Visitors

Tuesday, August 25, 2026

تین نسلیں، تین فلمی کردار اور بدلتا ہوا پاکستانی ذہن

پاکستانی معاشرے کی گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ کو اگر صرف سیاست، حکومتوں اور حکمرانوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو شاید ہماری اجتماعی نفسیات کی ایک اہم کہانی ہم سے چھپ جائے۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے پاکستانی سینما بھی ایک اہم آئینہ ہے، کیونکہ فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے عہد کے خواب، محرومیاں، خواہشیں، خوف، معاشرتی تضادات اور اخلاقی تصورات بھی اپنے اندر سمیٹتی ہے۔

یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ فلموں نے پاکستانی معاشرے کو بنایا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ فلموں نے معاشرے میں پہلے سے موجود رویوں کو کردار، مکالمے اور کہانی دے کر عام ذہن تک پہنچایا اور بعض رویوں کو قابل قبول، قابل تقلید یا قابل فخر بھی بنا دیا۔

پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بننے والی فلموں میں سماجی، گھریلو، اصلاحی اور رومانوی موضوعات نمایاں تھے۔ غربت، طبقاتی فرق، خاندانی مسائل، عورت کی مشکلات، معاشی محرومیاں اور سماجی ناانصافیاں بھی فلموں کا حصہ بنتی رہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستانی سینما نے ہمیشہ معاشرے کو غلط سمت دکھائی۔ بہت سی فلموں نے لوگوں کو ان کے مسائل کا آئینہ دکھایا، سوچنے پر مجبور کیا اور زندگی کے بہتر راستے کی طرف رہنمائی بھی کی۔

اسی دور میں رومانوی فلمیں بھی بہت مقبول ہوئیں۔ محبت، قربانی، جدائی، حسن اور بہتر زندگی کے خواب ان کہانیوں کا حصہ تھے۔ لیکن رومانویت کا یہ تصور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے یکساں نہیں تھا۔ ایک طرف معاشی طور پر خوشحال طبقہ تھا جس کے پاس خواب دیکھنے، محبت کو زندگی کا مرکزی مسئلہ بنانے اور آسودہ زندگی کے تصور سے لطف اندوز ہونے کی گنجائش تھی، جبکہ دوسری طرف غریب اور محروم طبقہ تھا جس کے لیے زندگی کا بنیادی سوال روٹی، روزگار، گھر، عزت، انصاف اور معاشی تحفظ تھا۔

یوں ایک ہی معاشرے میں دو مختلف دنیائیں پروان چڑھ رہی تھیں۔ ایک دنیا محبت، حسن اور رومان کے خواب دیکھ رہی تھی اور دوسری دنیا معاشی بقا اور عزت کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔

پھر پاکستانی سینما کے پردے پر ایسے کردار بھی مقبول ہوئے جنہوں نے ہمارے اجتماعی اخلاقی رویوں کو ایک عجیب جواز فراہم کیا۔ 1956 کی فلم سرفروش میں سنتوش کمار کے چور کے کردار سے منسوب مشہور مکالمہ تھا:

”چوری میرا پیشہ ہے، نماز میرا فرض۔“

کہانی میں چوری کرنے والا شخص اذان سن کر نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک فلمی مکالمہ تھا، لیکن بعد کی دہائیوں میں یہ ہمارے معاشرتی رویے کی ایک علامت بن گیا۔ مسئلہ نماز نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ انسان نے اپنے غلط عمل کو ترک کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ایک مذہبی عمل جوڑ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کا راستہ تلاش کر لیا۔

چوری بھی جاری، نماز بھی جاری۔

بددیانتی بھی جاری، خیرات بھی جاری۔

ظلم بھی جاری، مذہبی شناخت بھی جاری۔

یوں ہمارے ہاں ایک خطرناک ذہنی رویہ پیدا ہوا کہ اگر انسان کچھ برے کاموں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کر رہا ہے تو شاید اس کے برے اعمال قابل معافی یا قابل قبول ہو جاتے ہیں۔ کردار کی اصل قدر اس کے مجموعی عمل سے ہونے کے بجائے اس کی ظاہری نیکیوں سے ہونے لگی۔

پھر وقت بدلا اور 1970ء کی آخری دہائی اور 1980ء کی دہائی میں پاکستانی خصوصاً پنجابی سینما میں ایک نیا ہیرو سامنے آیا۔ سلطان راہی جیسے اداکاروں نے ڈاکو، باغی، طاقتور اور قانون سے بے نیاز کرداروں کو مقبولیت دی۔ مولا جٹ، رنگا ڈاکو اور اس نوعیت کی بے شمار فلموں میں ایک ایسا ہیرو سامنے آیا جو طاقتور لوگوں سے ٹکراتا، ان سے بدلہ لیتا اور بعض اوقات دولت چھین کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔

یہ کردار محض ایک فلمی کردار نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک پورا سماجی اور نفسیاتی پس منظر موجود تھا۔ جب ایک عام آدمی کو محسوس ہو کہ قانون طاقتور کے لیے مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہے، جب انصاف تک رسائی مشکل ہو اور بااثر لوگ اپنے اثر و رسوخ سے قانون کو شکست دیتے نظر آئیں تو پھر سینما کا وہ ہیرو عوام کو اپنی خواہش پوری کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو خود قانون ہاتھ میں لے کر طاقتور سے حساب لیتا ہے۔

اسی لیے سلطان راہی کا کردار ایک خاص طبقے کے غصے، محرومی اور بے بسی کا اظہار بھی بن گیا۔

لیکن یہاں بھی ایک خطرناک تصور پیدا ہوا۔ انصاف اور انتقام کے درمیان فرق دھندلا ہونے لگا۔ قانون اور طاقت کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگا اور یہ تصور مقبول ہونے لگا کہ اگر مقصد اچھا ہو تو طریقہ بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔

یہی وہ ذہنی رویہ تھا جو پہلے چور کو نماز کے ذریعے اپنے عمل کا جواز فراہم کرتا تھا اور اب ڈاکو کو غریب پروری کے ذریعے اپنے عمل کا جواز فراہم کرنے لگا۔

یعنی کردار بدل گیا، مگر منطق کہیں نہ کہیں وہی رہی:

میں غلط کام ضرور کر رہا ہوں، لیکن میرے پاس اپنے غلط کام کو درست ثابت کرنے کی ایک بڑی وجہ موجود ہے۔

یہی سوچ بعد میں ہماری حقیقی زندگی میں بھی مختلف شکلوں میں دکھائی دینے لگی۔ کوئی کرپشن کرتا ہے اور مسجد بناتا ہے، کوئی دوسروں کا حق مارتا ہے اور خیرات کرتا ہے، کوئی ظلم کرتا ہے اور پھر غریبوں میں راشن بانٹ کر اپنے لیے عزت خرید لیتا ہے، کوئی ناجائز دولت بناتا ہے اور اس کا ایک حصہ فلاحی کاموں میں لگا کر خود کو محسن ثابت کرتا ہے۔

