Visitors

Friday, November 8, 2024

پروفیسر اور سی ٹی ائی

 

وہ پروفیسر،
جو پچھلے بیس سال سے
اسی بوسیدہ کتاب کے صفحے پلٹتا ہے،
جس کی روشنائی مدھم ہو چکی،
وہ آج پھر
اپنی عظمت کا تاج سر پر سجائے
انٹرویو کے کمرے میں بیٹھا ہے۔

یہ نوجوان،
زندگی کا پہلا انٹرویو دینے آیا،
آنکھوں میں خواب،
دل میں دھڑکنوں کا شور لیے،
مگر کنفیوز،
کیوں کہ سوال وہ ہیں
جو چالیس سال پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔

وہ اپنی علمیت کا رعب جماتے ہیں،
سوشل میڈیا پر اپنی تعریفیں
بکھیرتے ہیں،
مگر حقیقت میں
یہ سوالات، یہ خیالات
کب کے دفن ہونے چاہیے تھے۔

پروفیسر،
ہر عقل کا ٹھیکیدار نہیں،
وقت بدل چکا ہے،
یہ نوجوان،
یہ سی ٹی آئی،
قابلیت کا نیا معیار ہیں۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment