پھول آپس میں نہیں
الجھتے،
نہ رنگ کا غرور کرتے
ہیں،
نہ خوشبو کی برتری
جتاتے ہیں،
نہ ایک دوسرے کی
روشنی چھینتے ہیں۔
یہ بس کھلتے ہیں،
اپنی مٹی میں، اپنی
جگہ پر،
اپنے موسم کی نرم
آغوش میں،
اپنی دھوپ، اپنی
چھاؤں میں۔
یہ ہوا کے سنگ جھومتے
ہیں،
بارش میں بھیگ کر
مسکراتے ہیں،
اپنی خوشبو بانٹ کر
خوش ہوتے ہیں،
بغیر یہ سوچے کہ کون
زیادہ خوبصورت ہے۔
مگر ہم؟
ہم دوسروں سے آگے
نکلنے کی دوڑ میں،
اپنا رنگ، اپنی خوشبو
بھول جاتے ہیں،
مقابلے کی دھوپ میں،
اپنی نرمی کھو دیتے
ہیں۔
کاش ہم بھی سیکھ
لیتے،
پھولوں سے کھلنے کا
ہنر،
بغیر جیتنے کی خواہش
کے،
بغیر دوسروں کو ہرانے
کی فکر کے،
بس اپنی ذات کی خوشبو
بکھیرنے کا ہنر!
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد
رضا

No comments:
Post a Comment