Visitors

Friday, February 21, 2025

گھٹن کا المیہ

 


گھٹن کی زنجیریں جب روح پر چھا جائیں
ہر سانس جیسے بوجھ کا قرض بن جائے
زندگی کا ہر لمحہ ایک سوال بنے
کیا یہ جینا ہے؟ یا بس جینے کا دھوکہ؟

یہ چار دیواریاں، یہ رشتوں کے بندھن
محبت کا نام، مگر قید کا سامان
کہیں مسکراہٹوں کے پیچھے چھپی تلخیاں
کہیں اپنائیت کی آڑ میں چھپی دوریاں

جب دل کا آنگن ویران سا ہو جائے
اور آنکھوں میں خواب نہیں، صرف دھند چھا جائے
تب ایک چور کھڑکی، اک امید کا کنارہ
اک جھوٹا سا سہارا بھی لگے پیارا

کئی انجان چہروں میں ایک چہرہ
جو دھوکہ بھی ہو، مگر اپنا سا لگے
کسی کی باتوں میں کھو جانے کا بہانہ
کسی کی ہنسی میں غم بھلانے کا ٹھکانہ

کیونکہ کبھی کبھی، بس جینے کے لیے
ذرا سی ہوا، ذرا سی روشنی کافی ہوتی ہے
یہ گھٹن جو اندر سے مارتی ہے
اسے توڑنے کے لیے بس ایک پل چاہیے ہوتا ہے

مگر، کیا یہی حل ہے؟
یا رشتوں کو نیا رنگ دینا ہوگا؟
اس قید کو محبت کا جنم دینا ہوگا
یہ فیصلہ تو ہر دل کو خود ہی کرنا ہوگا۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment