Visitors

Friday, February 21, 2025

روٹی اور بقا

 


روٹی کے چکر میں الجھے ہوئے،
خواب، پیٹ کی گہرائیوں میں دبے ہوئے۔
بقا کی تجارت میں گُم،
حُسن کے دیے بجھائے ہوئے۔

عشق کی نرمی کہاں گزرے،
جہاں زندگی کے زخم گہرے ہوں۔
رقص کی تال کہاں بجے،
جہاں پاؤں زنجیروں میں جکڑے ہوں۔

موسیقی کی لہریں کیسے چھوئیں،
جب کانوں میں صرف فاقوں کی صدائیں ہوں۔
شاعری کے لفظ کیسے اتریں،
جب آنکھوں میں بھوک کے سائے ہوں۔

یہ دل جو کبھی خواب دیکھتا تھا،
اب ہاتھوں کی ہتھیلی پر چھالے گنتا ہے۔
یہ ذہن جو کبھی سوچتا تھا،
اب صرف قیمتوں کے حساب کرتا ہے۔

حسن، عشق، رقص، موسیقی، شاعری،
یہ سب ان کے لیے ہیں
جو زندگی کے بھنور سے آزاد ہوں۔
مگر روٹی کے قیدی،
صرف سانسوں کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

جب پیٹ بھرے گا،
تب شاید یہ دل بھی گائے گا۔
جب خوف ختم ہوگا،
تب شاید یہ جسم بھی جھومے گا۔
اور شاید تب،
حسن، عشق، رقص، موسیقی، شاعری،
سب سمجھ آئے گا۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment