یہاں ایک نوجوان تھا، ایاز، جو دوسروں سے مختلف تھا۔ اس کے دل میں علم کی پیاس تھی، وہ ہر چیز پر سوال اٹھاتا، حقیقت کو کھوجنے کی کوشش کرتا۔ اسے کتابوں سے محبت تھی، لیکن القُمونیہ میں کتابیں محض قصے کہانیوں کے لیے تھیں، نئی سوچ پیدا کرنے کے لیے نہیں۔ جو بھی کسی نئی بات پر غور کرتا، اسے بغاوت کا مجرم قرار دے دیا جاتا۔ ایاز جب بھی کوئی نیا سوال کرتا، لوگ اسے خاموش رہنے کی تلقین کرتے۔ مگر وہ خاموش رہنے والا نہ تھا۔
ایک دن، ایاز نے شہر کے بڑے چوک میں کھڑے ہو کر بلند آواز میں سوال کیا
"اگر ہمارا علم مکمل ہے، تو پھر نئے خیالات سے خوفزدہ کیوں ہیں؟"
یہ جملہ ہوا میں گونجا اور ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ شہر کے بزرگ، عالم، اور حاکم سب بھڑک اٹھے۔ ایاز کی آواز ایک زلزلے کی طرح تھی جس نے القُمونیہ کے بنیاد پرست نظریات کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ لوگ سہم گئے، جیسے کسی نے کوئی بڑا جرم کر دیا ہو۔ چند لمحوں میں ہی سپاہیوں نے ایاز کو گھیر لیا اور اسے عدالت میں پیش کر دیا گیا۔
عدالت میں قاضی، جو خود کو عقل و دانش کا مرکز سمجھتا تھا، ایاز کو غصے سے دیکھنے لگا اور بولا:
"یہ بغاوت ہے! سوال کرنے کا حق صرف اُنہیں ہے جو پہلے ہی سب کچھ جانتے ہیں!"
ایاز مسکرایا اور بولا
"اگر واقعی سب کچھ جانتے ہو تو میرے سوال کا جواب دے دو؟"
قاضی اور دربار میں بیٹھے دیگر لوگ ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ سوال کا جواب نہیں دے سکتے، کیونکہ سچ بولنا ان کے مفادات کے خلاف تھا۔ چنانچہ فیصلہ سنایا گیا:
"ایاز کو زندان میں ڈال دو! تاکہ دوسرے لوگ اس کی گستاخی سے سبق سیکھیں!"
ایاز کو جیل میں ڈال دیا گیا، جہاں پہلے ہی کئی ایسے لوگ قید تھے جنہوں نے کبھی اپنے ذہنوں کو آزاد کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہاں بوڑھے، جوان، مرد، عورتیں سب موجود تھے، سب وہی لوگ تھے جنہوں نے کبھی سچ بولنے کی کوشش کی تھی۔ جیل میں ایاز نے ان قیدیوں کی کہانیاں سنیں اور حیران ہوا کہ صدیوں سے القُمونیہ میں یہی ہوتا آیا ہے۔ ہر اس شخص کو قید کر دیا جاتا تھا جو سوال کرتا یا سوچنے کی جرات کرتا۔
القُمونیہ میں بحث و مباحثہ جرم تھا۔ ہر نئی سوچ کو گستاخی اور ملک دشمنی کہا جاتا۔ یہاں سوال کرنے والوں کو سزائیں دی جاتیں، اور جو ترقی کی بات کرتا، اسے جلاوطنی کی دھمکی دی جاتی۔ صدیوں سے یہاں پرانے نظریات کی حکمرانی تھی، اور جو بھی تبدیلی کی بات کرتا، وہ یا تو خاموش کر دیا جاتا یا مار دیا جاتا۔
یہاں کا نظام ایسا تھا کہ لوگ سچ بولنے سے ڈرتے تھے۔ بچے اپنے اساتذہ سے سوال نہیں کرتے تھے، شاگرد اپنے استاد کی باتوں پر آنکھ بند کر کے یقین کر لیتے، اور عوام اپنے حکمرانوں کے ہر حکم کو قبول کر لیتے۔ جو بھی سوچتا، اسے باغی قرار دے دیا جاتا۔
