باب چودہواں: عدالت کا کھیل اور علیان کے خلاف غداری کا مقدمہ
القمونیہ کے بازاروں میں علیان کا نام اب ایک گالی بنا دیا گیا تھا۔ اخبارات میں روز نئی سرخیاں لگتی تھیں:
"علیان: غدار، فحاشی کا سرغنہ، دشمن کا ایجنٹ!"
"نایاب
کی تحریک، عورتوں کو بے راہ روی کی طرف لے جانے کی کوشش!"
"مولوی
سراج کا فتویٰ: علیان اور اس کے ساتھیوں کا خون حلال!"
عوام کو ایسا محسوس ہونے لگا تھا جیسے علیان نے واقعی انہیں دھوکہ دیا ہے۔ لوگ اپنی بھوک، غربت، اور غلامی کو بھول کر اب علیان کو اپنا سب سے بڑا دشمن ماننے لگے تھے۔
ایک رات، جب علیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ خفیہ میٹنگ کر رہا تھا، دروازے پر زور دار دھماکہ ہوا۔ فوجی اندر گھس آئے اور علیان کو زنجیروں میں جکڑ لیا گیا۔
"علیان بن زاہد، تمہیں ریاست کے خلاف بغاوت، مذہب دشمنی، اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے!"
فاروق اور باقی ساتھیوں نے مزاحمت کی کوشش کی، مگر فوجیوں نے
انہیں بھی مار پیٹ کر گرفتار کر لیا۔ علیان کے چہرے پر کوئی خوف نہیں تھا۔ اس نے
مسکرا کر کہا:
"آج
میری ہار نہیں، تمہاری جیت بھی نہیں! یہ جنگ میرے مرنے سے ختم نہیں ہوگی۔"
علیان کو ایک مخصوص عدالت میں پیش کیا گیا، جس کا جج پہلے ہی جنرل عتیق اور مولوی سراج کے اشاروں پر چلنے والا تھا۔ عدالت کے باہر ہزاروں لوگ جمع تھے۔ کچھ بددعائیں دے رہے تھے، کچھ آنسو بہا رہے تھے، اور کچھ خاموشی سے دیکھ رہے تھے — جیسے انہیں خود پر شرم آ رہی ہو۔
جج نے گرجدار آواز میں کہا:
"علیان
بن زاہد، تم پر ریاست کے خلاف بغاوت، مذہب دشمنی، اور عوام کو گمراہ کرنے کے تین
بڑے الزامات ہیں۔ تمہارے خلاف گواہ بھی موجود ہیں۔ کیا تم اپنے دفاع میں کچھ کہنا
چاہتے ہو؟"
علیان نے زنجیروں میں جکڑے ہاتھوں کے ساتھ سر اٹھایا:
"ہاں،
میں کہنا چاہتا ہوں! میں نے بغاوت نہیں کی، میں نے آزادی مانگی ہے۔ میں نے مذہب کو
بدنام نہیں کیا، میں نے مذہب کے نام پر ہونے والے ظلم کو بے نقاب کیا ہے۔ میں نے
عوام کو گمراہ نہیں کیا، میں نے ان کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ وہ غلامی میں
جی رہے ہیں! اگر یہ جرم ہے، تو میں ہر جرم قبول کرتا ہوں!"
عدالت میں ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، مگر جج نے غصے سے
دستک دی:
"تمہیں
اپنی جان پیاری نہیں؟"
علیان نے مسکرا کر کہا:
"جان
سے زیادہ مجھے اپنی قوم پیاری ہے۔"
پھر گواہان پیش کیے گئے۔ پہلا گواہ مراد حیات تھا:
"میں نے خود علیان کو غیر ملکی ایجنٹوں سے پیسے لیتے دیکھا ہے۔ یہ شخص ہماری ریاست کو بیچنے کی کوشش کر رہا تھا!"
پھر شاہنواز رشید نے کھڑے ہو کر کہا:
"علیان
کی بغاوت نے عوام میں بدامنی پیدا کی ہے۔ اس نے عورتوں کو گمراہ کیا اور ہماری
روایات کو پامال کیا۔ یہ شخص ملک کا غدار ہے!"
آخر میں مولوی سراج نے فتویٰ دیتے ہوئے کہا:
"علیان
اسلام دشمن ہے۔ اس نے عورتوں کو بے حیائی سکھائی اور ریاست کو کافر بنانے کی کوشش
کی۔ ایسے شخص کا قتل جائز ہے!"
علیان نے سر اٹھایا اور عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
"مولوی
سراج، جب میں نے نایاب کو کھڑا ہوتے دیکھا تھا، تو اس کی آنکھوں میں خوف نہیں تھا،
امید تھی! اگر عورتیں ظلم کے خلاف کھڑی ہونا شروع ہو گئیں، تو تم جیسے ظالموں کی
سلطنت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکے گی۔ نایاب مٹی میں دفن ہو گئی، مگر اس کا خواب
زندہ ہے!"
عدالت میں بیٹھی کچھ عورتوں کے چہروں پر آنسو آ گئے، مگر کسی نے کچھ نہیں کہا۔ سب خوف کے سائے میں دبے بیٹھے تھے۔
آخرکار جج نے فیصلہ سنایا:
"علیان
بن زاہد کو سزائے موت دی جاتی ہے! اسے عوام کے سامنے پھانسی دی جائے گی تاکہ کوئی
اور اس کی راہ پر نہ چلے!"
عدالت میں شور مچ گیا، مگر علیان نے کوئی احتجاج نہ کیا۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی امید تھی — جیسے اسے یقین تھا کہ وہ مرے گا، مگر اس کا خواب زندہ رہے گا۔
عدالت کے بعد مولوی سراج، جنرل عتیق، مراد حیات اور شاہنواز رشید ایک خفیہ کمرے میں بیٹھے تھے۔
"اب علیان کا قصہ ختم،" مولوی سراج نے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ
کہا۔
"نہیں،" جنرل عتیق نے سگار سلگاتے ہوئے کہا، "یہ تو صرف شروعات ہے۔ عوام کو غلام
رکھنے کے لیے ہمیں ایک نیا دشمن چاہیے ہوگا۔ اگر علیان نہ ہوا، تو کوئی اور دشمن
ڈھونڈ لیں گے!"
No comments:
Post a Comment