القمونیہ کے اندھیرے میں جہاں ہر زبان پر خاموشی کا قفل لگا ہوا تھا، وہاں ایک نوجوان ایسا بھی تھا جس کے دل میں سوالوں کی آگ جل رہی تھی۔ اس کا نام علیان تھا — ایک عام سا نوجوان، مگر اس کے خیالات عام نہ تھے۔ وہ اپنے ہم عمر لڑکوں سے مختلف تھا۔ جب دوسرے نوجوان مذہبی پیشواؤں کی تقریریں سنتے اور سر جھکا کر "آمین" کہتے، علیان ان الفاظ کے پیچھے چھپے مفہوم کو کھوجنے لگتا۔
"کیا
خدا نے ہمیں پیدا ہی اس لیے کیا ہے کہ ہم بھوک سے مر جائیں اور سوال نہ کریں؟"
یہ سوال علیان کے دل میں پلتا رہا، بڑھتا رہا، یہاں تک
کہ یہ سوال ایک آتش فشاں میں بدل گیا۔
علیان ایک متوسط گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ اس کا باپ ایک معمولی مزدور تھا، جو دن بھر پتھر ڈھوتا اور شام کو آدھی روٹی کے ساتھ تھکا ہارا گھر آتا تھا۔ اس کی ماں بیمار رہتی تھی، مگر سرکاری اسپتال میں داخلہ نصیب نہ ہوتا، کیونکہ ان کے پاس "دینداری سرٹیفکیٹ" نہیں تھا — ایک ایسا سرٹیفکیٹ جو صرف ان لوگوں کو ملتا تھا جو مذہبی کونسل کے آگے جھک کر وفاداری کا حلف اٹھاتے تھے۔
علیان کی بہن، مہرین،
اسکول جانا چاہتی تھی۔ مگر لڑکیوں کے لیے تعلیم کو غیر ضروری قرار دیا گیا تھا،
کیونکہ مذہبی پیشوا کا فتویٰ تھا:
"عورت
کو علم سے نہیں، حجاب سے سنوارا جاتا ہے۔"
علیان اکثر دیکھتا کہ اس
کے باپ کا جسم روز بروز کمزور ہو رہا تھا، مگر گھر کا چولہا تب بھی ٹھنڈا رہتا۔ جب
باپ نے شکایت کی کہ اس کی مزدوری کا آدھا حصہ "مذہبی فلاح ٹیکس" میں کٹ
جاتا ہے، تو داروغہ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:
"غریبوں
کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں، یہ تو
ہماری مہربانی ہے کہ ہم انہیں سانس لینے دیتے ہیں!"
یہ جملہ علیان کے دل میں زخم کی طرح بیٹھ گیا۔
علیان کا دماغ سوالوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے کتابوں میں روشنی ڈھونڈنی چاہی، مگر القمونیہ کے اسکولوں میں ایسی کتابیں پڑھائی جاتی تھیں جن میں سوچنے کی ممانعت تھی۔ ایک دن علیان نے استاد سے پوچھا:
"ہمیں یہ کیوں نہیں سکھایا جاتا کہ دنیا کے دوسرے ممالک میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں لوگ کیسے ترقی کر رہے ہیں؟"
استاد کا چہرہ سرخ ہو
گیا۔ وہ دھاڑا:
"یہ
سب کفار کا علم ہے! جو سیکھے گا، وہ دوزخی
ہو گا!"
اس دن علیان نے دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ اس جھوٹ کو توڑ کر رہے گا۔
ایک دن علیان نے شہر کی
سب سے بڑی مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا:
"خدا
نے انسان کو عقل دی ہے، تاکہ وہ سوال کرے، سچائی کو سمجھے۔ جو تمہیں سوال کرنے سے
روکتا ہے، وہ خدا کا دشمن
ہے!"
مجمع میں سناٹا چھا گیا۔
پھر ایک مولوی کھڑا ہوا اور بولا:
"یہ
لڑکا گمراہ ہے! یہ کافر ہے! اسے سنگسار کیا جائے!"
لوگوں کی آنکھوں میں غصے کی لالی اور ذہنوں میں غلامی کی زنجیریں تھیں۔ علیان کو گرفتار کر لیا گیا۔
علیان کو زنجیروں میں جکڑ
کر ایک سیاہ کوٹھری میں ڈال دیا گیا، مگر اس کے حوصلے کو زنجیریں قید نہ کر سکیں۔
جیل کے اندھیرے میں بیٹھا علیان سوچ رہا تھا:
"اگر
میں مر گیا، تو بھی میری آواز زندہ رہے
گی۔ القمونیہ میں ایک نہ ایک دن روشنی آئے گی۔ ظلم کی یہ دیواریں گرائیں گی!"
کوٹھری کی کھڑکی سے روشنی کی ایک پتلی سی کرن اندر آ رہی تھی۔ علیان نے اس روشنی کو دیکھا، اور ایک مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
No comments:
Post a Comment