زندگی کی چمک دمک، یہ شور، یہ ہجوم،
انسان بھٹک رہا ہے، بس ایک سراب کے جھرمٹ میں،
کبھی لمحوں کی دوڑ، کبھی سکون کی تلاش،
مگر ہر قدم پر، ایک خالی پن، ایک درد کا احساس۔
یہ کمرشل دنیا، یہ مصنوعی چمک،
دولت کے خواب، آسائش کے دائرے،
انسان کی روح کو، دھیرے دھیرے نگل رہے ہیں،
اور فطرت کی پکار، دل کے اندر کہیں دب گئی ہے۔
جنگلوں کی سرگوشیاں، دریا کی لہریں،
کھیتوں کی خوشبو، پہاڑوں کا سکون،
یہی تھی ہماری زندگی، یہی تھا ہمارا فطرت سے رشتہ،
مگر ہم نے بیچ دیا، چند سِکّوں کے عوض، ایک کھوکھلی دنیا کے لئے۔
اب جب خالی ہاتھ، تھکے دل سے لوٹتا ہے،
انسان فطرت کی آغوش کو، اس سچائی کو پانے،
کہ سکون نہ دولت میں تھا، نہ آسائش میں،
بس فطرت کی بانہوں میں، ایک گہرا، سچا چین تھا۔
اس چمک دمک کی دنیا نے، ہم سے ہماری روح چھین لی،
اور ہم، بس خود کو کھو کر، اس دوڑ میں رہ گئے،
یہ آسائشیں، یہ دولت، یہ حوس،
کبھی نہیں بھر سکتیں، دل کے اس خالی کمرے کو۔
اب وقت ہے لوٹنے کا، فطرت کی جانب،
اپنی اصل کی جانب، اپنے سچے سکون کی طرف،
کیونکہ یہ کمرشل فیشن، یہ عارضی خوشیاں،
محض سراب ہیں، اصل زندگی تو فطرت کے سنگ ہے۔
✍️ از قلم: ڈاکٹر اسد
رضا
No comments:
Post a Comment