Visitors

Friday, February 21, 2025

قسموں کی قیمت: سچائی کے بازار میں


یقین کے دھوکے میں
میں نے کئی خواب دیکھے تھے
مجھے لگتا تھا،
قسموں کے بوجھ تلے
لوگ جھوٹ کے لبوں کو بند کر لیتے ہیں
مگر سچ تو یہ ہے،
قسموں کے بعد ہی
وہ لوٹ کا کھیل شروع کرتے ہیں۔

میں بے وقوف تھا،
یہ سمجھ نہ سکا کہ
لفظوں کی مالا میں چھپے دھوکے
کتنے گہرے ہوتے ہیں،
کہاں سچ کا رستہ بنتا ہے،
کہاں اعتبار کا پل ٹوٹتا ہے۔

قسمیں،
جنہیں میں تقدیس کا لباس سمجھتا تھا،
دھوکہ بن گئیں،
اور میں،
یقین کے خنجر سے زخمی ہوا۔

اب جان گیا ہوں،
لوگوں کی آنکھوں میں سچائی نہیں،
قسموں میں وفا نہیں،
یہ دنیا ایک بازار ہے،
جہاں قسمیں بھی بِکتی ہیں،
اور سچائی،
صرف کہانیوں میں رہ جاتی ہے۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

 


No comments:

Post a Comment