یوں سوال یہ نہیں رہتا کہ تم نے کیا کیا، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ تم نے اس کے ساتھ کتنا اچھا کام بھی کیا۔

یہاں آ کر ہماری اخلاقی ترجیحات میں ایک بنیادی خرابی پیدا ہوئی۔ کیونکہ اخلاقیات کا اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ عمل درست ہے یا غلط، نہ کہ یہ کہ غلط عمل کے ساتھ کتنے اچھے کام شامل کر دیے گئے ہیں۔

لیکن پاکستانی سینما کی پوری کہانی صرف منفی نہیں تھی۔ اس دوران بے شمار سماجی، گھریلو اور اصلاحی فلمیں بھی بنتی رہیں جنہوں نے عام آدمی کے مسائل، غربت، خاندانی تنازعات، طبقاتی فرق، عورت کے مسائل، معاشرتی ناانصافی اور معاشی مشکلات کو موضوع بنایا۔ ان فلموں نے کئی لوگوں کو سوچنے، سوال کرنے اور بہتر زندگی کی طرف دیکھنے کا موقع بھی دیا۔

اس لیے فلم کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔ فلم معاشرے کی پیداوار بھی ہے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے والی طاقت بھی۔ وہ کبھی آئینہ ہوتی ہے اور کبھی ذہن پر اثر انداز ہونے والی قوت۔

پھر 1980ء کی دہائی کے بعد حالات مزید بدلتے گئے۔ تشدد، طاقت، بدلہ، غیرت اور ذاتی انصاف پر مبنی کہانیاں زیادہ نمایاں ہوئیں۔ ایک ایسی نسل بھی پروان چڑھی جس کے لیے طاقتور ہونا، مخالف کو ختم کرنا، اپنا حق خود لینا اور قانون سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنا ایک خاص قسم کی مردانگی اور بہادری کی علامت بن گیا۔

لیکن اب ہم ایک بالکل مختلف زمانے میں داخل ہو چکے ہیں۔

2000ء کے بعد پروان چڑھنے والی نئی نسل کے ہاتھ میں گنڈاسا نہیں، موبائل فون ہے۔ اس کے سامنے صرف ایک فلم نہیں بلکہ پوری دنیا موجود ہے۔ وہ ایک ہی کہانی کو آخری سچ سمجھنے کے بجائے مختلف زاویے دیکھ سکتی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے، ثبوت تلاش کرتی ہے اور شخصیت سے زیادہ عمل کو اہمیت دینے لگی ہے۔

وہ پوچھتی ہے کہ اگر کوئی شخص بہت مذہبی نظر آتا ہے تو کیا اس کے معاملات بھی دیانت دار ہیں؟

اگر کوئی غریبوں میں پیسہ بانٹتا ہے تو یہ پیسہ آیا کہاں سے؟

اگر کوئی خود کو محب وطن کہتا ہے تو کیا اس کے اعمال بھی اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں؟

اگر کوئی ظلم کرتا ہے اور پھر خیرات کرتا ہے تو کیا خیرات اس ظلم کو ختم کر دیتی ہے؟

یہاں ایک نئی اخلاقی سوچ جنم لے رہی ہے۔

پہلے شخصیت دلیل تھی، اب دلیل شخصیت سے بڑی ہونے لگی ہے۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ بہت نیک آدمی ہے، اس لیے اس پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ نئی نسل پوچھتی ہے کہ اس نے کیا کیا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ بڑا متقی ہے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ اس کا کردار کیسا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ غریبوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ اس دولت کا ذریعہ کیا ہے؟

یہ صرف نسلوں کا اختلاف نہیں، بلکہ اخلاقی معیار کے بدلنے کی علامت ہے۔

پرانے معاشرے میں ظاہری نیکی اکثر کردار کا ثبوت سمجھی جاتی تھی۔ نئی نسل کہتی ہے کہ نیکی کا اصل ثبوت مستقل کردار ہے۔

یہاں آ کر پرانی اور نئی نسلوں کے درمیان اصل تصادم شروع ہوتا ہے۔

ایک نسل کے پاس جواز ہیں، دوسری کے پاس سوال۔

ایک نسل کہتی ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے، اس لیے اچھا آدمی ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ نماز اپنی جگہ، مگر اس نے دوسروں کے ساتھ کیا کیا؟

ایک کہتی ہے کہ وہ غریبوں میں بہت بانٹتا ہے۔ دوسری پوچھتی ہے کہ جو بانٹ رہا ہے وہ آیا کہاں سے؟

ایک کہتی ہے کہ وہ ہمارا محسن ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ کسی کو محسن کہنے سے پہلے اس کا پورا کردار دیکھو۔

شاید پاکستانی معاشرے میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی یہی ہے۔ یہ مذہب سے بغاوت نہیں، نیکی سے بغاوت نہیں، خیرات کے خلاف نہیں اور عبادت کے خلاف بھی نہیں۔ یہ دراصل مذہب، نیکی، عبادت اور اخلاقی کردار کو دوبارہ ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش ہے۔

کیونکہ نماز اپنی جگہ عبادت ہے، خیرات اپنی جگہ نیکی ہے اور مذہبی شناخت اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، لیکن کسی انسان کے کردار کا اصل امتحان اس کے ساتھ رہنے والے انسانوں کے حقوق، اس کی دیانت، اس کے معاملات، اس کے رویے اور اس کے اختیار کے استعمال میں ہوتا ہے۔

شاید اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کتنے مذہبی ہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ آپ کتنے دیانت دار ہیں۔

شاید یہ بھی نہیں کہ آپ نے کتنی خیرات کی، بلکہ یہ کہ آپ نے کسی کا حق تو نہیں مارا۔

شاید یہ بھی نہیں کہ آپ کتنے بااثر ہیں، بلکہ یہ کہ آپ نے اپنے اختیار کے ساتھ کیا کیا۔

ایک وقت تھا جب ہم فلمی کرداروں میں اپنے لیے جواز تلاش کرتے تھے۔ پہلے چور کے پاس نماز کا جواز تھا، پھر ڈاکو کے پاس غریب پروری کا جواز آیا، پھر طاقتور کے پاس خیرات اور فلاحی کاموں کا جواز آیا۔

اب شاید ایک نئی نسل ان تمام جوازوں سے آگے بڑھ کر صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے:

آپ کا اصل کردار کیا ہے؟

اور شاید یہی سوال پاکستانی معاشرے کی اگلی اخلاقی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

کیونکہ حقیقی نیکی یہ نہیں کہ انسان اپنے غلط کاموں کے ساتھ کچھ اچھے کام بھی کرتا رہے۔ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے غلط کام کو غلط تسلیم کرے، دوسروں کا حق نہ مارے، اپنے اختیار کا ناجائز استعمال نہ کرے اور اپنے کردار کو مذہبی، سماجی یا فلاحی پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش نہ کرے۔

ہماری فلمیں بدلتی رہیں، ہمارے ہیرو بدلتے رہے، ہمارے مکالمے بدلتے رہے، لیکن اب شاید ناظر بھی بدل رہا ہے۔

اور جب ناظر بدل جائے تو پھر ہیرو بھی بدلنا پڑتا ہے۔

 


Thursday, June 18, 2026

رسمِ دہر

 


مفادِ وقت چھپا ہے ہر ایک رشتے میں

بچا ہی کیا ہے بھلا اب اِس زمانے میں


جسے یہ دُنیا محبت پکارتی ہے مدام

وہ ایک غرض کا لبادہ ہے اِس دُکانے میں


محبتوں کے سرابوں میں ہم رہے تنہا

ہر ایک مِحو رہا اپنی بزم سَجانے میں


مریں گے جب تو تھوڑی دیر ہاہاکار ہوگی

پھر سب لگ جائیں گے رسمیں نبھانے میں


بہا کے چند آنسو کہیں گے "بس اب چلو"

کہ رسمِ دہر ہے یہ، اب دیر کیا دفنانے میں


مِیرا جینا جنہیں اِک پل نہ بھایا تھا 'اسد'

وہ نوحہ گر ہیں مِیری لحد کے سرہانے میں



(ڈاکٹر اسد رضا )






Monday, April 27, 2026

کیا واقعی پاکستان میں تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے؟ ایک عالمی اور تقابلی جائزہ








پاکستان میں آج کل یہ جملہ عام سننے کو ملتا ہے کہ تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں رہا۔ بظاہر حالات کو دیکھ کر یہ بات کسی حد تک درست محسوس ہوتی ہے، خاص طور پر جب تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگاری کا شکار نظر آتے ہیں۔ مگر اگر اس مسئلے کو گہرائی، عالمی تناظر اور سماجی اثرات کے ساتھ دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ تعلیم کی افادیت کا نہیں بلکہ اس کے نظام، ترجیحات اور معاشرتی رویّوں کا ہے۔

دنیا کی تاریخ اس بات کی واضح گواہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام نے اپنی بنیاد مضبوط تعلیمی نظام پر رکھی۔ فن لینڈ، جنوبی کوریا، ناروے اور برطانیہ جیسے ممالک نے تعلیم کو صرف ایک شعبہ نہیں بلکہ قومی ترجیح بنایا۔ ان ممالک نے تحقیق، جدت اور عملی مہارتوں پر توجہ دی، جس کے نتیجے میں ان کی معیشتیں مضبوط اور پائیدار ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم صرف ڈگری نہیں بلکہ ایک مکمل نظام ہے جو فرد کو زندگی کے ہر شعبے میں کامیاب بناتا ہے۔

اگر ہم تعلیمی بجٹ کا جائزہ لیں تو فرق مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک عموماً اپنی جی ڈی پی کا پانچ سے سات فیصد تک تعلیم پر خرچ کرتے ہیں۔ فن لینڈ اور ناروے جیسے ممالک چھ فیصد یا اس سے زائد سرمایہ کاری کرتے ہیں جبکہ جنوبی کوریا بھی پانچ فیصد سے زیادہ بجٹ مختص کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں بھارت تقریباً ڈھائی سے تین فیصد، چین تقریباً چار فیصد اور پاکستان عموماً ڈیڑھ سے دو فیصد کے درمیان تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے، اور یہی کم سرمایہ کاری تعلیمی نظام کی کمزوریوں کی ایک بڑی وجہ ہے۔

پاکستان میں تعلیمی مسائل کی ایک اہم وجہ پالیسی سازی کی کمزوری ہے۔ جب اہم تعلیمی عہدوں پر ایسے افراد تعینات کیے جائیں جو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوں تو نہ نصاب اپڈیٹ ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں جدت آتی ہے۔ نتیجتاً طلبہ وہی پرانے طریقوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں جو عملی زندگی میں زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوتے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اہم مگر اکثر نظر انداز ہونے والا پہلو سوشل میڈیا کا اثر ہے۔ آج کے دور میں ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز نے معلومات کے پھیلاؤ کو انتہائی تیز کر دیا ہے، مگر اس کے ساتھ ایک منفی پہلو بھی سامنے آیا ہے، یعنی غیر مستند معلومات اور نام نہاد دانشوروں کا بڑھتا ہوا اثر۔

سوشل میڈیا پر ایسے افراد کی بڑی تعداد موجود ہے جو بغیر کسی علمی بنیاد کے یہ تاثر دیتے ہیں کہ تعلیم فضول ہے اور کامیابی کے لیے ڈگری کی ضرورت نہیں۔ چند کامیاب مثالوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ نہیں بتایا جاتا کہ وہ افراد کتنی محنت، مہارت اور مخصوص حالات کے باعث کامیاب ہوئے۔ اس طرح کی یکطرفہ اور غیر ذمہ دارانہ گفتگو نوجوانوں کو گمراہ کرتی ہے اور ان کے ذہن میں تعلیم کے بارے میں منفی سوچ پیدا کرتی ہے۔

مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر فوری شہرت اور آسان پیسے کا تصور بھی نوجوانوں کو تعلیم سے دور کر رہا ہے۔ جب ایک نوجوان دیکھتا ہے کہ کوئی شخص بغیر تعلیم کے صرف ویڈیوز بنا کر پیسہ کما رہا ہے تو وہ طویل تعلیمی سفر کو غیر ضروری سمجھنے لگتا ہے، حالانکہ یہ کامیابی عموماً عارضی ہوتی ہے اور ہر کسی کے لیے ممکن نہیں۔

تعلیم سے دوری کی دیگر وجوہات بھی کم اہم نہیں ہیں۔ سب سے پہلی وجہ بے روزگاری ہے۔ جب ڈگری کے باوجود ملازمت نہ ملے تو تعلیم پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ دوسری وجہ تعلیم اور مارکیٹ کے درمیان خلا ہے، جہاں یونیورسٹیاں وہ مہارتیں نہیں دے رہیں جو انڈسٹری کو درکار ہیں۔ تیسری وجہ معاشی دباؤ ہے، جہاں بہت سے نوجوان جلدی کمانا چاہتے ہیں تاکہ گھر کی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔ چوتھی وجہ تعلیم کا معیار ہے، جہاں کئی اداروں میں محض ڈگری دی جاتی ہے، علم اور مہارت نہیں۔ پانچویں وجہ رہنمائی یعنی کیریئر کاؤنسلنگ کی کمی ہے، جس کے باعث طلبہ درست سمت کا انتخاب نہیں کر پاتے۔

ان تمام مسائل کے باوجود یہ کہنا کہ تعلیم بے فائدہ ہو چکی ہے، حقیقت سے دور ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیم کو صرف ڈگری تک محدود کر دیا ہے، جبکہ جدید دنیا میں کامیابی کے لیے تعلیم کے ساتھ عملی مہارتیں، ٹیکنالوجی کا علم اور تخلیقی سوچ بھی ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تعلیم صرف نوکری حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شعور، تنقیدی سوچ اور بہتر فیصلہ سازی کی بنیاد ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف اپنی زندگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشرے میں مثبت تبدیلی بھی لاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں تعلیم کو صرف معاشی نہیں بلکہ سماجی اور فکری ترقی کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

مختصراً، پاکستان میں تعلیم کا فائدہ ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے نظام، پالیسی اور سماجی رویّوں میں اصلاح کی ضرورت ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات کو متوازن کرنے، تعلیمی بجٹ بڑھانے، نصاب کو جدید بنانے اور تعلیم کو عملی مہارتوں سے جوڑنے کی اشد ضرورت ہے۔ جب یہ اصلاحات آئیں گی تو یہی تعلیم پاکستان کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کا سب سے مضبوط ذریعہ بن سکتی ہے۔

 

حوالہ جات

World Bank – Education Spending Data (% of GDP)
UNESCO – Global Education Monitoring Reports
OECD – Education at a Glance Reports
Government of Pakistan – Economic Survey of Pakistan
Government of India – Union Budget Documents
Government of China – National Education Statistics Reports

 


Tuesday, March 31, 2026

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد کی ریٹائرمنٹ پر خراجِ تحسین

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد کی ریٹائرمنٹ پر خراجِ تحسین


آج ہم ایک عظیم ماہرِ تعلیم، مدبر اور شفیق استاد پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر انہیں دل کی گہرائیوں سے خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ آپ نے بطور سابق پرنسپل گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان، سابق پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ کالج سول لائنز ملتان، اور سابق رجسٹرار ایمرسن یونیورسٹی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں، بصیرت اور قائدانہ کردار کے ذریعے تعلیمی اداروں کو نئی بلندیوں تک پہنچایا۔

انگریزی ادب اور لسانیات کے میدان میں آپ کی خدمات نہایت نمایاں اور قابلِ قدر ہیں۔ آپ نے نہ صرف کلاسیکی اور جدید انگریزی ادب کی تدریس کو مؤثر انداز میں فروغ دیا بلکہ طلبہ میں تنقیدی فکر، تجزیاتی صلاحیت اور تحقیقی رجحان کو بھی پروان چڑھایا۔ ادب کی مختلف اصناف شاعری، ناول، ڈرامہ اور تنقید   پر آپ کی گہری دسترس نے طلبہ کو مضامین کو محض پڑھنے کے بجائے سمجھنے اور ان پر تحقیق کرنے کی صلاحیت عطا کی۔

لسانیات کے شعبے میں آپ نے زبان کی ساخت، صوتیات (آوازوں کا علم)، صرف و نحو (الفاظ اور جملوں کی ساخت کا علم) اور معنیات (معانی کا علم) جیسے اہم پہلوؤں کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا۔ آپ نے طلبہ کو زبان کو ایک سائنسی، فکری اور معاشرتی نظام کے طور پر سمجھنے کی تربیت دی، جس کے نتیجے میں ان کے شاگرد تدریس اور تحقیق کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

آپ کی علمی رہنمائی کا اثر اس بات سے واضح ہے کہ انگریزی کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق حاصل کرنے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد آپ کے شاگردوں پر مشتمل ہے۔ آپ نے طلبہ کو تحقیق کے اصول، مقالہ نویسی کے تقاضے اور علمی دیانت کی اہمیت سے روشناس کروایا، جس کے نتیجے میں کئی شاگردوں نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔

بطور منتظم، آپ نے تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط، تحقیقی ماحول اور اساتذہ و طلبہ کے درمیان مثبت اور تعمیری روابط کو فروغ دیا۔ آپ کی قیادت میں اداروں میں ایک ایسا علمی ماحول قائم ہوا جہاں علم، تحقیق اور کردار سازی کو اولین حیثیت حاصل رہی۔

پروفیسر ڈاکٹر ضیاء احمد صرف ایک استاد نہیں بلکہ ایک رہنما، مربی اور ایک ادارہ ساز شخصیت ہیں جنہوں نے اپنے علم، کردار اور اخلاص سے بے شمار زندگیوں کو متاثر کیا۔ آپ کی ریٹائرمنٹ بلاشبہ ایک عہد کا اختتام ہے، مگر آپ کی علمی و فکری خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔

ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت، خوشی اور سکون سے بھرپور زندگی عطا فرمائے۔ آپ کی خدمات ہمیشہ سنہری حروف میں یاد رکھی جائیں گی۔

 


Friday, March 20, 2026

لازوال محبت کی داستان - محمد علی اور زیبا بیگم

 لازوال محبت کی داستان - محمد علی اور زیبا بیگم

محمد علی پاکستان کی فلمی تاریخ کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہیں شہنشاہِ جذبات کہا جاتا ہے۔ ان کی پیدائش 19 اپریل 1931 کو رامپور (برطانوی ہندوستان) میں ہوئی، جبکہ ان کی وفات 19 مارچ 2006 کو ہوئی۔ انہوں نے اپنی بھرپور اداکاری، مضبوط مکالمہ ادائیگی اور گہرے جذبات کے اظہار سے اردو فلمی صنعت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ ان کی شخصیت میں وقار اور سنجیدگی تھی جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بناتی تھی۔

زیبا بیگم پاکستان کی معروف اداکارہ ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنی خوبصورتی بلکہ اپنے فن کے ذریعے بھی ایک خاص مقام حاصل کیا۔ محمد علی اور زیبہ بیگم کی ملاقات فلمی دنیا میں ہوئی اور یہ تعلق وقت کے ساتھ ایک مضبوط اور سچی محبت میں ڈھل گیا۔ 1966 میں ان کی شادی ہوئی، جو ایک ایسے رشتے کی بنیاد بنی جس میں خلوص، اعتماد اور وفاداری نمایاں تھی۔

دونوں نے زندگی کے کئی اتار چڑھاؤ ایک ساتھ گزارے۔ محمد علی نے جہاں اپنے فن کے ذریعے شہرت حاصل کی، وہیں زیبہ بیگم نے ہر مرحلے پر ان کا ساتھ دیا۔ ان کا رشتہ محض ایک شوہر اور بیوی کا تعلق نہیں تھا بلکہ ایک گہری دوستی اور بے لوث محبت کی مثال بھی تھا۔

محمد علی کی وفات کو ایک طویل عرصہ گزر چکا ہے، مگر ان کی یادیں آج بھی زندہ ہیں۔ موجودہ ویڈیو میں زیبا بیگم کو محمد علی کی قبر پر حاضری دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ نہایت محبت اور عقیدت کے ساتھ قبر اور ان کے نام کو چھو رہی ہیں، جیسے وہ آج بھی اسی رشتے کو محسوس کر رہی ہوں۔

یہ لمحہ نہایت جذباتی ہے، جہاں الفاظ کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی بلکہ احساس خود بولنے لگتا ہے۔ ان کے چہرے کے تاثرات اور انداز سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ محبت وقت کے گزرنے سے کم نہیں ہوتی بلکہ اور گہری ہو جاتی ہے۔ یہ منظر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ کچھ رشتے جسمانی موجودگی سے نہیں بلکہ دل کی وابستگی سے زندہ رہتے ہیں۔

