باب بارہواں: بغاوت کی آگ اور قربانیوں کا امتحان
القمونیہ کی ہوائیں بدل رہی تھیں۔ علیان کی قیادت میں عوام نے دھیرے دھیرے اپنی خاموشی کو توڑنا شروع کر دیا تھا۔ نایاب اور اس کی بہادر عورتوں کا گروہ اندھیرے میں روشنی کی ایک ایسی کرن بن چکا تھا، جسے روکنا اب ممکن نہیں تھا۔ مگر جنرل عتیق اور مولوی سراج یہ تبدیلی بھانپ چکے تھے۔ انہوں نے ایک خوفناک فیصلہ کیا — علیان اور اس کے حامیوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہوگا۔
صبح سویرے القمونیہ کی گلیوں میں ڈھول بجائے گئے، اور ایک نیا فرمان سنایا گیا:
"جو علیان کا ساتھ دے گا، اسے باغی سمجھا جائے گا اور موت کی سزا دی جائے گی۔ ہر بستی سے علیان کے حامیوں کی لسٹیں تیار کرو۔ عورتیں جو اس بغاوت میں شامل ہیں، انہیں زندہ جلا دیا جائے گا تاکہ دوسروں کے لیے عبرت بنیں!"
یہ اعلان سنتے ہی شہر پر خوف کے سائے گہرے ہو گئے۔ لوگوں کے دل دہل گئے، مگر اس خوف کے سائے کے پیچھے ایک اور چنگاری سلگ رہی تھی — عوام کا غصہ۔
نایاب نے علیان کے زخموں پر مرہم لگاتے ہوئے کہا:
"علیان،
اب مزید چھپنے کا وقت نہیں رہا۔ ہمیں کھل کر سامنے آنا ہوگا۔"
علیان نے گہری سانس لی اور کہا:
"ہاں
نایاب، اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی آواز کو چھتوں سے بلند کریں۔ ہم غلام پیدا نہیں
ہوئے تھے، نہ غلام مرنے والے ہیں۔"
علیان نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا — مزدور، کسان، نوجوان، اور نایاب کے ساتھ وہ عورتیں جو اب خوف سے آزاد ہو چکی تھیں۔ سب کی آنکھوں میں ایک نئی چمک تھی۔
"ہماری جنگ صرف جنرل عتیق یا مولوی سراج سے نہیں، یہ جنگ اس ظالم سوچ کے خلاف ہے، جو ہمیں صدیوں سے جکڑتی آئی ہے۔ اگر ہم آج نہ لڑے تو ہماری آنے والی نسلیں بھی یہی زنجیریں پہنے پیدا ہوں گی۔ کیا ہم یہ ظلم اپنی اولاد کو ورثے میں دیں گے؟"
سب نے یک زبان ہو کر کہا:
"نہیں!"
رات کے وقت نایاب اور علیان چھت پر بیٹھے تھے۔ ہوا میں خنکی تھی، مگر نایاب کے دل میں ایک عجیب سی گرمی تھی — شاید یہ محبت کی حدت تھی یا جنگ سے پہلے کا بے نام سا خوف۔
نایاب نے آہستہ سے کہا:
"علیان،
اگر کل ہم نہ بچے تو کیا ہمارا خواب زندہ رہے گا؟"
علیان نے مسکراتے ہوئے نایاب کا ہاتھ تھاما:
"محبتیں
اور خواب کبھی نہیں مرتے، نایاب۔ اگر ہم نہ بھی رہے تو ہماری یہ جنگ زندہ رہے گی، اور
ایک دن القمونیہ ضرور آزاد ہوگا۔"
نایاب نے نم آنکھوں سے مسکرا کر کہا:
"علیان،
اگر میں نہ رہی تو میری یاد کو اپنی طاقت بنانا، کمزوری نہیں۔"
صبح کا سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی جنرل عتیق کے سپاہی گلیوں میں پھیل گئے۔ علیان کے ٹھکانے کا پتہ لگ چکا تھا — ایک غدار نے چند سکوں کے عوض راز بیچ دیا تھا۔
سپاہیوں نے علیان اور اس کے ساتھیوں کو گھیر لیا۔ تلواریں نکال لی گئیں، تیر کمانوں میں چڑھائے گئے۔
علیان نے بلند آواز میں کہا:
"ہمیں
غلام بنانے والے خود سب سے بڑے غلام ہیں — اقتدار کے، طاقت کے، اور خوف کے! ہم نہ
جھکیں گے، نہ رکیں گے!"
جنگ شروع ہو گئی۔ گلیاں خون سے لال ہو گئیں۔ علیان کے ساتھی بہادری سے لڑے، مگر تعداد میں کم تھے۔
نایاب نے اپنے گروہ کی عورتوں کو ایک جگہ اکٹھا کیا:
"آج
ہم صرف علیان کا ساتھ دینے نہیں، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کو آزاد کرنے لڑ رہے
ہیں۔ اگر ہم آج ڈر گئے، تو ہماری بیٹیاں بھی غلام پیدا ہوں گی۔"
نایاب نے ایک جلتا ہوا مشعل اٹھایا اور آگے بڑھ گئی۔ اس نے
دشمن کی بارود کے ذخیرے کی طرف دیکھا اور آنکھیں بند کر کے کہا:
"القمونیہ
کی آزادی کے لیے، علیان کے خواب کے لیے، میں قربانی دیتی ہوں!"
نایاب نے مشعل بارود پر پھینک دی۔ ایک زوردار دھماکہ ہوا، دشمن کے کئی سپاہی مارے گئے، مگر نایاب خود بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ گئی۔
علیان نے نایاب کو گرتے دیکھا، اور جیسے اس کی روح بھی اس کے ساتھ گر گئی ہو۔
"نایاب!!"
علیان نے آنکھوں میں آنسو اور دل میں آگ لیے آخری بار تلوار
اٹھائی۔ اس نے جنرل عتیق کو للکارا:
"عتیق،
یہ تمہاری آخری رات ہے! ظلم کا سورج ہمیشہ کے لیے ڈوبنے والا ہے!"
No comments:
Post a Comment