باب نہم: خون کے سورج کا آخری غروب
القمونیہ میں امید کی نئی کرن پھوٹ رہی تھی۔ عوام نے جبر سے آزادی حاصل کر لی تھی، مگر سکون کا یہ لمحہ عارضی تھا۔ دشمن سائے میں دبے قدموں واپس آ رہا تھا۔ جنرل عتیق نے اپنے بچ جانے والے سپاہیوں کے ساتھ سرحد پار خفیہ پناہ گاہ بنا رکھی تھی۔ اس کا چہرہ زخموں سے بھرا ہوا تھا مگر آنکھوں میں انتقام کی آگ روشن تھی۔ اس کے ساتھ مولوی اعظم کا بیٹا بھی شامل تھا، جو باپ کی موت کا بدلہ لینا چاہتا تھا۔
عتیق نے اپنی فوج کو مخاطب کر کے کہا:
"ہم
نے اس قوم کو جہالت میں رکھا، مذہب کا نام لے کر انہیں غلام بنایا، اور علیان نے
یہ سب برباد کر دیا۔ مگر ہم واپس آئیں گے۔ وہ لوگ جو آج آزادی کے نعرے لگا رہے
ہیں، کل ہماری تلوار کے سامنے جھک جائیں گے۔"
دوسری طرف، علیان کو علم تھا کہ دشمن چین سے نہیں بیٹھے گا۔ اس نے دارا، زہرہ، صفیہ اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر نئے قوانین بنانے شروع کیے۔
صفیہ نے تعلیم کی ذمہ داری سنبھال لی تھی۔ وہ لڑکیوں کو پڑھنے پر آمادہ کر رہی تھی، انہیں بتایا جا رہا تھا کہ علم نہ مرد کا ہوتا ہے نہ عورت کا، یہ انسان کا حق ہے۔
زہرہ نے خواتین کے لیے دستکاری اور کاروبار کا نظام شروع کیا، تاکہ وہ مالی طور پر خود مختار ہو سکیں۔
دارا نے فوج کو دوبارہ منظم کرنا شروع کیا، مگر یہ فوج عوام کے محافظ کے طور پر تیار کی جا رہی تھی، نہ کہ ان پر ظلم کرنے کے لیے۔
علیان نے عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا:
"ہم
نے ظالموں کو ہٹا دیا، مگر ہمیں اپنا ذہن بھی آزاد کروانا ہوگا۔ اگر ہم پھر سے
اندھے عقیدے اور جھوٹے رہنماؤں کے پیچھے لگ گئے تو ہماری یہ قربانی بیکار چلی
جائے گی۔"
اسی رات، جب شہر خوابوں میں گم تھا، جنرل عتیق کے سپاہیوں نے شہر کے دروازے پر حملہ کر دیا۔ وہ چپکے سے دیوار پھلانگ کر اندر گھس آئے اور بازار میں آگ لگا دی۔
صفیہ اور زہرہ نے عورتوں کو منظم کیا، انہوں نے پانی اور کپڑوں سے آگ بجھانے کی کوشش کی، مگر دشمن تعداد میں زیادہ تھا۔
علیان، دارا اور باقی ساتھیوں نے
ہتھیار اٹھا لیے اور قلعے کے دروازے پر جا کھڑے ہوئے۔ علیان نے للکار کر کہا:
"ہم
پھر غلام نہیں بنیں گے! اگر مرنا ہے تو عزت کے ساتھ مریں گے!"
آخرکار، علیان اور جنرل عتیق کا
سامنا ہوا۔ دونوں زخمی مگر مضبوط تھے۔ عتیق نے غصے سے کہا:
"تم
نے ہمارا نظام برباد کر دیا! عوام کو آزادی دے دی؟ یہ قوم جاہل ہے، یہ آزادی
سنبھال نہیں سکے گی!"
علیان نے سکون سے جواب دیا:
"قوم
جاہل نہیں، اسے جہالت میں رکھا جاتا ہے۔ ہم انہیں علم دیں گے، شعور دیں گے، اور وہ
خود فیصلہ کریں گے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط۔"
عتیق نے حملہ کیا، مگر علیان نے چالاکی سے اسے زیر کر لیا۔
عتیق زمین پر گرتے ہوئے بولا:
"تم
یہ جنگ جیت سکتے ہو، مگر یاد رکھنا... اقتدار کا نشہ سب کو اندھا کر دیتا ہے۔ اگر
تم بھی حاکم بننے کا خواب دیکھو گے تو ایک دن تم بھی میری جگہ کھڑے ہوگے!"
علیان نے افسردگی سے کہا:
"ہم
حاکم نہیں، خادم بنیں گے۔ یہی فرق ہے!"
جنرل عتیق کےبھاگ جانے کے بعد اس کے فوجی بھاگ کھڑے ہوئے۔ عوام نے خوشی میں نعرے لگائے۔
صفیہ نے علیان سے کہا:
"یہ
جنگ جیت لی، مگر اصل امتحان ابھی باقی ہے — جہالت کے خلاف جنگ۔"
علیان نے مسکرا کر جواب دیا:
"یہ
جنگ ہم سب کو مل کر لڑنی ہوگی، تاکہ کل کا قمونیہ علم، انصاف اور آزادی کی پہچان
بنے!"
No comments:
Post a Comment