وقت کے بھنور میں، جب
گہرے دکھ آئیں گے
دھوپ چھپے گی، سائے
تجھے گھیر لائیں گے
جب راستے بھی تھک کر
کہیں تھم جائیں گے
پکارنا مجھے، میں
تیری راہ سجھاؤں گا
غم کے بادل جب تیری
سانس کو دبا دیں گے
آنکھ کے آنسو دل کے
درد کو بڑھا دیں گے
جب تنہائی کے لمحے
تجھے رلائیں گے
پکارنا مجھے، میں
تجھے گلے لگاؤں گا
طوفانوں کی سرگوشیاں،
تیرے کانوں میں
جب خوف بن کر گونجیں،
بے زبانوں میں
چاند بھی جب تجھ سے
نظر چُرا جائے
پکارنا مجھے، میں
تیرا سہارا بن جاؤں گا
یہ وعدہ ہے، وقت کے
ہر امتحان میں
میں تیرا ساتھی ہوں
ہر طوفان میں
دکھ کی زمین ہو یا
خوشی کا آسماں
پکارنا مجھے، میں
تجھے مسکراہٹ دوں گا
وقت کے بھنور میں،
روشنی بن کر آؤں گا
ہر درد کے اندھیروں
میں دیا جلاؤں گا
تو کبھی نہ ڈرنا، یہ
دل سنبھال لینا
پکارنا مجھے، میں
تجھے خواب سجھاؤں گا۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment