کہتے ہیں،
کوئی عقیدہ،
کوئی نظریہ،
اگر ہے فائدہ مند انسانیت کے لیے،
تو اس کی گواہی،
عمل سے ملنی چاہیے۔
جیسے دوا کی گولی،
یا انجکشن کا لگنا،
جسم میں تبدیلی لاتا ہے،
درد کم ہوتا ہے،
زندگی لوٹ آتی ہے،
ویسے ہی اگر کوئی نظریہ سچا ہو،
اس کے قدموں کی چاپ،
معاشرت میں سنائی دینی چاہیے۔
محبت کی نرمی،
عدل کی روشنی،
اور بھائی چارے کی خوشبو،
فضاؤں میں بکھرنی چاہیے۔
اگر یہ نہ ہو،
تو دعوے تو بہت ہیں،
مگر خالی لفظوں کی طرح،
جن کے پیچھے کوئی روح نہیں۔
ہر عقیدہ،
ہر نظریہ،
تبھی معتبر ہے،
جب اس کا عکس،
کسی کے مسکراتے چہرے پر ہو،
یا کسی کے سہلائے ہوئے دل میں۔
ورنہ سب کچھ بے معنی،
اور دنیا،
صرف الفاظ کا جنگل۔
جہاں نہ کوئی منزل ہے،
نہ کوئی نشانِ راہ۔
نظریے کا اثر،
تبھی ہوتا ہے معتبر،
جب معاشرہ،
اس کے رنگوں میں رنگا نظر آئے۔
ورنہ باتیں تو ہوا میں،
اور ہوا میں لفظ کبھی جڑ نہیں پکڑتے۔
No comments:
Post a Comment