Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب اول: القمونیہ سائے میں ڈوبا ہوا شہر

باب اول: القمونیہ  سائے میں ڈوبا ہوا شہر

القمونیہ کا سورج  اب بھی ویسا  ہی طلوع  ہوتا  تھا  جیسا صدیوں سے ہوتا  آیا تھا، مگر اب اس کی روشنی میں چمک کی جگہ ایک سرمئی دھند بسیرا کر چکی تھی۔ شہر کی گلیاں تنگ اور گرد آلود تھیں، جہاں زندگی کا شور نہیں بلکہ خاموشی کا شور تھا — ایک ایسی خاموشی جو لوگوں کے دلوں میں دبے ہوئے خوف سے جنم لیتی تھی۔یہاں ہر صبح مسجد کے مینار سے اذان دی جاتی تھی، مگر وہ اذان لوگوں کو عبادت کے لیے نہیں، بلکہ حکم ماننے کی یاد دہانی کے لیے ہوتی تھی۔ امام کے خطبے میں دین کی بات کم اور حکمرانوں کی بات زیادہ ہوتی تھی۔ جمعے کے خطبے میں جنت کا راستہ صرف حکومت کی تابعداری سے ہو کر گزرتا تھا۔ لوگ سر جھکائے اس نظام کو خدا کا حکم سمجھ کر مانتے تھے، کیونکہ انہیں یہی سکھایا گیا تھا کہ سوال کرنا شیطان کا کام ہے، اور سوال کرنے والا باغی۔ بازاروں میں دکانیں کھلی تھیں، مگر لوگوں کے چہروں پر زندگی کے آثار نہیں تھے۔ ہر کوئی اپنی روزی کمانے میں اس قدر الجھا تھا کہ کسی کے پاس نہ سوچنے کا وقت تھا، نہ ہمت۔ مرد صبح  نکلتے، شام کو خالی ہاتھ واپس آتے، اور بچوں کو جھوٹے خواب سناتے کہ کل حالات بہتر ہو جائیں گے۔ عورتیں گھروں میں بند تھیں، کیونکہ "شریعت کونسل" نے یہ فتویٰ جاری کر رکھا تھا کہ عورت کا گھر سے باہر نکلنا فساد کو دعوت دینا ہے۔

شہر کے چوک پر ایک بڑی عمارت کھڑی تھی — "مجلسِ شریعت"۔ یہ عمارت مسجد اور قلعے کے بیچ میں تھی، جہاں حکومت اور مذہب کے گٹھ جوڑ کی علامت نظر آتی تھی۔ مجلس کے دروازے پر پہرہ دیتے فوجی سپاہی اور مولوی ایک ساتھ کھڑے ہوتے تھے، جیسے یہ واضح پیغام ہو کہ طاقت اور ایمان دونوں پر صرف ایک گروہ کا اختیار ہے۔ ہر گلی میں ایک نگران مقرر تھا، جو لوگوں کی باتیں سنتا، اور جس نے ذرا سا بھی حکومت کے خلاف بولا، اسے رات کے اندھیرے میں غائب کر دیا جاتا تھا۔ شہر کے سب سے بڑے میدان میں ایک لمبا سا تختہ دار نصب تھا، جہاں ہر ہفتے "ملک دشمنوں" کو لٹکایا جاتا تھا۔ لوگوں کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ یہ منظر دیکھیں، تاکہ وہ عبرت پکڑیں اور دوبارہ سوچنے کا حوصلہ نہ کریں۔

القمونیہ کے اسکولوں میں کتابیں صرف دو طرح کی تھیں

مذہبی کتابیں، جن میں "حکومت کا وفادار  شہری" بننے کے اصول لکھے تھے۔

تاریخ کی کتابیں، جن میں ہر صفحے پر یہی لکھا تھا کہ موجودہ حکومت نے عوام کو جہالت سے نکالا ہے، اور ان کے بغیر سب کافر ہو جائیں گے۔

یہاں بچے سوال نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی بچہ استاد سے سوال کرتا کہ "ہماری زندگی اتنی بدحال کیوں ہے؟" تو استاد اسے چپ کروا دیتا، اور اگلے دن وہ بچہ کلاس میں نظر نہ آتا۔

شہر میں ایک بڑا بازار تھا — "بازارِ اطاعت" — جہاں ہر چیز بکتی تھی، مگر قیمت صرف خاموشی تھی۔ یہاں حکمرانوں کی تصاویر بیچی جاتی تھیں، اور اگر کسی نے تصویر نہ خریدی تو وہ "بے دین" قرار دے دیا جاتا تھا۔

