محبت
وہ نہیں جو دولت کے سائے میں پروان چڑھتی ہے،
جہاں معاشی اور سماجی قوت ایک دوسرے پر سوار ہو،
جہاں ایک کا سُکون دوسرے کی کمزوری میں پنہا ہو،
محبت وہ نہیں جو کمزوری اور مجبوری کی بنیاد پر جنم لے،
جہاں عورت مرد پر معاشی ضرورتوں کا بوجھ ڈالتے ہوئے،
اپنے جسم اور روح کا سودا کرتی ہو۔
مگر حقیقی محبت،
وہ ہے جب دونوں ایک دوسرے کے برابر ہوں،
جب دونوں کی ہمت، طاقت اور خواب یکساں ہوں،
جب دونوں کے دلوں میں ایک دوسرے کی عزت ہو،
اور معیشت صرف ایک ضرورت ہو،
محبت کی بنیاد نہ بنے۔
محبت یہ نہیں جو معاشرے میں عورت کو کمزور ثابت کر کے اس
کے تحفظ کا بہانہ بنا کر
شخصیت کا رنگ بدل دیتی ہو،
یہ محبت وہ ہے جو انسان کی روح سے روح تک پہنچے،
جب عورت مرد کے ساتھ اپنے سفر میں شریک ہو،
اور دونوں ایک دوسرے کے سہارے بنیں۔
محبت وہ ہوتی ہے جب دونوں کی تقدیر میں
سخت راستے ہوں، مگر اَنکھوں میں ایک چمک ہو،
جہاں کوئی معاشی فرق نہ ہو،
صرف دِلوں کا رشتہ ہو،
جہاں دونوں اپنے آپ کو مکمل سمجھیں۔
ایسی محبت میں نہ کوئی احساسِ کمزوری ہو،
نہ کوئی دوسرا انسان طاقت کی بنیاد پر حکمرانی کرے،
یہ وہ محبت ہے جو ہر چیلنج کو سر کرنے کی طاقت دیتی ہے،
اور اس میں صرف ایک ہی چیز ہوتی ہے،
ایماندار اور مخلصی سے بھرا رشتہ۔
محبت وہی ہے جو کمزوری سے نہیں،
مساوات سے پروان چڑھتی ہے۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد
رضا

No comments:
Post a Comment