پیار کے لفظ لبوں تک
کبھی آ نہ سکے،
دل کے جذبات بھی دنیا
کو دکھا نہ سکے۔
چاندنی رات میں
خوابوں کو سجایا ہم نے،
پر کسی سے بھی وہ
خواب سنا نہ سکے۔
چاہتوں کے دیے دل میں
جلاتے رہے مگر،
روشنی ان کی کبھی
سامنے لا نہ سکے۔
رہ گئے ہم تو فقط راہ
کے مسافر بن کر،
منزلِ عشق پہ قدم
کبھی جما نہ سکے۔
زخم دل کے چھپائے تو
زمانے سے مگر،
درد دل کا کسی کو بھی
بتا نہ سکے۔
گیت چاہت کے دل میں
جو گونجتے رہے،
ان کو سازوں کے بغیر
کبھی گا نہ سکے۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment