Visitors

Friday, February 21, 2025

استاد اور زندگی

 


  یہ لازم نہیں،
کہ استاد ہوں تو خوشیاں چھوڑ دوں،
کتابوں کے بوجھ تلے دب جاؤں،
زندگی کے رنگوں کو ماند کر دوں،
یا خوابوں کے پنکھ کتر دوں۔

میں بھی موسیقی کی دھن میں بہہ سکتا ہوں،
کرکٹ کے میدان میں دوڑ سکتا ہوں،
دوستوں کی محفل میں قہقہے لگا سکتا ہوں،
یا کوئی محبت کی داستان سنا سکتا ہوں۔

میں اپنی مرضی کا لباس پہنوں،
اپنے بالوں کو نئی تراش دوں،
میں اپنی دنیا کو سجاؤں،
خوابوں کو حقیقت بناؤں۔

مگر،
مجھے اپنے طلباء کو بھٹکانا نہیں،
ان کے ذہنوں کو محدود کرنا نہیں،
نئی دنیا کی روشنی ان تک پہنچانی ہے،
مذہب کے نام پر سائنس کی کلاس روکنی نہیں۔

مجھے ان کے خوابوں پر پہرے نہیں بٹھانے،
ان کی زندگیوں میں مداخلت نہیں کرنی،
ان کو اپنی سوچ کی زنجیروں میں جکڑنا نہیں،
بلکہ آزاد پرواز کا ہنر سکھانا ہے۔

اخلاقیات کی تربیت دینا ہے،
مگر زبردستی کا بوجھ نہیں ڈالنا،
مجھے ان کے دلوں میں اعتماد جگانا ہے،
زندگی کو زندگی کے جیسا سکھانا ہے۔

تو آؤ،
ہم استاد رہ کر بھی زندگی جئیں،
خواب دیکھیں، خواب دکھائیں،
اور ہر ایک کی راہ کو روشن بنائیں۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment