باب ششم: زنجیروں کے سائے میں چراغ
القمونیہ کے بازاروں میں اب سناٹا تھا، مگر اس سناٹے میں ایک خوفناک خاموشی چھپی ہوئی تھی۔ ہر گلی میں فوجی پہرہ دے رہے تھے، مسجدوں کے منبر سے بددعائیں سنائی دے رہی تھیں، اور ہر دیوار پر علیان اور اس کے ساتھیوں کی تصویریں لگا دی گئی تھیں — نیچے بڑا سا لکھا تھا:
"غدار ِ دین اور غدارِ وطن!"
علیان اور اس کے قریبی ساتھی اب چھپتے پھر رہے تھے۔ بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ بھی غائب تھیں، کسی کو ان کا سراغ نہ مل سکا۔ مگر قید و بند کے باوجود یہ تحریک ختم نہ ہوئی۔
اسی دوران، ایک نیا کردار
سامنے آیا — دارا۔
دارا ایک
سابق سپاہی تھا، جس نے فوج میں رہتے ہوئے ظلم اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ وہ ان
معصوم کسانوں کی چیخیں نہیں بھول پایا جن کے گھروں کو فوج نے "بغاوت کے
شبہ" میں جلا دیا تھا۔ اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ مزید اس ظالم مشینری کا
حصہ نہیں بنے گا۔
دارا نے علیان کو خفیہ
ٹھکانے پر ڈھونڈ نکالا اور کہا:
"میں
فوج کو چھوڑ کر آیا ہوں۔ میں نے حلف ملک کی حفاظت کا اٹھایا تھا، مگر مجھے حکم ظلم
کا ملا۔ میں تمہارے ساتھ ہوں!"
علیان نے اسے دیکھا، اور
پہلی بار مسکرایا:
"ہم
سب اپنے ضمیر کے قیدی ہیں، دارا۔ تم نے آزادی کا راستہ چن لیا ہے — اب پیچھے مڑنے
کا کوئی راستہ نہیں۔"
علیان پر قید و بند کی آزمائش
کچھ دن بعد، فوج نے چھاپہ مار کر علیان کو پکڑ لیا۔ اسے شہر کے مرکزی چوک میں زنجیروں میں باندھ کر پیش کیا گیا۔ لوگوں کو زبردستی اکٹھا کیا گیا تاکہ وہ دیکھیں کہ "باغیوں کا انجام کیا ہوتا ہے"۔
مولوی اعظم نے منبر پر
کھڑے ہو کر اعلان کیا:
"یہ
شخص دین کا دشمن ہے، ریاست کا دشمن ہے! اس نے عورتوں کو بغاوت پر اکسانے کی
کوشش کی، اور یہ فساد پھیلانے کا مجرم ہے۔ اس کے لیے موت سے کم کوئی سزا نہیں!"
علیان کی آنکھوں میں اب
بھی خوف کا نام و نشان نہ تھا۔ اس نے بلند آواز میں کہا:
"تم
ہمیں کافر کہہ سکتے ہو، غدار کہہ سکتے ہو، مگر سچ کو جھوٹ نہیں کہہ سکتے! تم نے
خدا کے نام پر اپنی سلطنت کھڑی کی ہے، مگر خدا نے تمہیں اختیار نہیں دیا کہ اس کے
بندوں کو غلام بنا دو۔"
لوگوں میں ہلچل مچ گئی۔ کئی لوگ آنسو بہا رہے تھے، کچھ خاموش تھے، اور کچھ کے دل میں علیان کی باتیں آگ کی طرح جل رہی تھیں۔
اچانک بھیڑ میں سے ایک آواز ابھری:
"ہمیں علیان کے ساتھ مرنا منظور ہے، غلامی منظور نہیں!"
یہ بی بی زہرہ تھیں، جو برقعے میں چھپ کر واپس آئی تھیں۔ ان کے ساتھ بی بی سلیمہ بھی تھیں، اور ان کے پیچھے سینکڑوں عورتیں کھڑی تھیں، جنہوں نے سفید چادریں سر پر لی ہوئی تھیں — آزادی اور حق کا نشان!
بی بی زہرہ نے بلند آواز
میں کہا:
"ہماری
بیٹیاں قید میں ہیں، ہمارے بیٹے زنجیروں میں ہیں، مگر ہمارے حوصلے آزاد ہیں! آج ہم
فیصلہ کریں گے کہ القمونیہ کا مقدر کیا ہو گا — غلامی یا آزادی!"
صفیہ، ایک نوجوان لڑکی، جس کے والد کو فوج نے قتل کر دیا تھا اور ماں کو "باغی کا گھرانہ" کہہ کر قید کر لیا گیا تھا، بھی آگے بڑھی۔ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا:
"میں نے اپنے باپ کا خون دیکھا ہے، میں نے اپنی ماں کو قید میں تڑپتے دیکھا ہے — اب میں مزید نہیں دیکھوں گی! آج میں لڑوں گی!"
اس کی آنکھوں میں خوف نہیں، صرف انتقام تھا۔
اس دن القمونیہ کی گلیوں میں تاریخ نے کروٹ لی۔ عورتیں، مرد، بچے — سب کھڑے ہو گئے۔ دارا نے فوجی لباس اتار کر عوام کو قیادت دی، علیان کو جیل سے چھڑایا، اور شہر میں جنگ چھڑ گئی۔
محلات لرزنے لگے، مساجد کے منبر پر پہلی بار "ظلم کے خلاف" آواز گونجنے لگی۔
رات کے اندھیرے میں علیان نے قلعے کی جیل سے باہر آکر آسمان کو دیکھا۔ روشنی کے سائے ٹمٹما رہے تھے، اور دور سے بی بی زہرہ کی آواز آ رہی تھی:
"جب عورتیں بیدار ہو جائیں، توظلم کے تخت گر جایا کرتے ہیں!"
No comments:
Post a Comment