ہر طرف سموگ چھا گیا
ہے
یہ دھواں صرف فضا میں
نہیں
لوگوں کے دماغوں میں
بھی چھایا ہے
دلوں پر بھی یہ کہر
جم گیا ہے
چاہتوں کی روشنی
دھندلا گئی ہے
محبت کی گرمائش سرد
پڑ گئی ہے
خلوص کی خوشبو ماند
پڑ چکی ہے
زندگی کے ہر رنگ پر
سموگ چھا چکا ہے
یہ جو باہر فضا میں
گرد ہے
درحقیقت دلوں کی
آلودگی کا عکس ہے
جس دن ہم دلوں کو
شفاف کریں گے
محبت اور چاہت سے پھر
سے بھر دیں گے
اس دن یہ سموگ بھی
چھٹ جائے گا
فضا کا ہر بادل کافور
ہو جائے گا
کیونکہ جب دل پاکیزہ
اور صاف ہوں گے
تبھی یہ فضا بھی روشن
و خوشگوار ہوگی
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment