کہتے ہیں نکاح کے بعد
عورت محفوظ ہو گئی
مگر یہ کیسا تحفظ ہے؟
جہاں ہر پل دھوکا، ہر
پل خوف
طلاق کا سایہ، ہر
لمحہ اندیشے کا زہر
بس ایک لفظ کہنے کی
دیر
"میں تمہیں چھوڑ دوں
گا" کی تلوار
یہ کیسا رشتہ ہے
جہاں کان بھرنے کا ڈر
ہے
جہاں محبت کی جگہ
بے یقینی کا پہرہ ہے
باپ کے گھر کی بات
اور تھی
وہاں کے در و دیوار
میں سکون تھا
باپ کی محبت کا سایہ
تھا
جو کبھی بوجھ نہیں
سمجھتا
کبھی یہ نہیں کہتا کہ
تم پرائی ہو
نکاح کے بعد محافظ
بننا
ضروری نہیں ہر مرد
جانتا ہو
ضروری نہیں ہر رشتہ
تحفظ دے
کچھ لوگ ہیں جو
سمجھتے ہیں
تحفظ کا خواب دینا،
حقیقت بنانا
بس اُنہی کو آتا ہے
یہ فن
شاید ہر نکاح میں
ہر عورت کے حصے میں
یہ تحفظ نہ آئے
ہر شوہر محافظ نہیں
ہوتا
ہر دل میں محبت نہیں
بستی
یہ تحفظ کا خواب
کب پورا ہوگا؟
کب عورت نکاح کے بعد
بے خوف زندگی جیے گی؟
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment