اُسے یہ گُمان حسیں
اُس سا نہیں کوئی
ہمیں یہ یقین، کوئی
ہم سا ہو سامنے آئے
وہ اپنی نظر میں
خورشید و ماہتاب ہے
مگر دیکھے جو ہمیں،
وہ دل نا سنبھال پائے
غرورِ حُسن میں بد
مست ہے آئینے کے سنگ
مگر یہ آئینہ بھی اُس
کے گھمنڈ کو توڑ جائے
ہمارا ظرف کہ ہر زخم
پر ہنستے ہی رہے
وہ ایک درد دے، اور
تماشا دیکھنے آئے
عجب ہے اُس بے وفا کی
چاہت میں
جو پاس ہو تو ستم،
دُور ہو تو رُلائے
ذکر پہ ہمارے ہنستا
ہے محفلوں وہ
مگر جو تنہا ہو، آنکھ
اشک ہی بہائے
اگر وہ چاہے تو دنیا
خرید لے لیکن
خزینے محبتوں سے ہاتھ
خالی جائے
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد
رضا

No comments:
Post a Comment