Visitors

Friday, November 8, 2024

قبروں کا بوجھ

 



قبروں کا بوجھ دل پہ اُٹھائے پھرتے ہیں،
اپنے سبھی زخم چھپائے پھرتے ہیں۔

لبوں پہ مسکان، دل میں درد بھرا ہے،
جھوٹی خوشی کا فریب دکھائے پھرتے ہیں

محبتوں کی راہوں میں جو بچھڑ گئے ہم سے،
ان کی یادوں کو دل میں بسائے پھرتے ہیں۔

رونا چاہیں، مگر آنکھیں بھیگتی نہیں،
ہم اپنے غموں کو دل میں دبائے پھرتے ہیں۔

کبھی ہنسنے کی چاہت بھی دل میں جاگے،
مگر لوگوں کی باتوں سے سہمائے پھرتے ہیں۔

اپنی کہانی سنانے کا وقت نہ ملا ہمیں،
بس اوروں کے قصے سنائے پھرتے ہیں۔

زندگی اب ایک بوجھ سی بن گئی ہے،
خود کو انا کی زنجیروں میں الجھائے پھرتے ہیں۔

لاشے ہیں اپنے احساسات کے کاندھوں پہ
ہم مر کر بھی زندگی سے نبھائے پھرتے ہیں۔

 

از قلم: ڈاکٹر اسد رضا

No comments:

Post a Comment