Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب انیسواں: نئے القمونیہ کی بنیاد

 

باب انیسواں: نئے القمونیہ کی بنیاد

سورج کی کرنیں جب القمونیہ کے آسمان پر پھیلیں، تو ایسا لگا جیسے صدیوں کے اندھیرے کو روشنی نے نگل لیا ہو۔ شہر کے گلی کوچے جہاں کبھی خوف اور خاموشی کا راج تھا، اب نعرے، خوشیاں اور آزادی کے ترانے گونج رہے تھے۔ لوگ اپنے گھروں سے باہر نکل کر ایک دوسرے کو مبارکباد دے رہے تھے — جیسے زندہ ہونے کا احساس پہلی بار ہوا ہو۔

فتح کے بعد زرمینہ شہر کے مرکزی چوک میں کھڑی تھی، جہاں کل تک جنرل عتیق اور مولوی سراج کے قوانین کا پرچار ہوتا تھا۔ وہ جگہ جہاں لوگوں کو پھانسیاں دی جاتی تھیں، آج وہاں عوام کا سمندر جمع تھا۔

زرمینہ نے بلند آواز میں کہا:

"ہم نے ظلم کے نظام کو توڑ دیا ہے، مگر ہماری جنگ ختم نہیں ہوئی! اب ہمیں ایک نیا نظام بنانا ہے — ایسا نظام جہاں مذہب کو اقتدار کا ہتھیار نہ بنایا جائے، جہاں علم کو قید نہ کیا جائے، اور جہاں عوام کی طاقت اصل حکومت ہو!"

لوگوں نے نعرہ بلند کیا:

"زرمینہ زندہ باد! القمونیہ پائندہ باد!"

ریحان نے مولوی سراج اور جنرل عتیق کے باقی بچ جانے والے ساتھیوں کو گرفتار کروا دیا تھا۔

ایک میدان میں عوام کے سامنے انہیں لایا گیا۔

مولوی سراج کی داڑھی بکھری ہوئی تھی، چہرہ زرد پڑ چکا تھا۔ وہ کبھی عوام کو دیکھتا اور کبھی زرمینہ کو۔ اس نے آخری کوشش کرتے ہوئے کہا:

"میں نے یہ سب دین کے لیے کیا تھا! میں دین کا محافظ ہوں!"

زرمینہ نے تیز نظروں سے اسے دیکھا اور بولی:

"تم نے دین کو ڈھال بنایا، مگر تمہارا  دین اقتدار تھا، عوام نہیں! اصل دین محبت اور انصاف سکھاتا ہے، نہ کہ خوف اور جہالت!"

عوام نے نعرہ لگایا: "جھوٹے مولوی مردہ باد!"

ریحان آگے بڑھا اور بولا:

"آج ہم نہ تم سے بدلہ لیں گے، نہ تمہارا خون بہائیں گے۔ ہم تمہیں وہ دیں گے جو تم نے ہم سے چھینا — آزادی! تمہیں اس ملک سے نکال دیا جائے گا، اور تاریخ تمہیں ظالم اور منافق کے نام سے یاد رکھے گی!"

زرمینہ نے عورتوں کے مجمعے کو مخاطب کیا:

"ہم نے ہمیشہ یہ سنا کہ عورت کمزور ہے، عورت کا کام صرف گھر سنبھالنا ہے۔ مگر آج ثابت ہو گیا کہ عورت جب ظلم کے خلاف کھڑی ہوتی ہے، تو ظالموں کی حکومتیں کانپنے لگتی ہیں"۔ آج سے القمونیہ میں عورتوں کو برابر کے حقوق دیے جائیں گے — وہ پڑھے گی، لکھے گی، کام کرے گی، اور فیصلہ سازی میں برابر کی شریک ہو گی!

خدیجہ بیگم، جو کل تک خوف کے سائے میں چھپی ہوتی تھی، اب پورے مجمع کے سامنے کھڑی تھی۔ اس نے اپنی بیٹی کا ہاتھ پکڑ کر کہا:

"زرمینہ! تم نے ہماری بیٹیوں کو خواب دیکھنا سکھا دیا ہے — اب ہم انہیں خوابوں کی تعبیر دینا بھی سکھائیں گے!"

زرمینہ، ریحان اور علیان کے باقی ماندہ ساتھیوں نے ایک عارضی حکومت قائم کی۔

زرمینہ نے اعلان کیا:
"
آج سے کوئی مذہب کے نام پر سیاست نہیں کرے گا، کوئی فوج عوام پر مسلط نہیں ہو گی، اور ہر شہری کو برابر کے حقوق ملیں گے — چاہے وہ مرد ہو یا عورت، امیر ہو یا غریب۔"

ریحان نے مسکرا کر کہا:
"
یہ صرف آغاز ہے، زرمینہ۔ اصل جنگ اب شروع ہوئی ہے — اب ہمیں عوام کو دوبارہ سوچنا سکھانا ہے، علم اور شعور کو واپس لانا ہے۔"

زرمینہ نے آزادی کی گھنٹی کے نیچے کھڑے ہو کر علیان کی تصویر کو دیکھا۔ آنکھوں میں آنسو تھے مگر چہرے پر مسکراہٹ تھی۔

"علیان، تم نے کہا تھا کہ ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے — دیکھو، وہ روشنی آ گئی! آج القمونیہ آزاد ہے، اور عوام نے ظلم کو شکست دے دی ہے!"

ریحان نے قریب آ کر زرمینہ کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور بولا:

"علیان ہم سب میں زندہ ہے، زرمینہ۔ یہ جنگ اس کا خواب تھا — اور یہ خواب آج حقیقت بن چکا ہے!"

سورج پوری آب و تاب کے ساتھ القمونیہ پر چمک رہا تھا۔ بچے گلیوں میں کھیل رہے تھے، بازار دوبارہ آباد ہو رہے تھے، اور آزادی کی گھنٹی ہر صبح خوشی سے بجائی جا رہی تھی۔

زرمینہ نے شہر کے بلند ترین مقام پر کھڑے ہو کر آخری بار عوام کو دیکھا اور دل میں سوچا:

"یہ آزادی آسانی سے نہیں ملی — مگر اب اسے کوئی چھین نہیں سکے گا!"

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment