Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب ہشتم: نئی صبح، نئے زخم

 

باب ہشتم: نئی صبح، نئے زخم

القمونیہ کے آسمان  پر آزادی کا سورج طلوع ہو چکا تھا، مگر زمین پر خون کی سرخی باقی تھی۔ علیان، دارا، زہرہ، صفیہ اور ان کے ساتھیوں نے ظالم حکومت کے ستون گرا دیے تھے، مگر یہ صرف پہلا قدم تھا۔ اصل امتحان اب شروع ہونا تھا — ایک نئی ریاست قائم کرنا، جہاں نہ مذہب کو ہتھیار بنایا جائے، نہ فوج کو ڈر کا ذریعہ، اور نہ عوام کو جہالت کی زنجیروں میں جکڑا جائے۔محل کا تخت خالی ہو چکا تھا۔ مولوی اعظم کو عوام نے چوک میں انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے اس کا ظلم یاد دلا دیا تھا۔ جنرل عتیق میدان سے فرار ہو گیا تھا، اور اس کے فوجی یا تو عوام کے ساتھ مل چکے تھے یا جان بچا کر بھاگ گئے تھے۔

مگر اب سوال یہ تھا: آگے کیا؟

علیان نے چوک کے بیچ کھڑے ہو کر کہا:
"
ہم نے تخت گرا  دیا، مگر یہ کافی نہیں ہے۔ ہمیں ایک نیا نظام بنانا  ہوگا — ایسا نظام جہاں کوئی حاکم نہ ہو، جہاں ہر شہری کا حق برابر ہو، اور جہاں علم کو قید نہ کیا جا سکے۔"

عوام نے نعرے لگائے:
"
علیان زندہ باد! آزادی زندہ باد!"

مگر علیان نے مسکرا کر کہا:
"
یہ جنگ میری نہیں، ہم سب کی ہے۔ میں بادشاہ نہیں بننا چاہتا۔ میں چاہتا ہوں کہ القمونیہ کے عوام خود اپنی تقدیر کا فیصلہ کریں!"

دارا نے قریب آ کر آہستہ سے کہا:
"
ہم نے ظالموں کو بھگا  تو دیا، مگر جنرل عتیق اور اس کے وفادار ابھی زندہ ہیں۔ وہ ضرور پلٹ کر آئیں گے۔"

صفیہ نے تیزی سے جواب دیا:
"
ہمیں نئے نظام کی بنیاد رکھتے ہوئے پرانے دشمنوں پر بھی نظر رکھنی ہوگی۔ یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی!"

علیان نے اثبات میں سر ہلایا:
"
ہمیں جلد از جلد عبوری حکومت بنانی ہوگی، تاکہ دشمنوں کو دوبارہ قدم جمانے کا موقع نہ ملے۔"

بی بی زہرہ اور صفیہ نے خواتین کو منظم کرنے کی مہم شروع کر دی۔ صفیہ نے ایک مجمع سے خطاب کیا:
"
ہم نے صرف اپنے مردوں کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ اپنی آزادی کے لیے بھی لڑیں ہیں۔ اب ہم پیچھے نہیں ہٹیں گی۔ ہم علم حاصل کریں گی، ہم اپنے بچوں کو جہالت کی بجائے علم   کی              روشنی  دیں گی، اور ہم اس ملک کو دوبارہ ظالموں کے حوالے نہیں کریں گی!"

عورتوں نے بلند آواز میں نعرے لگائے:
"
ہماری بیٹیاں بھی زندہ باد! آزادی زندہ باد!"

شہر کے باہر، ویران جنگل میں، جنرل عتیق نے اپنے بچ جانے والے سپاہیوں کو جمع کیا۔ وہ زخمی اور غصے سے بھرا ہوا تھا۔

"ہم اس غلام کے ہاتھوں نہیں ہار سکتے! علیان اور اس کے ساتھیوں کو جتنا جلدی ہو سکے ختم کرنا ہوگا۔ ہم واپس آئیں گے، زیادہ طاقت کے ساتھ!"

اس نے قسم کھائی:
"
اگر میں نے القمونیہ دوبارہ نہ جیتا تو میں اپنا نام مٹا دوں گا!"

علیان نے شہر کے بیچ میں عوامی دربار قائم کیا، جہاں ہر شہری کو اپنی بات کہنے کا حق دیا گیا۔ دارا، زہرہ، صفیہ، اور دیگر رہنما علیان کے ساتھ تھے۔

علیان نے بلند آواز میں اعلان کیا:
"
آج سے القمونیہ کسی بادشاہ، کسی مولوی، اور کسی فوج کے تابع نہیں ہوگی۔ ہم سب برابر ہیں! ہم سب ایک ہیں!"

عوام نے خوشی سے تالیاں بجائیں، مگر کچھ لوگ چپ کھڑے تھے — وہ اب بھی پرانے نظام کے خواب دیکھ رہے تھے۔

رات کے اندھیرے میں ایک سائے نے علیان کے خیمے کے قریب آ کر سرگوشی کی:
"
ہمیں ختم کرنے والے ابھی زندہ ہیں... اور وہ جلد لوٹیں گے۔"

 

 

No comments:

Post a Comment