ہم،
بس حادثاتی چنگاریاں،
ایک بے کراں کائنات
کے سینے میں،
جہاں وقت کی لامتناہی
گہرائیاں
ہماری چیخوں کو نگل
جاتی ہیں۔
یہ وجود،
یہ لمحے،
یہ سانسوں کی دھڑکن،
سب کچھ ایک دھوکہ ہے
یا شاید ایک معجزہ،
کون جانے؟
کائنات کو کیا پرواہ،
کہ ہم بیکٹیریا ہیں
یا انسان،
ہم مٹ جائیں،
یا جگمگائیں،
اُس کے لیے سب ایک سا
ہے۔
مگر جب تک ہم ہیں،
ہم بھڑکیں گے،
شوق سے،
جذبوں کے الاؤ میں،
خواہشوں کی آگ میں،
خوابوں کے شعلوں میں،
زندگی کے ہر لمحے کو
جلائیں گے۔
یہ بھڑکنا،
یہ جلنا،
شاید ہمارا واحد مقدر
ہے،
یا شاید ہماری آخری
آزادی۔
تو آؤ،
ہم شوق سے بھڑکیں،
بُجھنے سے پہلے،
اپنی روشنی سے
اندھیروں کو گواہ بنا
دیں۔

No comments:
Post a Comment