچ گئی۔ کچھ لوگ حیرانی سے اسے دیکھ رہے تھے، کچھ خاموش کھڑے تھے، اور کچھ نے آنکھیں نیچی کر لیں — جیسے ان کے اندر کہیں سچائی نے جنم لینا شروع کر دیا ہو۔

زرمینہ کے خطاب کے بعد فوج حرکت میں آ گئی۔ اگلے ہی دن شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے گئے، کئی عورتوں کو گرفتار کیا گیا، اور کچھ کو سرعام کوڑے مارے گئے۔

زرمینہ یہ سب دیکھ رہی تھی، مگر اس کے دل میں خوف نہیں تھا — صرف غصہ اور عزم تھا!

"اب وقت آ گیا ہے،" زرمینہ نے کہا، "ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ اب جنگ ہوگی — ظالموں کے خلاف، مذہب کے لبادے میں چھپے ان درندوں کے خلاف!"

 

No comments:

Post a Comment