ایاز کی کہانی بھی انہی باغیوں میں شامل ہو گئی۔ مگر وہ خاموش رہنے والا نہ تھا۔ وہ جیل میں بھی لکھتا رہا، اپنے خیالات کو کاغذ پر اتارتا رہا، اور قیدیوں کو سکھاتا رہا کہ سوال کرنا جرم نہیں بلکہ علم کی پہلی سیڑھی ہے۔ اس نے جیل میں موجود قیدیوں کو ایک نئی امید دی، ان کے دل میں سوچنے کی روشنی جگائی۔
مگر وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ تاریخ میں کئی بار ایسا ہوا کہ جن نظریات کو دبانے کی کوشش کی گئی، وہی نظریات مستقبل میں انقلاب لے آئے۔
صدیوں بعد، جب تاریخ کے اوراق پلٹے گئے، تو القُمونیہ وہیں نہیں رکا جہاں اسے روکنے کی کوشش کی گئی تھی۔ زمانہ بدلا، شعور کی لہر آئی، اور نئے خیالات نے جڑ پکڑ لی۔ وہی سوالات، جنہیں گستاخی کہا گیا تھا، آج یونیورسٹیوں میں پڑھائے جا رہے تھے۔ وہی نظریات، جن کے حامل افراد کو غدار کہا گیا تھا، آج ترقی کی بنیاد بن چکے تھے۔
ایاز کی نسل ختم ہو گئی، لیکن اس کے سوال باقی رہے۔ اس کے لکھے گئے کچھ خفیہ نوٹس، جو ایک پرانے کتب خانے میں چھپے رہ گئے تھے، آج کے مفکرین کے لیے علم کے دروازے کھول رہے تھے۔ وہی قاضی جو کسی زمانے میں سوال کرنے والوں کو سزا دیتا تھا، آج تاریخ کے کچرے میں دفن ہو چکا تھا۔ اس کے فتوے، جو اس نے اپنے وقت میں طاقت کے زعم میں جاری کیے تھے، آج کسی لائبریری میں فراموش شدہ کاغذات کی صورت میں پڑے تھے۔
القُمونیہ کے نئے حکمرانوں نے جب پرانی تاریخ کو کھنگالا، تو انہیں احساس ہوا کہ ان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ خوف تھا جو سوالات سے وابستہ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے شہروں میں ایاز جیسے لوگوں کے مجسمے نصب کیے، ان کے خیالات کو زندہ کیا، اور نئی نسل کو یہ سکھایا کہ اگر سوال نہ کیے جائیں، تو زوال یقینی ہوتا ہے۔
آج القُمونیہ میں نئی نسل کھلے عام سوال کرتی ہے، یونیورسٹیوں میں تحقیق ہوتی ہے، اور عوام آزادانہ طور پر اپنے خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مگر اس آزادی کی قیمت ان لوگوں نے چکائی جو سوالوں کی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔
یہی تاریخ کی سب سے بڑی حقیقت ہے کہ دنیا میں ارتقا کو دوام حاصل ہے۔ تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، اور جو چیزیں ایک دور میں مقدس سمجھی جاتی ہیں، وقت کے ساتھ بے معنی ثابت ہو جاتی ہیں۔ القُمونیہ کا المیہ یہی تھا کہ اس نے سوالوں کو مارنے کی کوشش کی، لیکن سوال کبھی نہیں مرتے۔
علم کی پیاس رکھنے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے، اور ان کے سوال ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ سوال ہی وہ طاقت ہے جو اندھیرے میں روشنی لاتی ہے، جو زنجیریں توڑتی ہے، اور جو ایک غلام قوم کو آزاد قوم بناتی ہے۔
ایاز مر گیا، مگر اس کے خیالات زندہ ہیں، اس کی سوچ زندہ ہے، اور سب سے بڑھ کر اس کا سوال زندہ ہے:

No comments:
Post a Comment