کمفرٹ زون ایک ایسی ذہنی حالت ہے جس میں ہم خود کو محفوظ اور آرام دہ
محسوس کرتے ہیں۔ اس میں رہتے ہوئے، ہم عام طور پر نئے چیلنجز قبول کرنا چھوڑ دیتے
ہیں اور اپنی زندگی یا پروفیشنل کیریئر میں ترقی کی منصوبہ بندی نہیں کرتے۔ یہ وہ
جگہ ہے جہاں ہم اپنی کامیابیوں کے ساتھ خوش رہتے ہیں لیکن آگے بڑھنے کی کوشش نہیں
کرتے۔
کمفرٹ زون میں رہتے ہوئے ہم سست اور آرام طلب ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس
ایک روٹین اور یکسانیت ہوتی ہے جو ہمارے روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہوتی ہے۔
اس حالت میں، چیزیں آٹو پائلٹ پر چلتی ہیں اور ہم اکثر نئے مواقع سے دور رہتے ہیں۔
کمفرٹ زون کا نقصان
زیادہ عرصے تک کمفرٹ زون میں رہنا آپ کی زندگی کے لیے خطرناک ثابت ہو
سکتا ہے۔ یہ نہ صرف آپ کے اعتماد اور خوشی کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ آپ کی
صلاحیتوں کو بھی ماند کر سکتا ہے۔ ہمارا دماغ اور جسم اس طرح ڈیزائن کیے گئے ہیں
کہ ہم تب ہی خوش رہتے ہیں جب ہمیں چیلنجز کا سامنا ہوتا ہے اور ہم ترقی کر رہے ہوتے
ہیں۔
سیلف امپروومنٹ اور کمفرٹ زون
سیلف امپروومنٹ کے اصولوں کے مطابق، اگر آپ ترقی کرنا بند کر دیتے ہیں
تو آپ زوال کی طرف جا سکتے ہیں۔ ترقی کے لیے، آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنا پڑے
گا۔ جب آپ کوئی نیا اور مشکل کام کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ خود کو کمفرٹ زون
سے باہر پاتے ہیں۔
کمفرٹ زون سے باہر قدم کیسے رکھیں؟
کمفرٹ زون سے باہر آنے کے لیے، آپ کو کچھ نئی اور چیلنجنگ چیزیں کرنی
ہوں گی:
نئی مہارتیں
نئی مہارتیں سیکھیں جیسے پبلک سپیکنگ یا کوئی نئی زبان۔
نئی عادات
مثلاً، ٹائم مینجمنٹ سیکھیں۔
نیا رویہ
دوسروں کے بارے میں تنقیدی رویہ کم کریں یا زیادہ سوشل بنیں۔
یہ سب کچھ آپ کے لیے مشکل ہوسکتا ہے اور اس میں رسک شامل ہوتا ہے کہ
آپ ناکام ہو سکتے ہیں یا مذاق کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ تاہم، آپ کو اپنے حوصلے کو بلند
رکھنا ہوگا، خود کو قائل کرنا ہوگا، اور سٹریس سے گزرنا ہوگا۔ آپ کو اپنی تخلیقی
صلاحیتوں کو جگانا ہوگا اور نئی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔
خود کا جائزہ لیں
اپنے آپ کا جائزہ لیں کہ کیا آپ نے سیلف امپروومنٹ کے لیے کوئی نیا
اور چیلنجنگ کام کرنے کا سوچا ہے؟ نئے خوابوں اور منصوبوں پر کام شروع کریں۔ اپنی زندگی
کو جامد نہ ہونے دیں، اسے نیا ولولہ اور جوش فراہم کریں۔
زندگی کا اصل مزہ کمفرٹ زون سے باہر قدم رکھنے میں ہے۔ کیا آپ تیار
ہیں؟
ایک شاندار زندگی آپ کی منتظر ہے، بس آپ کو کمفرٹ زون سے باہر نکلنا ہوگا۔

No comments:
Post a Comment