Visitors

Thursday, March 13, 2025

ہم سماجی اور معاشرتی خوشیوں سے دور کیوں رہتے ہیں؟

   ہمیں اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ ہماری زندگیوں میں خوشیاں کم اور تلخیاں زیادہ ہو گئی ہیں۔ ہر طرف غصہ، نفرت اور شدت پسندی کا ماحول ہے، اور ہم چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف اتفاقیہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی، نفسیاتی اور معاشرتی عوامل کارفرما ہیں، جنہیں سمجھنا اور حل کرنا ضروری ہے۔

سب سے پہلے ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہم خوشی کو سمجھتے کیسے ہیں۔ بدقسمتی سے، ہمارا معاشرہ خوشی کو اکثر مادی چیزوں سے جوڑ دیتا ہے — بڑی گاڑی، عالی شان گھر، مہنگے کپڑے، یا بیرونِ ملک سفر۔ اگر یہ چیزیں نہ ملیں تو ہم خود کو ناکام سمجھنے لگتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دل کی خوشیاں ماند پڑ جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، ترقی یافتہ ممالک میں خوشی کو تعلقات، صحت، وقت اور آزادی سے جوڑا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں بھی خوشی ڈھونڈ لیتے ہیں۔
دوسری بڑی وجہ ہماری اجتماعی نفسیات ہے۔ بچپن سے ہی ہمیں مقابلہ بازی اور دوسروں سے آگے نکلنے کا سبق دیا جاتا ہے، لیکن محبت، تعاون اور خوش دلی کا جذبہ کمزور رہتا ہے۔ ہم ہر کامیابی کو دوسروں کی شکست سمجھنے لگتے ہیں اور خوشی کے بجائے حسد میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہی حسد آہستہ آہستہ نفرت میں بدلتا ہے اور پھر ہر اختلاف ہمیں دشمنی لگنے لگتا ہے۔
معاشی مسائل بھی ہماری خوشیوں کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری اور غیر یقینی مستقبل نے لوگوں کو ذہنی دباؤ کا شکار کر دیا ہے۔ جب ایک آدمی دن رات صرف یہ سوچے کہ بچوں کا خرچہ کیسے پورا کرے، بجلی کا بل کیسے دے، اور دوا کہاں سے خریدے، تو اس کے دل میں خوشی کی گنجائش کم رہ جاتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو ہماری سماجی روایات اور جھوٹی انا ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی نظر میں "اچھا" دکھنے کے چکر میں اپنی اصل خوشیوں کو قربان کر دیتے ہیں۔ شادی بیاہ، تہوار، یا کوئی اور خوشی کا موقع ہو تو ہم خوشی منانے کے بجائے یہ سوچنے لگتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تقریب تو دھوم دھام سے ہو جاتی ہے، مگر دل بوجھل ہی رہتا ہے۔
شدت پسندی کا ایک بڑا سبب ہماری عدم برداشت ہے۔ ہم یہ سمجھنے کو تیار نہیں کہ ہر کسی کا سوچنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ اگر کوئی ہم سے مختلف رائے رکھتا ہے، تو وہ ہمارا مخالف ہے اور اسے غلط ثابت کرنا ضروری ہے۔ اسی سوچ نے ہمیں ایک نارمل اور خوش باش معاشرے سے ایک غصے اور جھگڑالو قوم میں بدل دیا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس صورتحال سے نکلیں کیسے؟
پہلا قدم یہ ہے کہ ہمیں خوشی کو مادی چیزوں سے آزاد کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خوشی کسی بڑی کامیابی یا مہنگی چیز کا نام نہیں، بلکہ یہ چھوٹے چھوٹے لمحوں میں چھپی ہوتی ہے — کسی سے مسکرا کر بات کرنا، کسی کا بھلا کر دینا، یا صرف دوستوں اور گھر والوں کے ساتھ وقت گزار لینا بھی دل کو سکون اور خوشی دے سکتا ہے۔
دوسرا قدم یہ ہے کہ ہمیں دوسروں سے حسد چھوڑ کر انہیں سراہنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔ جب ہم کسی کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھ لیں گے تو ہمارے دل کے بوجھ ہلکے ہو جائیں گے اور ہمیں اپنی زندگی زیادہ خوشگوار محسوس ہونے لگے گی۔
تیسرا اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ ہمیں اپنی سوچ میں برداشت پیدا کرنی ہوگی۔ اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے، اور اسے دشمنی میں بدلنے کے بجائے سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہر کسی کو اپنی رائے رکھنے کا حق ہے، اور یہ حق دینے سے ہماری عزت کم نہیں ہوتی، بلکہ بڑھتی ہے۔
جیسا کہ شاعر نے کہا:

"خوش رہنے کا ہنر سیکھو، غم تو خود ہی مل جائیں گے"

ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ خوشی باہر سے نہیں آتی، یہ ہمارے اپنے اندر موجود ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے رویے، سوچ اور معاشرتی عادات میں تبدیلی لانے کو تیار ہو جائیں، تو شدت پسندی کے اندھیرے سے نکل کر روشنی اور سکون کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ یہ آسان نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ خوش رہنا اور خوشیاں بانٹنا ایک اجتماعی کوشش ہے، اور ہمیں یہ کوشش آج سے ہی شروع کرنی ہوگی۔

 


No comments:

Post a Comment