Visitors

Friday, November 8, 2024

عورت کی داستان

 


وہ کہتا ہے،
عورت محبت ہے، تنہائی کی ساتھی،
پر جب دیکھے اسے سماج میں،
تو وہ بن جاتی ہے بُرائی کی علامت،
جیسے وہ کوئی جرم ہو،
جیسے وہ اک راز ہو،
جو پردے میں چھپانا ہو۔

کل بھی وہ پراپرٹی تھی،
کبھی باپ کی، کبھی بھائی کی،
پھر شوہر کی،
اور اب یہ عالم دین،
جس نے اسے ڈرایا،
اور کہہ دیا کہ یہ،
پبلک پراپرٹی ہے،
سب کے لیے، ہر ایک کی دسترس میں۔

کبھی چھپاتے ہیں اسے چادر میں،
کبھی چھپا لیتے ہیں دیواروں میں،
پر اس کی آزادی کی بات،
وہ کرتے ہیں خوف سے لرز کر،
کہیں وہ بول نہ پڑے،
کہیں وہ سرکشی نہ کر بیٹھے۔

پر وہ عورت،
اک خاموش چیخ ہے،
اک بند زبان ہے،
جو نہ چاہ کر بھی کہہ دیتی ہے،
کہ تمہارے بنائے اصول،
تمہاری خودساختہ شریعت،
اسے قید کر کے بھی آزاد نہیں کر سکتی،
کیونکہ اس کی روح،
آزاد ہے، پرواز کی متلاشی۔

اور تم،
جو کہتے ہو اسے گناہ،
اور عبادت بھی،
تمہاری دوغلی سوچ،
تمہاری منافقت،
ایک دن کھل کر سامنے آئے گی،
جب وہ عورت،
اپنی پہچان خود بنائے گی،
اور تمہارے ان حصاروں کو،
توڑ کر آگے بڑھ جائے گی۔

No comments:

Post a Comment