میں گوشت کا ایک
لوتھڑا ہوں
جس کی پہچان صرف
جسمانی اعضاء ہیں۔
میری روح، میرے خواب،
میری خواہشیں
سب جیسے کوئی جرم
ہیں، کوئی خطا ہیں۔
جب میں پیدا ہوئی تو
کوئی خوش نہیں تھا،
باپ کے چہرے کی
شکنیں، ماں کی خاموشی
میرے وجود کو گواہی
دے گئیں
کہ میں بس ایک بوجھ
ہوں، ایک قرض ہوں۔
میری چال پر نظر،
میری آواز پر روک
میرے خوابوں پر قفل،
میرے قدموں میں زنجیر
مجھے سکھایا گیا کہ
میں لڑکی ہوں
اور لڑکی کا کام بس
دبنا ہے، سہنا ہے۔
پھر ایک دن
بنا سوال، بنا جواب
مجھے ایک اور قید
خانے میں بھیج دیا گیا
”قبول ہے“ کی زنجیروں
میں جکڑ کر
ایک انجان شخص کے
حوالے کر دیا گیا۔
رات کے اندھیروں میں
میرے وجود کا مطلب
سمجھایا گیا
میرے جسم کو تسکین کا
ذریعہ بنا دیا گیا
میری چیخیں، میرے
آنسو
اس کے سکون کے لیے
قربان ہو گئے
اور میں ایک بے حس
لاش میں بدلتی گئی۔
دن میں میں روبوٹ بنی
چولہے کے دھوئیں میں
گم
جھاڑو کے شور میں ڈھل
رات کو ایک ٹھنڈی لاش
کی مانند
اس کے جذبات کا بوجھ
اٹھاتی رہی۔
مجھے کہا گیا
کہ یہی عورت کی قسمت
ہے۔
ماں نے کہا،
"بیٹی، صبر کرو"
باپ نے کہا،
"یہی تمہارا گھر ہے"
بھائی نے کہا،
"یہی ہماری عزت ہے"
مگر کسی نے نہ پوچھا
کہ میری خواہش کہاں
ہے؟
میری روح کہاں ہے؟
میرے وجود کو عزت کا
استعارہ بنا دیا گیا
باپ کی غیرت، بھائی
کی انا،
شوہر کی مردانگی،
بیٹے کا فخر
سب مجھ سے جُڑے رہے،
مگر میری ذات کہاں
تھی؟
میں سوچتی ہوں
کیا میں انسان ہوں؟
یا صرف ایک جسم
جسے دوسروں کی تسکین
اور انا کے لیے بنایا گیا؟
میرے خوابوں کا کیا
ہوا؟
میرے خواب، جو کبھی
قوسِ قزح کی مانند تھے
اب وہ دھندلے سایے بن
چکے ہیں
اور میں،
بس ایک سایہ ہوں
زندگی کے کونے میں
دبکی ہوئی۔
کاش کوئی سمجھے
کہ میں بھی ایک انسان
ہوں
ایک دل، ایک روح، ایک
خواب رکھنے والی۔
میں گوشت کا لوتھڑا
نہیں،
میں ایک جیتی جاگتی، سانس
لیتی عورت ہوں۔
میرے وجود کو صرف عزت
کا معیار نہ بناؤ
بلکہ میری ذات کو
جینے کا حق دو۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment