یہ دنیا تو آئینہ ہے،
تمہاری سوچ کا عکس
ہے،
یہ رنگ، یہ منظر، یہ
کہانیاں،
سب تمہارے تصور کے
سانچے میں ڈھلی ہیں۔
تمہارے خوابوں کے
پرندے،
جنہیں تم نے خود اڑان
دی،
یہی تو ہیں جو فضا
میں جھلکتے ہیں،
یہی تو ہیں جو تمہاری
حقیقت بنتے ہیں۔
لوگ کیا ہیں؟
ایک آئینہ، ایک عکس،
تمہاری محبت کا،
تمہاری نفرت کا،
تمہاری خواہشات کا،
تمہاری ضرورت کا۔
زمانہ کیا ہے؟
ایک کہانی، جو تم نے
خود لکھی،
ایک کتاب، جس کے ہر
صفحے پر
تمہارے خیالات کی
روشنائی چھپی ہے۔
تم جو سوچتے ہو، وہی
دکھتا ہے،
جو تم دیکھنا چاہتے
ہو، وہی بکھرتا ہے،
جو تم سننا چاہتے ہو،
وہی گونجتا ہے،
دنیا تمہاری روح کا
ہی تو عکس ہے۔
یہ وقت، یہ حالات، یہ
لمحے،
یہ سب تمہارے اندر کی
دنیا کے مظہر ہیں،
اگر تم امن چاہو، تو
دنیا پر سکون ہے،
اگر تم خوف میں جیو،
تو ہر سمت اندھیرا ہے۔
سوچو، تصور کرو، دنیا
کو نئے رنگ دو،
محبت کے دیپ جلاؤ،
روشنی کو دل میں بساؤ،
یہ دنیا آئینہ ہے،
اسے بدلنا چاہتے ہو؟
تو پہلے اپنی سوچ کو
سنوار لو۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment