گھٹن کی زنجیریں جب
روح پر چھا جائیں
ہر سانس جیسے بوجھ کا
قرض بن جائے
زندگی کا ہر لمحہ ایک
سوال بنے
کیا یہ جینا ہے؟ یا
بس جینے کا دھوکہ؟
یہ چار دیواریاں، یہ
رشتوں کے بندھن
محبت کا نام، مگر قید
کا سامان
کہیں مسکراہٹوں کے
پیچھے چھپی تلخیاں
کہیں اپنائیت کی آڑ
میں چھپی دوریاں
جب دل کا آنگن ویران
سا ہو جائے
اور آنکھوں میں خواب
نہیں، صرف دھند چھا جائے
تب ایک چور کھڑکی، اک
امید کا کنارہ
اک جھوٹا سا سہارا
بھی لگے پیارا
کئی انجان چہروں میں
ایک چہرہ
جو دھوکہ بھی ہو، مگر
اپنا سا لگے
کسی کی باتوں میں کھو
جانے کا بہانہ
کسی کی ہنسی میں غم
بھلانے کا ٹھکانہ
کیونکہ کبھی کبھی، بس
جینے کے لیے
ذرا سی ہوا، ذرا سی
روشنی کافی ہوتی ہے
یہ گھٹن جو اندر سے
مارتی ہے
اسے توڑنے کے لیے بس
ایک پل چاہیے ہوتا ہے
مگر، کیا یہی حل ہے؟
یا رشتوں کو نیا رنگ
دینا ہوگا؟
اس قید کو محبت کا
جنم دینا ہوگا
یہ فیصلہ تو ہر دل کو
خود ہی کرنا ہوگا۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment