Visitors

Friday, November 8, 2024

واپسی کی خواہش

 

ہم بے قصور تھے
کسی دھوکے کی لذت نے
ہمیں زمین پر اتار دیا
یہاں، جہاں سب کچھ ہے
مگر وہ سکون نہیں
جو جنت کے باغوں میں تھا

ہم زمین پر بس گئے
اپنے گھر بنائے
پھل اگائے
مگر دل میں کوئی بےچینی سی ہے
جیسے کچھ کھو گیا ہو
کچھ ادھورا سا رہ گیا ہو

شیطان نے ہمیں فریب دیا
ہم نے اس کی بات مانی
مگر پھر بھی
ہمارے دل میں ایک عجب سی خواہش ہے
کہ لوٹ جائیں
جنت کی اس سرزمین پر
جہاں سب کچھ پاکیزہ تھا

یہ زمین
یہ مکان
یہ دولت
سب کچھ اپنا کر بھی
ایک کمی سی ہے
جیسے کہیں کوئی انتظار کر رہا ہو
جیسے وہ باغ اب بھی ہمیں بلا رہا ہو

ہم وہاں لوٹیں گے
جہاں نہ کوئی غم ہے
نہ فریب
جہاں صرف سکون ہے
جہاں ہمیں
حقیقی سکون ملے گا
اور ہم اپنے اصل گھر پہنچیں گے۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment