Visitors

Tuesday, March 18, 2025

باب اٹھارہواں: آزادی کی آخری للکار

 

باب اٹھارہواں: آزادی کی آخری للکار

رات گہری تھی، مگر القمونیہ کے دل میں ایک نیا سورج طلوع ہونے والا تھا۔ زرمینہ اور ریحان نے اپنی آخری جنگ کا منصوبہ مکمل کر لیا تھا۔ اب وقت آ گیا تھا کہ وہ عوام کو بیدار کریں، خوف کے اندھیروں کو چیر کر روشنی کی طرف بڑھیں — چاہے قیمت کچھ بھی ہو!

زرمینہ اور ریحان نے شہر کے مرکز میں موجود قدیم "آزادی کی گھنٹی" کا انتخاب کیا — وہی گھنٹی جو کبھی القمونیہ کی آزادی کے جشن میں بجائی جاتی تھی، مگر جنرل عتیق نے اسے قید کر دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ یہ گھنٹی دوبارہ نہ بجے۔

زرمینہ نے کہا، "اگر یہ گھنٹی بجی، تو پورا شہر سمجھے گا کہ بغاوت کا وقت آ گیا ہے۔ یہ ہمارے انقلاب کا اشارہ ہو گا!"

ریحان نے مسکرا کر کہا، "تو پھر ہم اسے ضرور بجائیں گے۔ اور اس بار یہ گھنٹی ظلم کے خاتمے اور آزادی کی ابتداء کا اعلان کرے گی!"

اگلے دن، شہر بھر میں فوجیوں کی گشت بڑھا دی گئی۔ مولوی سراج نے ایک اور فتویٰ دے دیا:

"جو زرمینہ کا ساتھ دے گا، وہ دین اور ریاست دونوں کا غدار ہے۔ اسے فوری طور پر قتل کر دیا جائے!"

شہر کے چوراہوں  پر  زرمینہ اور ریحان کی تصاویر کے نیچے "مطلوب" کے بڑے بڑے الفاظ لگا دیے گئے۔ مگر حیرت انگیز طور پر عوام میں اب وہ خوف باقی نہیں رہا تھا جو پہلے تھا۔

بازاروں میں سرگوشیاں ہونے لگیں:
"
کیا واقعی زرمینہ گھنٹی بجانے والی ہے؟"
"
اگر وہ گھنٹی بجی تو کیا ہم واقعی آزاد ہو جائیں گے؟"

زرمینہ نے ریحان کو آخری پیغام دیا:

"ریحان، اگر میں نہ رہی، تو یہ مشن مکمل کرنا تمہاری ذمہ داری ہوگی۔ یہ جنگ ہماری زندگی سے بڑی ہے!"

ریحان نے زرمینہ کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا:
"
میں وعدہ کرتا ہوں، زرمینہ — یہ جنگ جیتیں گے، چاہے میری جان چلی جائے!"

ریحان رات کے اندھیرے میں قلعے کی طرف نکل پڑا، جہاں آزادی کی گھنٹی قید تھی۔

زرمینہ نے عورتوں اور بچوں کو اکٹھا کیا۔ اس نے ان سب کے سامنے کھڑے ہو کر بلند آواز میں کہا:

"میرے بہنو! میرے بھائیو! ہم صدیوں سے غلامی میں جی رہے ہیں۔ ہمیں ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبایا گیا، ہمارے بچوں کو وہی پڑھایا گیا جو انہیں غلام بنائے رکھے۔ ہمیں مذہب کے نام پر ڈرایا گیا — مگر یہ مذہب نہیں ہے! یہ صرف ان کا بنایا ہوا نظام ہے تاکہ ہم سر نہ اٹھائیں۔ آج اگر ہم نہیں اٹھے تو ہماری آنے والی نسلیں بھی اندھیرے میں رہیں گی! اگر آزادی چاہتے ہو تو میرے ساتھ آؤ — موت سے مت ڈرو، غلامی سے ڈرو!"

ایک لمحے کے لیے خاموشی چھا گئی، پھر ایک جوان عورت نے نعرہ لگایا:

"زرمینہ زندہ باد!"

پھر یہ نعرہ پورے مجمع میں گونجنے لگا، اور شہر کے ہر کونے تک پھیل گیا:

"زرمینہ زندہ باد! آزادی زندہ باد!"

رات کے آخری پہر میں، ریحان نے قلعے کی دیواریں پار کر لیں۔ گھنٹی کے کمرے میں داخل ہوتے ہی ایک فوجی اس کے سامنے آ گیا۔ دونوں کے درمیان خوفناک لڑائی ہوئی — ریحان زخمی ہو گیا، مگر اس نے ہار نہیں مانی۔

آخری لمحے میں، ریحان نے اپنی بچی کھچی طاقت جمع کی اور گھنٹی کی رسی کو کھینچ لیا۔

"گھنٹ...گھنٹ... گھنٹ..."

شہر میں گونجتی آواز نے سوتی ہوئی بستی کو جھنجھوڑ دیا۔

"گھنٹی بج گئی! زرمینہ نے وعدہ پورا کر دیا!" عوام چیخنے لگے۔

مولوی سراج اور جنرل عتیق کے سپاہی گھبرا گئے۔ انہوں نے عوام پر گولیاں برسانا شروع کر دیں، مگر اس بار عوام پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔

زرمینہ نے خدیجہ بیگم، فاطمہ اور دوسری عورتوں کے ساتھ مل کر فوج کے خلاف پہلی صف سنبھال لی۔ عورتیں پتھروں اور ڈنڈوں سے لڑ رہی تھیں، مگر ان کے چہروں پر خوف کے بجائے جرات نظر آ رہی تھی۔

مولوی سراج نے آخری ہتھیار نکالا:

"یہ عورتیں کافر ہیں! ان سے لڑنا  جہاد ہے!"

مگر اس بار عوام نے اس کے فتویٰ کو مسترد کر دیا۔ ایک نوجوان لڑکے نے آگے بڑھ کر مولوی سراج کو للکارا:

"تم نے دین کو بیچا ہے! اب ہم تمہارے جھوٹے فتوے نہیں سنیں گے!"

جنرل عتیق نے اپنے محل سے نکلنے کی کوشش کی، مگر عوام نے اسے گھیر لیا۔

ریحان، جو زخموں سے چور تھا، لڑکھڑاتے ہوئے آیا اور بولا:
"
عتیق! یہ عوام کے خون کا قرض ہے — اب وقت ہے حساب کا!"

عوام نے جنرل عتیق کو پکڑ لیا اور زرمینہ کے قدموں میں لا پھینکا۔

زرمینہ نے سرد آواز میں کہا:
"
یہ ہے وہ شخص جس نے ہمیں غلام بنایا، مگر آج ہم آزاد ہیں!"

صبح جب سورج نکلا، تو القمونیہ میں ایک نئی زندگی نے جنم لیا تھا۔ لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے تھے، بچے ہنس رہے تھے، اور عورتیں فخر سے اپنی بیٹیوں کو آزادی کے قصے سنا رہی تھیں۔

زرمینہ نے آخری بار علیان کی تصویر کو دیکھا اور کہا:
"
ہم جیت گئے، علیان... ہم جیت گئے!"

 

 

 

No comments:

Post a Comment