محمد علی اور زیبا بیگم کی محبت ایک ایسی حقیقت ہے جو وقت، فاصلے اور جدائی کے باوجود آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ ایک خاموش مگر طاقتور جذبہ ہے جو یادوں میں سانس لیتا ہے اور دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔


https://www.youtube.com/shorts/UyqwuRMX0A0



 

Thursday, March 19, 2026

میسوجنی (عورت دشمنی) ایک ہمہ جہتی سماجی مسئلہ

میسوجنی، جسے اردو میں عورت دشمنی کہا جاتا ہے، ایک ایسا منفی رویہ اور سوچ ہے جس کے تحت عورتوں کو کمتر، کمزور یا غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف کسی فرد کی ذاتی نفرت تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی مسئلہ ہے جو صدیوں سے مختلف معاشروں میں مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ میسوجنی کا اثر عورتوں کی زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، روزگار ہو، گھریلو زندگی ہو یا سماجی شرکت۔ میسوجنی کی جڑیں تاریخ میں بہت پیچھے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ قدیم معاشروں میں اکثر مردوں کو طاقت اور اختیار کا مرکز سمجھا جاتا تھا جبکہ عورتوں کو گھریلو دائرے تک محدود رکھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ سوچ روایات، رسومات اور سماجی اقدار کا حصہ بنتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر بعض معاشروں میں لڑکی کی پیدائش کو خوشی کی بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے، جبکہ لڑکے کی پیدائش پر جشن منایا جاتا ہے۔ یہ امتیاز بچپن ہی سے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے اور بڑے ہو کر یہی بچے اسی سوچ کو آگے بڑھاتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی میسوجنی واضح نظر آتی ہے۔ کئی علاقوں میں آج بھی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا ان کی تعلیم کو غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دیہی علاقوں میں اکثر والدین یہ سوچ رکھتے ہیں کہ لڑکی نے آخرکار شادی کر کے گھر سنبھالنا ہے، اس لیے اس پر زیادہ سرمایہ کاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس لڑکوں کی تعلیم کو مستقبل کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً خواتین کی بڑی تعداد اپنے حقوق اور مواقع سے محروم رہ جاتی ہے۔
ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی عورتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین کو برابر کام کے بدلے کم تنخواہ دی جاتی ہے، یا انہیں اہم عہدوں تک پہنچنے سے روکا جاتا ہے۔ ایک عام مثال یہ ہے کہ کسی دفتر میں اگر ایک مرد اور ایک عورت برابر صلاحیت رکھتے ہوں، تو اکثر ترقی مرد کو دی جاتی ہے کیونکہ اسے زیادہ "قابل" یا "مستحکم" سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کام کی جگہ پر ہراسانی، غیر مناسب رویہ اور خواتین کی قابلیت پر شک بھی میسوجنی کی نمایاں شکلیں ہیں۔
گھریلو سطح پر میسوجنی کا اثر اور بھی گہرا ہوتا ہے۔ بہت سی عورتیں گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں، مگر سماجی دباؤ یا بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہے تو اسے اکثر یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ "گھر کی بات گھر میں ہی رہنی چاہیے"۔ اس طرح ظلم کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور عورت کی زندگی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ میڈیا اور ثقافت بھی میسوجنی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں اور اشتہارات میں اکثر عورت کو کمزور، جذباتی یا صرف خوبصورتی کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مرد کو طاقتور، فیصلہ ساز اور کامیاب دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح کے کردار عوام کے ذہنوں میں ایک خاص تصور پیدا کرتے ہیں جو حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر اشتہارات میں عورت کو صرف گھر کے کام کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جبکہ مرد کو باہر کے کاموں میں مصروف دکھایا جاتا ہے۔
میسوجنی کی ایک اور خطرناک شکل آن لائن دنیا میں نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر خواتین کو ہراساں کرنا، ان پر تنقید کرنا یا ان کی کردار کشی کرنا عام ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے منفی تبصروں، دھمکیوں یا طنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسی بات پر مرد کو سراہا جاتا ہے۔ یہ رویہ خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے سے روکتا ہے۔
میسوجنی کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ مسلسل امتیازی سلوک اور تحقیر کا سامنا کرنے سے خواتین میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایک باصلاحیت لڑکی اگر بار بار یہ سنے کہ وہ کسی کام کے قابل نہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف عورتوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب آدھی آبادی کو پیچھے رکھا جائے تو معاشرہ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر اگر خواتین کو تعلیم اور روزگار کے برابر مواقع ملیں تو وہ معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، جس سے ملکی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔
میسوجنی کے خاتمے کے لیے سب سے اہم قدم تعلیم ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی یہ سکھانا ضروری ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں اور دونوں کو یکساں عزت اور حقوق حاصل ہیں۔ تعلیمی نصاب میں بھی صنفی برابری کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ قانون سازی بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کو ایسے قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔ مثال کے طور پر ہراسانی، گھریلو تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کو مؤثر بنایا جائے اور متاثرہ خواتین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ انہیں ایسے مواد کو فروغ دینا چاہیے جو خواتین کو مضبوط، باصلاحیت اور خودمختار دکھائے۔ مثبت کردار اور کامیاب خواتین کی کہانیاں معاشرے میں ایک اچھا پیغام دے سکتی ہیں۔
مذہبی اور سماجی رہنما بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے خطبات اور تقاریر میں عورتوں کے حقوق اور احترام پر زور دیں اور غلط روایات کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسلام سمیت تمام مذاہب عورت کو عزت اور حقوق دیتے ہیں، لیکن ان تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ میسوجنی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کا حل صرف ایک فرد یا ادارہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب ہم اپنی سوچ بدلیں گے، دوسروں کا احترام کریں گے اور انصاف کو فروغ دیں گے، تب ہی ہم ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکیں گے جہاں عورت اور مرد دونوں برابر کے حقوق کے ساتھ ایک بہتر زندگی گزار سکیں۔

عورت کا احترام دراصل انسانیت کا احترام ہے، اور یہی ایک مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی اصل پہچان ہے۔

 

Monday, August 4, 2025

پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا بحران


پاکستان کی اعلیٰ تعلیم کا شعبہ ایک اہم چیلنج سے دوچار ہے۔ گزشتہ چند سالوں سے ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے، جو نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ پالیسی سازوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے گہرے اور دور رس اثرات ملک کے سماجی و اقتصادی مستقبل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس مسئلے کی وجوہات کو سمجھنا اور ان کا تدارک کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستانی یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں کمی کے کئی اسباب ہیں، جنہیں مختلف پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے جیسے کہ معاشی، سماجی اور تعلیمی عوامل۔ موجودہ اقتصادی صورتحال نے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے اور تعلیم بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری کے باعث والدین کے لیے اپنے بچوں کی یونیورسٹی کی تعلیم کا خرچہ اٹھانا مشکل ہو گیا ہے۔ فیسوں میں مسلسل اضافہ، ہاسٹل، کتابوں اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات نے تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ سے دور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے طلباء تعلیم ادھوری چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں لگ جاتے ہیں تاکہ اپنے خاندان کی مالی مدد کر سکیں۔

