سورج پھر ویسے ہی نکلا، مگر اس بار اس کی روشنی القمونیہ پر نئی امیدوں کا سایہ ڈال رہی تھی۔ شہر کی گلیاں جو کبھی سنسان اور خوفزدہ تھیں، اب بچوں کے قہقہوں اور خوشبوؤں سے آباد تھیں۔ بیس سال گزر چکے تھے۔ وہ شہر، جہاں جہالت، خوف اور مذہب کے نام پر ظلم راج کرتا تھا، اب علم اور شعور کا گہوارہ بن چکا تھا۔ شہر کے بیچوں بیچ، جہاں کبھی ظلم کے فیصلے ہوا کرتے تھے، اب ایک عظیم الشان لائبریری کھڑی تھی — "علیان میموریل لائبریری"۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں علیان کو قید کیا گیا تھا۔ آج وہاں بچے کتابیں پڑھ رہے تھے، نوجوان مستقبل کے خواب بُن رہے تھے، اور عورتیں، جو کل تک قید تھیں، آج زندگی کے ہر میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی تھیں۔
زرمینہ اب بھی وہیں موجود تھی — مگر بالوں میں چاندنی اور چہرے پر وقت کی لکیرں لیے۔ مگر آنکھوں میں وہی پرانی روشنی تھی۔ وہ ہر صبح اس لائبریری کے دروازے پر کھڑی ہو کر آنے والے بچوں کو مسکرا کر دیکھتی اور علیان کا خواب یاد کرتی تھی۔
ریحان، جو کبھی علیان کا ساتھی تھا، اب القمونیہ کا سربراہ تھا — مگر وہ "صدر" یا "وزیرِاعظم" کہلوانے کے بجائے خود کو "عوام کا نمائندہ" کہتا تھا۔ اس نے کبھی محل میں رہنے کی خواہش نہیں کی۔ وہ اپنے چھوٹے سے گھر میں رہتا، اور ہر فیصلے کے لیے عوامی اسمبلی سے مشورہ کرتا۔
ایک دن، کسی صحافی نے اس سے پوچھا:
"ریحان صاحب، آپ کو لگتا ہے القمونیہ واقعی بدل گیا ہے؟"
ریحان نے مسکرا کر کہا:
"القمونیہ بدلا نہیں، القمونیہ نے خود کو پہچانا ہے۔ ظلم کے خلاف اٹھنا بہادری نہیں، ظلم کو دوبارہ نہ آنے دینا اصل بہادری ہے — اور آج کے القمونیہ میں یہ طاقت ہر شہری میں موجود ہے!"
زرمینہ کا خواب صرف آزادی تک محدود نہ تھا۔ اس نے عورتوں کو شعور دیا، آواز دی، اور اب وہ ہر میدان میں اپنا لوہا منوا رہی تھیں۔
لیلیٰ، جو کبھی چھپ کر زرمینہ کے جلسوں میں جایا کرتی تھی، اب القمونیہ کی سب سے بڑی جج تھی — اس کا پہلا فیصلہ وہی تھا جو زرمینہ نے اس سے کہا تھا:
"انصاف کو مذہب یا سیاست کا غلام نہ بننے دو!"
خدیجہ بیگم کی بیٹی، جسے زرمینہ نے بچپن میں گود میں اٹھایا تھا، اب القمونیہ کی سب سے بڑی ڈاکٹر بن چکی تھی، اور دیہی علاقوں میں جا کر مفت علاج کرتی تھی۔
جنرل عتیق اور مولوی سراج کا نام کتابوں میں محض ظالموں کی مثال کے طور پر رہ گیا تھا۔ نئی نسل کو بتایا جاتا تھا کہ کیسے طاقت اور مذہب کو گٹھ جوڑ بنا کر عوام کو غلام بنایا گیا — اور کیسے ایک عام آدمی، علیان، نے وہ زنجیریں توڑ ڈالیں۔
کسی نے مولوی سراج اور جنرل عتیق کا انجام پوچھا، تو زرمینہ نے مسکرا کر بس اتنا کہا:
"تاریخ نے انہیں وہ جگہ دے دی جہاں ظالموں کا نام صرف نفرت کے ساتھ یاد رکھا جاتا ہے۔"
لائبریری کے باہر، علیان کے مجسمے کے نیچے ایک جملہ کندہ تھا:
"جب تک علم زندہ ہے، ظلم مر چکا ہے!"
زرمینہ نے علیان کے مجسمے کو آخری بار دیکھا، اور دل ہی دل میں کہا:
"علیان، ہم نے وہ دن دیکھ لیا جس کا خواب تم نے دیکھا تھا — القمونیہ آزاد ہے، القمونیہ زندہ ہے، اور یہ روشنی اب کبھی بجھے گی نہیں!"
آسمان پر سورج چمک رہا تھا — اور ایسے لگ رہا تھا جیسے القمونیہ کے ہر گھر میں، ہر دل میں، اور ہر سانس میں ایک نئی روشنی جاگ چکی ہو۔
ختم شد
No comments:
Post a Comment