Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب سترہواں: سایہ جو روشنی بن گیا

 

باب سترہواں: سایہ جو روشنی بن گیا

زرمینہ کی قیادت میں بغاوت کا چراغ جل چکا تھا، مگر اب اسے روشنی کے اس چراغ کو جلائے رکھنے کے لیے کسی ایسے ساتھی کی ضرورت تھی جو عقل اور بہادری، دونوں کا امتزاج ہو — اور وہ ساتھی قسمت نے خود اس کے راستے میں لا کھڑا کیا تھا: ریحان۔

ریحان، ایک نوجوان جو کبھی جنرل عتیق کی فوج میں شامل تھا، مگر اپنے ہی لوگوں پر مظالم دیکھ کر اس نے فوج چھوڑ دی۔ وہ چھپ کر علیان کی تحریک سے جُڑا ہوا تھا، مگر علیان کی شہادت کے بعد وہ گمشدہ ہو گیا تھا۔

زرمینہ کو اس کا پتہ اُس وقت چلا، جب ایک خفیہ پیغام اس کے ہاتھ لگا:

"زرمینہ، یہ جنگ تمہیں اکیلے نہیں لڑنی۔ علیان کا خواب میرا بھی خواب ہے۔ میں تمہارا سایہ بن کر ساتھ دوں گا۔ - ریحان"

زرمینہ کے لبوں پر پہلی بار ایک مسکراہٹ آئی۔ اس نے جان لیا کہ اب یہ جنگ دو محاذوں پر لڑی جائے گی — ایک عوام کے دل و دماغ میں، اور دوسرا فوج اور مولوی سراج کے ایوانوں میں۔

اندھیری رات میں، شہر کے پرانے بازار کی گلی میں زرمینہ نے ریحان سے ملاقات کی۔ ریحان کا چہرہ ستا ہوا تھا، مگر آنکھوں میں وہی عزم تھا جو علیان کی آنکھوں میں ہوا کرتا تھا۔

"تمہیں پتہ ہے، زرمینہ، یہ جنگ آسان نہیں۔ جنرل عتیق اور مولوی سراج کا گٹھ جوڑ مضبوط ہے۔ وہ مذہب کا نام لے کر ہر اختلافی آواز کو کچل دیں گے،" ریحان نے آہستہ آواز میں کہا۔

"میں جانتی ہوں،" زرمینہ نے مضبوطی سے کہا، "لیکن ہمیں یہ جنگ جیتنی ہے۔ میں علیان کا خواب مرنے نہیں دوں گی!"

ریحان نے سر جھکا لیا، پھر کہا:
"
تو پھر ہم یہ خواب پورا کریں گے — چاہے اس کے لیے ہمیں اپنا خون کیوں نہ بہانا پڑے!"

زرمینہ اور ریحان نے فیصلہ کیا کہ تحریک کو مزید مضبوط کرنے کے لیے عورتوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔

فاطمہ، جو پہلے ہی زرمینہ کے ساتھ تھی، اب اس نے مختلف علاقوں میں عورتوں کو منظم کرنا شروع کر دیا۔ خدیجہ بیگم نے مدرسے میں بچیوں کو سکھانا شروع کیا کہ آزادی کیا ہوتی ہے، اور بازار والی حلیمہ بی بی اب سبزیوں کے ساتھ ساتھ خفیہ پیغامات بھی پہنچانے لگی۔

ایک دن زرمینہ نے دیکھا کہ بازار میں کچھ عورتیں سرگوشیوں میں بات کر رہی تھیں۔ جب اس نے قریب جا کر سنا، تو اس کا دل خوشی سے بھر گیا:

"اگر زرمینہ جیسی عورت کھڑی ہو سکتی ہے، تو ہم کیوں نہیں؟" ایک عورت نے کہا۔
"
بس تھوڑا سا حوصلہ چاہیے، پھر یہ مولوی اور یہ فوج کچھ نہیں کر سکیں گے!" دوسری نے جواب دیا۔

زرمینہ کو احساس ہوا کہ وہ آگ جو علیان نے جلائی تھی، اب پورے شہر میں پھیلنے لگی ہے!

دوسری طرف، مولوی سراج نے زرمینہ کے بڑھتے اثر و رسوخ کو دیکھتے ہوئے ایک نیا فتویٰ جاری کر دیا:

"زرمینہ اور اس کی عورتیں دین کے خلاف بغاوت کر رہی ہیں۔ یہ سب شیطان کی بیٹیاں ہیں۔ ان سے بات کرنے والا، ان کا ساتھ دینے والا بھی کافر ہے!"

جنرل عتیق نے اس فتویٰ کو مزید ہوا دی۔ شہر بھر میں زرمینہ کے خلاف نفرت انگیز بینر لگا دیے گئے، ہر چوراہے پر فوجی کھڑے کر دیے گئے، اور ہر گھر میں یہ پیغام پہنچایا گیا کہ "زرمینہ کو دیکھتے ہی گرفتار کرو!"

زرمینہ اور ریحان نے محسوس کیا کہ ان کے ہر منصوبے کی خبر دشمن کو پہلے سے ہی ہو جاتی تھی۔ اس کا مطلب تھا کہ ان کے درمیان کوئی غدار موجود تھا!

ریحان نے خفیہ طور پر اپنے ساتھیوں پر نظر رکھنی شروع کی۔ چند دنوں بعد اس نے فاطمہ کے بھائی یوسف کو جنرل عتیق کے فوجی کیمپ میں جاتے دیکھا۔

ریحان نے زرمینہ کو اطلاع دی، اور اگلی ہی رات وہ دونوں یوسف کے پیچھے لگ گئے۔ ایک سنسان گلی میں جب یوسف فوجی سے خفیہ پیسے لیتے پکڑا گیا، تو زرمینہ سامنے آ گئی:

"یوسف! تم نے ہمیں دھوکہ دیا؟ علیان کے خون کا سودا کیا؟"

یوسف نے نظریں جھکا لیں:
"
میرے ماں باپ کو فوج نے پکڑ لیا تھا... مجھے دھمکی دی گئی تھی... میں مجبور تھا!"

زرمینہ نے آنکھیں بند کیں۔ اس کے دل میں غصہ تھا، مگر اس نے یوسف کو قتل نہیں کیا — بلکہ اسے قید میں ڈال دیا تاکہ باقی باغیوں کے لیے عبرت بن سکے۔

اب زرمینہ اور ریحان نے طے کر لیا تھا کہ آخری جنگ کا وقت قریب آ رہا ہے۔ فوج اور مولوی سراج نے شہر کو قید خانہ بنا  دیا تھا، مگر عوام کے دلوں میں آزادی کی لو بڑھتی جا رہی تھی۔

زرمینہ نے ریحان کے ساتھ مل کر ایک آخری منصوبہ بنایا — "آزادی کی آخری للکار!"

 

 

 

 

 

No comments:

Post a Comment