القمونیہ میں تین طبقے تھے:

حکمران طبقہ سیاستدان، فوجی جرنیل، اور مذہبی رہنما، جو ہر چیز کے مالک تھے۔

خدمت گزار طبقہ وہ لوگ جو حکمرانوں کے لیے کام کرتے تھے اور بدلے میں جھوٹی عزت پاتے تھے۔

عام عوام وہ لوگ جنہیں صرف سانس لینے کی اجازت تھی، سوچنے کی نہیں۔

مگر اسی اندھیرے میں کہیں دور، ایک گلی کے کونے میں ایک لڑکا بیٹھا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرانا کاغذ تھا، جس پر ایک جملہ لکھا تھا:
"سچ کو جتنا دباؤ گے، وہ اتنا ہی بلند ہو کر واپس آئے گا۔"

یہ علیان تھا — ایک ایسا نوجوان جو اس اندھیرے میں روشنی کی تلاش میں تھا، مگر اسے ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ روشنی کی تلاش میں نکلنے والوں کو القمونیہ میں زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

القمونیہ، ایک ایسا ملک جہاں صبح کے اجالے میں بھی اندھیرے کا سایہ چھایا رہتا تھا۔ یہ ملک کسی خوابیدہ قلعے کی مانند تھا، مگر اس قلعے کے دروازے ہمیشہ بند رہتے تھے — باہر کی دنیا سے کٹے ہوئے، اور اندر کی دنیا خوف، غربت، اور خاموشی میں ڈوبی ہوئی۔ یہاں کی گلیاں ایسے لگتی تھیں جیسے وقت نے خود کو روک لیا ہو، اور ہر چہرے پر ایک جیسی بےبسی کی پرت جمی ہوتی تھی۔ یہاں حکومت دو ستونوں پر کھڑی تھی: "مذہب اور طاقت"۔ ایک طرف مذہبی پیشوا تھے، جو لوگوں کو خدا کے خوف میں جکڑتے تھے، اور دوسری طرف فوج تھی، جو اس خوف کو بندوق کی نالی سے مضبوط کرتی تھی۔ یہ دونوں ستون آپس میں اتنے جڑے ہوئے تھے کہ ان کے درمیان سے روشنی کا ایک ذرہ بھی نہ گزر سکتا تھا۔

القمونیہ میں زندہ رہنے کی بھی قیمت تھی ہر سانس پر، ہر نوالے پر، ہر خواب پر ایک نیا ٹیکس مسلط تھا۔ یہ ٹیکس اس قدر ظالمانہ تھے کہ غریب آدمی کو اپنے بچوں کو بھوکا سلاتے ہوئے یہی سوچنا  پڑتا تھا کہ وہ رب کی آزمائش میں ہے یا حکمرانوں کے ظلم کا شکار ہے۔ بازار میں کوئی سبزی خریدنے جائے تو "خوراکی ٹیکس" لگتا تھا۔ آٹے، چاول، دالوں پر بھی اتنا محصول تھا کہ روٹی کھانا بھی امیروں کی عیاشی لگتی تھی۔ گوشت خریدنے والے پر "حرام سے بچاؤ ٹیکس" تھا — ایک مذہبی فرمان کے تحت کہا گیا تھا کہ اگر گوشت مہنگا ہوگا تو لوگ کم کھائیں گے، اور کم کھانے سے روحانی پاکیزگی بڑھے گی۔ محنت کش طبقے پر "روزگار ٹیکس" لگتا تھا۔ مزدور جو دن بھر پسینہ بہاتے، انہیں اپنے ہی خون پسینے سے کمائے گئے پیسے کا بڑا حصہ ریاست کو دینا پڑتا۔ اگر کوئی مزدور بیمار ہو جاتا، تو علاج کے لیے الگ ٹیکس دینا پڑتا — اسے "گناہ  دھونے کا ٹیکس" کہا جاتا تھا، گویا بیماری بھی گناہوں کا نتیجہ تھی۔

فرید ایک کسان تھا۔ اس کے پاس پانچ بیگھے زمین تھی، مگر اس زمین پر حکومت نے "زرعی خراج" لگا رکھا تھا۔ اس نے جو فصل اگائی، اس کا آدھا حصہ حکومت کو دینا پڑتا تھا۔ باقی آدھے میں سے بھی "دینداری فنڈ" کاٹ لیا جاتا، جس کے تحت مولوی صاحبان کے مدرسوں اور مجلسِ شریعت کی تعمیرات کے لیے چندہ وصول کیا جاتا تھا۔ فرید کے تین بچے تھے۔ ایک دن جب اس کا چھوٹا بیٹا بیمار ہوا تو وہ حکومتی اسپتال پہنچا۔ اسپتال کے دروازے پر لکھا تھا:

