رات کا اندھیرا، آزادی کی خوشبو اور ستاروں کی روشنی — علیان، حارث اور رفیق مٹی میں لت پت، مگر دل میں امید کا چراغ جلائے، سرنگ سے باہر نکل آئے تھے۔ مگر یہ آزادی عارضی تھی۔ انہیں معلوم تھا کہ اب پورا القمونیہ ان کی تلاش میں ہو گا، اور واپسی کا راستہ خطرے سے بھرا ہو گا۔
علیان کے دل میں ایک ہی بات تھی: "یہ جنگ میں اکیلا نہیں لڑ سکتا۔ عوام کو بیدار کرنا ہو گا، اور اس بار عورتوں کو بھی اس تحریک کا حصہ بنانا ہو گا۔"
علیان، حارث اور رفیق چھپتے چھپاتے شہر کے کنارے ایک پرانے مٹی کے گھر میں پہنچے۔ یہ گھر بی بی زہرہ کا تھا — ایک بیوہ عورت جو برسوں سے خاموشی سے حکومت کے خلاف کام کر رہی تھی۔ اس کا بیٹا بھی فوج میں تھا، مگر وہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر شہید کر دیا گیا تھا۔
بی بی زہرہ نے علیان کو
دیکھتے ہی کہا:
"مجھے
پتا تھا، ایک نہ ایک دن کوئی جوان کھڑا ہو
گا جو اس سڑے ہوئے نظام کو جڑ سے اکھاڑ
پھینکے گا۔ میری چھت تمہاری ہے بیٹا، مگر یہ جنگ آسان نہیں ہو گی۔"
علیان نے زہرہ کے جھریوں
بھرے چہرے میں ماں کا عکس دیکھا۔ اس نے سر جھکا کر کہا:
"ماں،
اگر ہم نہ لڑے، تو ہماری آنے والی نسلیں غلام رہیں گی۔ مجھے آپ کا ساتھ چاہیے۔"
بی بی زہرہ نے علیان کو بتایا کہ شہر میں بہت سی عورتیں ہیں جو اندر ہی اندر اس ظلم سے تنگ آ چکی ہیں۔ ان کے شوہر، بھائی اور بیٹے اس نظام کے ہاتھوں مارے جا چکے تھے، مگر وہ خاموش تھیں — کیونکہ انہیں بتایا گیا تھا کہ "عورت کا کام برداشت کرنا ہے، سوال کرنا نہیں"۔
زہرہ نے علیان کو "بی
بی سلیمہ" سے
ملوایا — ایک مڈل کلاس گھرانے کی پڑھی لکھی عورت، جس کا شوہر "ملاؤں کے خلاف
بغاوت" کے الزام میں سولی پر چڑھا دیا گیا تھا۔ بی بی سلیمہ نے آنکھوں میں
آنسو لیے کہا:
"علیان
بھائی، اگر ہم عورتیں اب بھی نہ اٹھیں
تو یہ ظلم کبھی ختم نہیں ہو گا۔ ہمیں اپنے بچوں کے لیے جنگ لڑنی ہو گی۔"
علیان، حارث، رفیق، بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ نے مل کر فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں کو آہستہ آہستہ بیدار کریں گے۔ ان کا پہلا قدم تھا "سچ کا منشور" — ایک خفیہ کتابچہ، جس میں لکھا گیا:
"خدا نے انسان کو آزاد پیدا کیا، اسے غلام بنانے کا حق کسی کو نہیں۔"
"مذہب محبت، اخلاق اور کردارسکھانے کے لیے ہے، حکومت بنانے کے لیے نہیں۔"
"جو حکمران عوام سے سوال چھین لیتے ہیں، وہ دراصل خدا کے دشمن ہوتے ہیں۔"
بی بی زہرہ اور بی بی سلیمہ نے اس منشور کو خواتین میں پھیلانا شروع کیا۔ بازار میں جاتی عورتیں، گھر گھر کام کرنے والی خادمائیں، اور مدرسے میں پڑھنے والی بچیاں — سب تک یہ پیغام پہنچایا گیا۔
ایک دن علیان نے بازار
میں ایک حیرت انگیز منظر دیکھا۔ ایک نوجوان لڑکی "نورین"
— جو ایک مذہبی پیشوا کی بیٹی تھی — سرِعام بازار میں
کھڑی ہو گئی اور اونچی آواز میں بولی:
"میرے
باپ نے مجھ سے پڑھنے کا حق چھین لیا، مگر میں غلام نہیں بنوں گی! خدا نے مجھے عقل
دی ہے، میں اس کا استعمال کروں گی!"
یہ منظر دیکھ کر لوگ ہکے
بکے رہ گئے۔ ملاؤں نے نورین کو پکڑنے کا حکم دیا، مگر بازار کی عورتیں اس کے آگے
ڈھال بن گئیں۔ بی بی زہرہ نے آگے بڑھ کر کہا:
"آج
اگر نورین کو پکڑا گیا، تو ہمیں بھی پکڑنا ہو گا!"
یہ پہلا موقع تھا جب عورتوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی، اور علیان نے محسوس کیا کہ انقلاب کی پہلی چنگاری روشن ہو چکی ہے۔
حکمرانوں کو جب پتا چلا کہ عورتیں بھی بغاوت میں شامل ہو رہی ہیں، تو ان میں بوکھلاہٹ پھیل گئی۔ فوج نے جگہ جگہ چھاپے مارنے شروع کیے۔ بی بی زہرہ کے گھر کو آگ لگا دی گئی، مگر وہ پہلے ہی علیان اور دوسروں کو محفوظ مقام پر پہنچا چکی تھیں۔
مذہبی پیشواؤں نے فتوے
دینا شروع کیے:
"جو
اس تحریک کا ساتھ دے گا، وہ کافر ہے!"
"عورت
کا کام گھر میں رہنا ہے، سیاست میں آنا اس کے ایمان کو برباد کر دے گا!"
مگر عوام میں اب خوف کم
اور غصہ زیادہ تھا۔ عورتیں، بچے، مرد — سب نے ان فتووں کو رد کرنا شروع کر دیا۔
علیان کو احساس ہوا کہ ظلم کی دیواریں لرزنے لگی ہیں۔ رات کے اندھیرے میں علیان نے آسمان کی
طرف دیکھا اور سوچا:
"اگر
عورتیں اٹھ کھڑی ہوئیں، تو یہ انقلاب کوئی نہیں روک سکتا۔"
بی بی زہرہ نے علیان کے
کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا:
"بیٹا،
روشنی جب پھیلتی ہے تو اندھیرا خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ بس یہ چراغ بجھنے نہ دینا۔"
No comments:
Post a Comment