اس کے ساتھ ساتھ، تعلیمی معیار میں گراوٹ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ کئی نئی یونیورسٹیاں بغیر مناسب منصوبہ بندی کے قائم کی گئی ہیں جہاں مناسب انفراسٹرکچر، تجربہ کار اساتذہ اور جدید سہولیات کا فقدان ہے۔ ایسی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنا طلباء کے لیے وقت اور پیسے کا ضیاع محسوس ہوتا ہے کیونکہ یہ ڈگریاں روزگار کے میدان میں ان کے لیے کارآمد ثابت نہیں ہوتیں۔ پرائیویٹ یونیورسٹیاں زیادہ تر فیس جمع کرنے پر توجہ دیتی ہیں، جبکہ تعلیم کے معیار کو نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔

یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے کا ایک بنیادی مقصد اچھی نوکری حاصل کرنا ہوتا ہے، مگر بدقسمتی سے پاکستان میں پڑھے لکھے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اکثر طویل عرصے تک بیروزگار رہتے ہیں، جس سے نوجوانوں میں مایوسی اور بے یقینی پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ اگر ڈگری کے بعد بھی روزگار کی کوئی ضمانت نہیں تو اعلیٰ تعلیم کا فائدہ کیا ہے۔ یہ سوچ طلباء کو یونیورسٹی میں داخلہ لینے سے روک دیتی ہے، خاص طور پر ان شعبوں میں جن میں روزگار کے مواقع کم ہیں۔

اس کے علاوہ یونیورسٹیوں کا نصاب بھی جدید صنعتی اور عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوتا۔ طلباء کو وہ مہارتیں نہیں سکھائی جاتیں جو آج کے دور میں ضروری ہیں، اور تحقیق کا رجحان بھی انتہائی کمزور ہے۔ لیبارٹریز، تحقیقاتی سہولیات اور سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے طلباء کو جدید مسائل پر کام کرنے کا موقع نہیں ملتا، جس سے ان کی علمی اور عملی صلاحیتیں محدود رہ جاتی ہیں۔ ٹیکنیکل اور ہنر پر مبنی تعلیم کے فروغ نے اگرچہ کچھ طلباء کو روزگار دلوانے میں مدد دی ہے، مگر اس کا ایک اثر یہ بھی ہوا ہے کہ روایتی یونیورسٹی ڈگریوں کی اہمیت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

پاکستان میں تعلیمی معیار کی گراوٹ بھی ایک تلخ حقیقت ہے جو نہ صرف داخلوں کی شرح میں کمی کا باعث بنی بلکہ پورے تعلیمی نظام کو متاثر کر رہی ہے۔ کئی یونیورسٹیوں میں اساتذہ کی بھرتی کا معیار پست ہے اور ان کی تربیت پر بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ تحقیق کے میدان میں بھی صورتحال تشویشناک ہے؛ فنڈنگ کی کمی، سہولیات کا فقدان اور اشاعت کے محدود ذرائع تحقیق کے فروغ میں رکاوٹ ہیں۔ انفراسٹرکچر کی کمی جیسے کہ جدید لیبارٹریز، ڈیجیٹل لائبریریاں اور کمپیوٹر مراکز کی عدم دستیابی طلباء کی عملی تعلیم کو متاثر کرتی ہے۔

ان مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ یونیورسٹی فیسوں میں کمی کرے اور کم آمدنی والے طلباء کے لیے اسکالرشپس اور تعلیمی قرضے فراہم کرے تاکہ تعلیم ہر طبقے کے لیے قابلِ رسائی ہو۔ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت پالیسیوں کی ضرورت ہے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔ نصاب کو جدید صنعتی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور جدید شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ تحقیق کے لیے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں اور یونیورسٹیوں اور صنعتوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیا جائے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت کو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی سرپرستی کرنی چاہیے اور یونیورسٹیوں کو کیریئر گائیڈنس سینٹرز کو فعال بنانا چاہیے تاکہ طلباء کو نوکریوں کے لیے تیار کیا جا سکے۔

یونیورسٹیوں میں داخلوں کی شرح میں کمی اور تعلیمی معیار کی گراوٹ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں اور معاشرے کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ تعلیم میں سرمایہ کاری، معیار کی بہتری اور روزگار کی فراہمی کے اقدامات ہی وہ پائیدار حل ہیں جن کے ذریعے ہم اپنی نوجوان نسل کے مستقبل کو محفوظ اور ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔



 


Saturday, August 2, 2025

زندگی کی واپسی (افسانہ)

کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی طاری تھی۔ ایسی خاموشی، جو موت سے ذرا پہلے آ کر دل کے کسی سنسان کونے میں بیٹھ جاتی ہے اور سانسوں کے بجتے ساز کو دھیما کر دیتی ہے۔ احمد کا جسم بستر پر بے جان سا پڑا تھا۔ آکسیجن ماسک سے ہلکی ہلکی سانسوں کی مدھم آواز سنائی دے رہی تھی۔ نرس آئی، اس کی نبض چیک کی، آکسیجن کا بہاؤ بڑھایا، اور آہستگی سے دروازہ بند کر کے چلی گئی۔ لیکن احمد کے بند پلکوں کے پیچھے ایک ہلچل سی تھی، جیسے کوئی سوئی ہوئی روشنی جاگنے لگی ہو۔ دفعتاً اندھیرے میں ایک آہٹ ہوئی، جیسے کسی نے آ کر اس کے دل کے دروازے پر دستک دی ہو۔ ایک سوال ابھرا: "اگر ایک بار پھر موقع ملے زندگی کو جینے کا، وہ زندگی جو تمہاری تھی، تو کیا تم قبول کرو گے؟" احمد نے کوئی جواب نہ دیا، مگر اس کی روح میں ہلکی سی جنبش ہونے لگی، جیسے کوئی بھولی بسری یاد دھیرے دھیرے آنکھیں کھول رہی ہو۔ روشنی اور سائے کے درمیان ایک منظر ابھرا۔ احمد نے آنکھیں بند کیے کسی کو آتے دیکھا — سفید لباس میں، نرم چال سے چلتا ہوا، نگاہوں میں سکون لیے۔

موت نے کہا، "بس کچھ پل باقی ہیں احمد۔ بس ذرا سا فاصلہ ہے تمہارے اور میرے درمیان۔" پھر دوسری طرف ایک چمکدار سایہ نمودار ہوا، جیسے روشنی نے خود کو مجسم کر لیا ہو۔ وہ زندگی تھی۔ اس نے کہا، "نہیں، وہ ابھی جاگ سکتا ہے۔ وہ ابھی جی سکتا ہے۔ اسے موقع دو۔" احمد کی روح نے سوال کیا، "کیا واقعی میرے لیے کچھ باقی ہے؟ میں تو برسوں سے صرف زندہ رہا ہوں، جیا نہیں۔" زندگی نے ہنس کر جواب دیا، "میں نے کئی بار آواز دی، تم نے سنا نہیں۔ تم نے خود کو دفتری حاضری، یوٹیلٹی بل، دوپہر کی چائے، اور قسطوں کی ہتھکڑیوں میں قید کر لیا۔ مگر میں تب بھی تمہارے اندر موجود رہی — تمہارے گٹار میں، تمہارے ادھورے شعروں میں، تمہارے خوابوں میں۔" احمد نے دھیرے سے کہا، "وہ خواب... جو میں نے آخری بار اس دن دیکھے تھے، جب میرا پہلا بچہ پیدا ہوا تھا۔ تب میں نے خود سے کہا تھا: خوابوں کا وقت ختم، اب ذمہ داری شروع۔"