"ہسپتال میں داخلہ صرف ان  لوگوں کے لیے ہے  جو دیندار اور وفادار ہیں۔ باقیوں کے لیے صبر ہی بہترین دوا ہے۔"

فرید نے جیب ٹٹولی تو اس کے پاس صرف پانچ سکے تھے۔ اسپتال کے داروغہ نے اسے حقارت سے دیکھا اور کہا:
"
تیرے پاس دوا کے پیسے نہیں ہیں؟ جا، مسجد میں دعا کرا لے۔ شفا اللہ کے ہاتھ میں ہے، حکومت کے نہیں۔"

اس رات فرید کا بیٹا بھوک اور بخار سے تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ اگلے دن فرید کو زمین بیچ کر "قرضہ ٹیکس" ادا کرنا پڑا، کیونکہ اس کا نام ان کسانوں کی فہرست میں شامل تھا جنہوں نے پچھلے سال کے ٹیکس وقت پر ادا نہیں کیے تھے۔

زبیر بڑھئی تھا۔ وہ روز لکڑی کے تختے کاٹ کر چھوٹے چھوٹے فرنیچر بناتا تھا اور بازار میں بیچتا تھا۔ مگر ہر روز اسے اپنے گاہکوں سے پہلے "کاروباری نیک نیتی ٹیکس" دینا پڑتا تھا۔ یہ ٹیکس مذہبی کونسل نے لگایا تھا تاکہ کاروباری لوگ ایمانداری سے تجارت کریں اور زیادہ منافع نہ کمائیں، کیونکہ زیادہ منافع لالچ پیدا کرتا ہے، اور لالچ گناہ ہے۔ ایک دن زبیر نے سوچا کہ وہ اپنی بیٹی زہرہ کے جہیز کے لیے تھوڑا زیادہ کام کرے گا اور زیادہ کمائے گا۔ اس نے دن رات محنت کی اور ایک خوبصورت پلنگ تیار کیا، جسے دیکھ کر پورا بازار حیران رہ گیا۔ زبیر خوش تھا کہ اب اس کی زہرہ کا جہیز مکمل ہو جائے گا۔ مگر جب وہ پلنگ بازار میں بیچنے گیا، تو مجلسِ شریعت کے اہلکار نے اسے روک کر کہا:
"
یہ پلنگ شاہانہ لگ رہا ہے۔ عام آدمی کو شاہانہ زندگی کا حق نہیں۔ یہ پلنگ صرف امراء خرید سکتے ہیں۔ تونے غرور میں اتنا خوبصورت پلنگ بنایا، اس لیے تجھ پر 'تکبر ٹیکس' لگے گا۔"

زبیر کا دل ٹوٹ گیا۔ وہ پلنگ فروخت نہ کر سکا، اور اس کی زہرہ بغیر جہیز کے بیاہی گئی۔ زبیر کا آخری خواب بھی اسی دن ٹوٹ گیا تھا۔

 القمونیہ کے اسکولوں میں بچوں کو پڑھائی کے نام پر "اطاعت نصاب" پڑھایا جاتا تھا۔ اس نصاب میں حساب، سائنس، اور ادب کی جگہ صرف دو چیزیں ہوتی تھیں:

حکمرانوں کی عظمت کی کہانیاں

مذہبی پیشوا کے فتوے اور فرامین

اگر کوئی بچہ یہ پوچھ لیتا کہ "زمین سورج کے گرد گھومتی ہے یا سورج زمین کے گرد؟" تو استاد اسے کہتا:
"
جو سوال کرے، وہ شیطان کا پیروکار ہے۔"

بچوں کی سوچنے کی صلاحیت ختم ہو رہی تھی۔ ان کے ذہنوں میں سوال ختم کیے جا رہے تھے اور عقیدے کے نام پر غلامی کا بیج بویا جا رہا تھا۔

القمونیہ میں ہر طرف یہ ہی عالم تھا۔ عوام بھوک، غربت، اور جہالت کے کنویں میں پھینکی جا چکی تھی، اور اوپر سے حکمران ان کے اوپر "صبر" کا پانی ڈال کر انہیں خاموش کر رہے تھے۔

مگر… اس تاریکی کے بیچ ایک چنگاری جلنے لگی تھی — علیان، ایک ایسا نوجوان جو اس جبر کے خلاف اٹھنے والا تھا۔

 


No comments:

Post a Comment