Visitors

Friday, February 21, 2025

سموگ

 


ہر طرف سموگ چھا گیا ہے
یہ دھواں صرف فضا میں نہیں
لوگوں کے دماغوں میں بھی چھایا ہے
دلوں پر بھی یہ کہر جم گیا ہے

چاہتوں کی روشنی دھندلا گئی ہے
محبت کی گرمائش سرد پڑ گئی ہے
خلوص کی خوشبو ماند پڑ چکی ہے
زندگی کے ہر رنگ پر سموگ چھا چکا ہے

یہ جو باہر فضا میں گرد ہے
درحقیقت دلوں کی آلودگی کا عکس ہے
جس دن ہم دلوں کو شفاف کریں گے
محبت اور چاہت سے پھر سے بھر دیں گے

اس دن یہ سموگ بھی چھٹ جائے گا
فضا کا ہر بادل کافور ہو جائے گا
کیونکہ جب دل پاکیزہ اور صاف ہوں گے
تبھی یہ فضا بھی روشن و خوشگوار ہوگی

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment