تو محبت کو خواب سمجھے ہے
تو قناعت کو عذاب سمجھے ہے
ہمیں دیکھ، دل کے چراغ سے
یہی جلتا ہے آگ سے
ہمارے آنگن کے خواب ہیں
یہی بھوکے بچوں کے جواب ہیں
یہی چاندنی، یہی روشنی
یہی زندگی کی کتاب ہے
ہوا، پانی، مٹی، زمین ہے
یہی دھڑکنوں کی یقین ہے
تُو نہ جانے ہمارے سوال کو
تُو نہ پہچانے حال کو
ہماری پہلی محبت اناج ہے
یہی عزم ہے، یہی راج ہے
تُو مُفلسی کی رَوایات سے نہیں واقف
یہی زندگی کا سراج ہے
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا !

No comments:
Post a Comment