زندگی اس کے قریب آئی اور نرمی سے بولی، "ذمہ داری کا مطلب یہ نہیں کہ تم خود کو دفن کر دو۔ تم جو بننا چاہتے تھے، وہ اب بھی تم بن سکتے ہو۔ بس ایک ہاں چاہیے۔" تبھی موت نے قدم آگے بڑھایا اور کہا، "یاد رکھو احمد، میں بہت نرم ہوں، بہت سادہ۔ میرے بعد نہ بل آتے ہیں، نہ تھکن، نہ بھاگ دوڑ۔ صرف سکون ہوتا ہے۔" زندگی نے جواب دیا، "لیکن میرے بعد وہ سب ہوتا ہے، جو تم نے صرف محسوس کیا، مگر کبھی چھوا نہیں۔ وہ گیت، وہ پہاڑ، وہ عشق... وہ تم۔" موت نے کہا، "چلو احمد، تھک گئے ہو نا؟" زندگی نے پکارا، "چلو احمد، جاگ لو نا۔"

احمد کی پلکوں کے نیچے نمی کی ایک بوند ٹھہر گئی۔ اس نے جیسے دل کے اندر سے صدیوں پرانی زنجیر توڑی اور بس اتنا کہا، "میں تھکا ضرور ہوں، مگر مرا نہیں۔ میں جینا چاہتا ہوں... اپنی زندگی۔" تب روشنی کا ایک جھماکا ہوا۔ احمد کی آنکھیں کھل گئیں۔ نرس چونک گئی، قریب آئی اور بولی، "آپ جاگ گئے؟" احمد نے ہولے سے مسکرایا۔ اس کی آواز دھیمی، مگر پُرعزم تھی: "نہیں، اب جاگا ہوں۔ اب میں اپنی زندگی جینے والا ہوں۔"

  

Saturday, July 19, 2025

جب تعلیم جرم، اور جہالت انعام بن جائے!



 پاکستان کے آئین کے مطابق تعلیم، صحت اور سیکیورٹی ہر شہری کا بنیادی حق ہیں، اور ان کی فراہمی ریاست کی آئینی، اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ یہی بنیاد تھی جس پر ریاست عوام سے مختلف نوعیت کے ٹیکسز، محصولات اور ڈیوٹیاں لیتی ہے تاکہ شہریوں کو ایک باوقار، محفوظ اور باعلم زندگی فراہم کی جا سکے۔ مگر بدقسمتی سے یہ آئینی وعدے اب محض کاغذی دعوے بن چکے ہیں۔ ریاست کی ترجیحات میں نہ تعلیم ہے، نہ صحت اور نہ ہی عوامی تحفظ۔ اصل ترجیح اشرافیہ کا تحفظ، مراعات یافتہ طبقے کا تسلسل، اور عوامی شعور کا انسداد بن چکی ہے۔

خاص طور پر تعلیم کا شعبہ، جو کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے، آج پاکستان میں بدترین زوال کا شکار ہے۔ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض انتظامی غفلت یا مالی مشکلات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی منصوبہ بندی دکھائی دیتا ہے — ایک سازش جس کا مقصد عوام کو باشعور شہری بننے سے روکنا ہے، تاکہ وہ حکمرانوں سے سوال نہ کر سکیں، احتساب نہ مانگ سکیں، اور غلامی کو تقدیر سمجھ کر قبول کر لیں۔

آج اگر پنجاب کے کالج اساتذہ کی حالت پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس ریاست کی نظر میں استاد کی کیا وقعت رہ گئی ہے۔ ان کی تنخواہیں سالوں سے منجمد ہیں، کنوینس الاؤنس، بجلی کی سبسڈی، صحت سہولیات اور دیگر معمولی مراعات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ تنخواہوں میں کٹوتیاں، بے جا ٹیکسز، اور "ریبیٹس ریورسل" جیسے ذلت آمیز حربے متعارف کروائے گئے ہیں۔ استاد اگر آواز اٹھائے تو اس پر انکوائری، شوکاز نوٹس اور انتقامی کارروائیاں شروع کر دی جاتی ہیں۔ گویا سوال کرنا جرم ہے، اور تعلیم دینا ایک بغاوت!

یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب حکمران طبقہ دن بہ دن اپنی مراعات میں اضافہ کر رہا ہے۔ حالیہ بجٹ میں وفاقی وزیروں اور ارکانِ اسمبلی کی تنخواہوں میں چھ سو گنا اضافہ کر دیا گیا، جب کہ عام سرکاری ملازمین، خصوصاً تعلیم اور صحت سے جڑے افراد کے لیے محض 10 فیصد اضافہ کیا گیا وہ بھی اس وقت جب مہنگائی کی شرح 30 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ پیٹرول، بجلی، گیس، دوا، آٹا سب کچھ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے، مگر حکمرانوں کی گاڑیاں نئی ہو رہی ہیں، دفاتر کی آرائش پر کروڑوں لگ رہے ہیں، اور پروٹوکول کے قافلے لمبے ہوتے جا رہے ہیں۔

مزید خطرناک پہلو یہ ہے کہ ریاست تعلیمی اداروں کو جان بوجھ کر تباہ کر کے انہیں پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کر رہی ہے اور وہ پرائیویٹ سیکٹر اب صرف اہل افراد کے نہیں بلکہ ان پڑھ، دولت مند اور بااثر لوگوں کے قبضے میں ہے جن کا مقصد تعلیم دینا نہیں بلکہ تعلیم کو کنٹرول کرنا ہے۔ یہ ادارے نصاب، امتحانات، تقرریاں، داخلے اور ڈگری سب کچھ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں۔ وہاں نہ میرٹ ہے، نہ شفافیت، نہ نظریاتی توازن۔ یوں علم فروشی کو کاروبار میں بدلا گیا ہے، اور طالب علم محض ایک کسٹمر بن کر رہ گیا ہے۔

یہ صورتحال اس وقت زیادہ ہولناک ہو جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ انہی جعلی اور کاروباری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل افراد اب خود پالیسی ساز بن چکے ہیں۔ ریاست نے ادارے ان لوگوں کے حوالے کر دیے ہیں جن کے لیے تعلیم کا مطلب صرف ڈگری ہے اور شعور صرف خطرہ۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ریاست پیچھے ہٹی اور غیر ریاستی عناصر، سرمایہ دار، مذہبی گروہ، سیاسی خاندان اور بین الاقوامی این جی اوز نے تعلیم پر قبضہ کر لیا۔ وہی پڑھا رہے ہیں، وہی نصاب لکھ رہے ہیں، وہی اقدار طے کر رہے ہیں، اور وہی یہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ نئی نسل کو کیا سوچنا ہے، کیا نہیں سوچنا۔

