Visitors

Friday, November 8, 2024

گُماں

 

ہم خود کو بے وجہ جو پریشاں کریں، کیا حاصل
ہر فکر میں جلیں، چاکِ گریباں کریں، کیا حاصل

تقدیر پہ جو دل کا بھروسہ نہیں کریں،
ہر حال سے بے زار جو شکوہ کریں، کیا حاصل

جو چل رہا ہے وقت کا دریا یوں ہی چلنے دو،
جو روکنے کی خواہشِ خاماں کریں، کیا حاصل

خود کو جو ہم بے جا مصیبتوں میں ڈالیں،
ہر پل کو جو بے کار پریشاں کریں، کیا حاصل

جس نے سنبھالا ہے ہمیں، آگے بھی سنبھالے گا،
جو اُس کرم پہ پھر بھی گُماں کریں، کیا حاصل

No comments:

Post a Comment