القمونیہ میں اندھیری رات کے باوجود شہر جاگ رہا تھا۔ گلیاں جلتے ہوئے مشعلوں سے روشن تھیں، اور عوام کے دلوں میں پہلی بار غلامی کے خلاف آگ بھڑک رہی تھی۔ علیان، دارا، بی بی زہرہ، بی بی سلیمہ، اور صفیہ کی قیادت میں یہ بغاوت اب بغاوت نہ رہی — یہ ایک تحریک بن چکی تھی۔
محل میں مولوی اعظم اور جنرل عتیق سخت پریشان تھے۔ محل کے بڑے ہال میں دونوں کے بیچ تند و تیز بحث جاری تھی:
"یہ بغاوت کیسے پھیل گئی؟" مولوی اعظم نے غصے سے کہا، "ہم نے تو مذہب کو ڈھال بنایا تھا، عوام کیسے ہمارے خلاف ہو گئی؟"
جنرل عتیق نے تلوار میز
پر پٹخی:
"جب
عورتیں سڑکوں پر آ جائیں، تو سلطنتیں گر جاتی ہیں۔ ہمیں انہیں کچلنا ہوگا، ورنہ یہ بغاوت پورے ملک میں پھیل جائے گی!"
"علیان کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں!" مولوی اعظم نے چیخ کر کہا۔ "کل صبح اسے چوک میں لٹکا دو، تاکہ لوگوں کو عبرت ہو!"
دوسری طرف دارا،
اور بی بی زہرہ ایک خفیہ جگہ پر عوامی رہنماؤں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ زہرہ نے کہا:
"ہمیں
صرف علیان کو بچانے کا نہیں، پورے نظام کو گرانے کا عزم کرنا ہوگا۔ اگر ہم نے آج قدم پیچھے ہٹایا تو یہ ظالم دوبارہ قابض ہو جائیں گے!"
دارا نے اثبات میں سر
ہلایا:
"کل
کا دن فیصلہ کن ہوگا۔ ہم علیان کو چوک تک
پہنچنے نہیں دیں گے۔"
صفیہ آگے بڑھی اور بولی:
"میں
عورتوں کو منظم کر چکی ہوں۔ کل کے دن ہم بازاروں میں نکلیں گے — اگر ہمارے بھائی
لڑ سکتے ہیں، تو ہم بیٹیاں بھی پیچھے نہیں رہیں گی!"
اگلی صبح چوک کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ علیان کو زنجیروں میں جکڑ کر لایا گیا۔ اس کا جسم زخموں سے چور تھا مگر چہرے پر سکون تھا۔
مولوی اعظم منبر پر کھڑا
چیخ رہا تھا:
"یہ
شخص دین کا دشمن ہے، یہ ریاست کا غدار ہے! جو بھی اس کا ساتھ دے گا، وہ دوزخی ہے!"
لیکن علیان نے اپنی کمزور
آواز میں کہا:
"میں
غدار نہیں ہوں، میں آزاد ہوں۔ غدار وہ ہیں جو خدا کے نام پر انسانوں کو غلام بناتے
ہیں، جو مذہب کو اپنی طاقت کا ہتھیار بناتے ہیں۔ میں نے سچ کے سوا کچھ نہیں کہا!"
جیسے ہی جلاد نے تلوار
اٹھائی، بی بی زہرہ اور صفیہ نے عورتوں کے ہجوم کے ساتھ نعرہ بلند کیا:
"ظلم
کے خلاف بغاوت حرام نہیں — فرض ہے!"
عورتیں سفید چادریں لہراتی ہوئی آگے بڑھیں، اور مردوں نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ دارا نے فوج کے کچھ باغی سپاہیوں کے ساتھ حملہ کر دیا۔
جلاد کا ہاتھ کانپ گیا،
اور علیان کی زنجیریں ٹوٹ گئیں۔ وہ چوک کے بیچ کھڑا ہو گیا اور پوری قوت سے چیخا:
"آج
کے بعد القمونیہ آزاد ہو گی! ہم غلامی کے طوق اتار پھینکیں گے!"
مولوی اعظم گھبرا کر منبر
سے نیچے اترنے لگا، مگر صفیہ آگے بڑھی اور اس کا راستہ روک لیا:
"تم
نے میرے والد کو شہید کیا، میری ماں کو قید کیا — آج میں انصاف لینے آئی ہوں!"
مولوی نے خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹنے کی کوشش کی، مگر عوام کا ہجوم آگے بڑھ چکا تھا۔ وہ اسے دھکیلتے ہوئے چوک کے بیچ میں لے آئے۔
کسی نے نعرہ لگایا:
"ظلم
کے سردار کو آج انصاف کے کٹہرے میں کھڑا
کرو!"
علیان نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ نکل رہا تھا۔ اس نے دارا، زہرہ، صفیہ، اور باقی عوام کو دیکھا، جن کی آنکھوں میں اب خوف نہیں تھا — امید تھی۔
"آج القمونیہ نے آزادی کا پہلا قدم اٹھایا ہے... مگر جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔" علیان نے آہستہ سے کہا۔
No comments:
Post a Comment