موت کی ایک شکل یہ
بھی ہے،
کہ تم اپنے خواب دفن
کر دو،
اپنی خواہشیں زمین کے
نیچے دبا دو،
اور دوسروں کے نقشے
پر،
اپنی منزل تلاش کرو۔
اپنے قدموں کو
زنجیروں میں جکڑ لو،
ان آوازوں کے تابع ہو
جاؤ،
جو تمہارے دل کی
نہیں،
کسی اور کے حکم کی
گونج ہوں۔
زندگی جو تمہاری تھی،
کسی اور کے ہاتھوں کا
کھلونا بن جائے،
ہر سانس ایک قرض بن
جائے،
جو تمہیں اپنی مرضی
سے لینا بھی نصیب نہ ہو۔
موت کی ایک شکل یہ
بھی ہے،
کہ تمہارا وجود ہو،
مگر تم نہ ہو،
تمہاری آنکھیں کھلی
ہوں،
مگر خوابوں کی روشنی
غائب ہو۔
آؤ، خود کو آزاد
کریں،
اپنے دل کی سنیں،
زندگی اپنی ہے، اسے
اپنے رنگ میں جئیں،
ورنہ یہ سانسیں بھی
اک قید بن جائیں گی،
اور موت کی ایک شکل
ہم پر حاوی ہو جائے گی۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:
Post a Comment