یہی وہ روش تھی جو ماضی میں کئی ریاستوں کے زوال کا سبب بنی۔ جب تعلیم کو نظریاتی ہتھیار بنا کر عوام کو تقسیم کیا جاتا ہے، جب اداروں کو بیچا جاتا ہے، جب ملک کی فکری باگ ڈور شعور دشمن قوتوں کے ہاتھ میں آ جاتی ہے، تو پھر ریاستیں صرف معاشی نہیں، فکری اور جغرافیائی طور پر بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔

پاکستان کے نوجوان جب یہ کہتے ہیں کہ "اتنی پڑھائی کا کیا فائدہ؟" تو یہ صرف ایک ذاتی مایوسی نہیں بلکہ ایک اجتماعی المیہ ہے۔ یہ اس ریاست کی ناکامی کا اعلان ہے جس نے اپنے شہریوں کو اعتماد، راستہ، مقصد اور امید دینے کی بجائے ان سے سب کچھ چھین لیا۔

ریاست اگر واقعی اپنی بقا اور عوام کی بہتری چاہتی ہے تو اسے اب تقاریر سے آگے بڑھ کر حقیقی اقدامات کرنا ہوں گے۔ اساتذہ کو معاشی تحفظ دینا ہوگا، اداروں کو خودمختاری دینا ہوگی، تعلیم کو کاروبار سے نکال کر خدمت کے دائرے میں لانا ہوگا۔ نصاب کو آزاد، جامع اور انسان دوست بنانا ہوگا، نہ کہ مخصوص طبقے، فرقے یا نظریے کی خدمت کا آلہ۔ پرائیویٹائزیشن کے نام پر جو تباہی مچائی جا رہی ہے، اسے روکنا ہوگا اور عوامی اداروں کو دوبارہ فعال، باوقار اور مؤثر بنانا ہوگا۔

کیونکہ قومیں اس وقت مٹتی ہیں جب وہ تعلیم کو دفن کر دیتی ہیں، اور جہالت کو جھنڈا تھما دیتی ہیں۔ افسوس کہ آج ہماری ریاست اسی راہ پر گامزن ہے  جہاں شعور ایک خطرہ اور اندھی تقلید ایک خوبی بن چکی ہے۔


Saturday, March 29, 2025

حقیقتِ زندگی: خواب یا کیمیائی ترکیب؟


کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ یہ زندگی، زندگی نہیں بلکہ ایک خواب ہے۔ ہماری اصل زندگی ولادت سے پہلے کہیں سرگرمِ عمل تھی اور مرنے کے بعد پھر مصروفِ عمل ہو جائے گی۔ جس طرح ایک مسافر کو چلتے چلتے نیند آ جاتی ہے اور وہ نیند میں ایک سہانا خواب دیکھنا شروع کر دیتا ہے، اِسی طرح چلتے چلتے ہمیں نیند نے آ لیا اور ایک خواب شروع ہو گیا۔ اِسی خواب میں ہم بیدار ہوئے، تعلیم حاصل کی، ملازمت کی، پنشن ملی، بڑھاپا آیا، مر گئے اور جیسے ہی آنکھ کھلی، تو معلوم ہوا کہ:

"خواب تھا جو کچھ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا۔"

ہم ہر رات خواب دیکھتے ہیں، جس میں ہم کھا پی رہے ہوتے ہیں، کھیل رہے ہوتے ہیں، کبھی اپنی کامیابی پر خوش ہوتے ہیں تو کبھی کسی ڈراؤنے خواب سے پریشان ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب صبح آنکھ کھلتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ سب تو خواب تھا۔ اگر فرض کریں کہ ہم چالیس سال تک نہ جاگیں، تو ہم اِسی خواب کو ہی اپنی اصلی زندگی سمجھنے لگیں گے۔ یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ کیا یہ زندگی حقیقت ہے یا خواب؟ مرزا غالب نے کہا تھا:

"ہے غیب غیب جس کو سمجھتے ہیں ہم شہود
ہیں خواب میں ہنوز، جو جاگے ہیں خواب میں۔"

حضرت محمد ﷺ نے فرمایا: "لوگ سو رہے ہیں، مرتے ہی جاگ اٹھیں گے۔"

نیند کیا ہے؟ موت و حیات کا ایک ہلکا سا تجربہ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ سورۃ الزمر، آیت 42 میں فرماتا ہے: "اللہ موت کے وقت انسانوں کی روحیں پوری طرح قبض کر لیتا ہے اور زندوں کو ہر شب موت کا نقشہ دکھاتا ہے۔"

ایک بزرگ نے زندگی کو یوں بیان کیا تھا:

"زندگی ایک دم کا وقفہ ہے، یعنی آگے چلیں گے، دم لے کر۔"

ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ زندگی کیا ہے؟ اس کی ابتدا کیسے ہوئی؟ اور یہ کیسے ختم ہو جاتی ہے؟ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ کائنات مختلف عناصر (Elements) سے بنی ہے، جو مخصوص تناسب میں مرکبات (Compounds) بناتے ہیں۔ یہی تناسب زندگی کی بنیاد ہے، اور اِس تناسب کا ٹوٹ جانا ہی موت ہے۔ مثال کے طور پر، پانی (H2O) زندگی ہے، جو زمین کے 70 فیصد حصے پر موجود ہے۔ اگر آکسیجن کی مقدار ذرا سی بھی زیادہ ہو جائے، تو یہ ہائیڈروجن پر آکسائیڈ (H2O2) بنا دیتی ہے، جو زہر ہے۔

یہ اللہ کی حکمت ہے کہ وہ نہ صرف ان عناصر کو ایک خاص ترتیب میں رکھتا ہے بلکہ کسی قسم کا بگاڑ بھی پیدا نہیں ہونے دیتا۔ اگر آج یہ قوتِ قاہرہ اپنی نگرانی اٹھا لے، تو کائنات کا شیرازہ بکھر جائے، عناصر تحلیل ہو کر اپنے مراکز کی طرف بھاگنے لگیں اور دنیا میں صرف دھواں ہی دھواں رہ جائے۔

"زندگی کیا ہے؟ عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے؟ انہی اجزاء کا پریشان ہونا۔"

اللہ تعالیٰ سورۃ انعام، آیت 61-62 میں فرماتا ہے: "کائنات پر اسی کی مشیتِ قاہرہ کی حکمرانی ہے، اور اس نے تم پر محافظ مقرر کر رکھے ہیں جو ترکیب عناصر کی حفاظت کرتے ہیں، اور یہ حفاظت موت (یعنی تحلیل عناصر) تک جاری رہتی ہے۔"

یہ حقیقت ہے کہ تمام جانداروں کی ترکیب آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن، نائٹروجن اور چند نمکیات سے ہوئی ہے۔ ان اجزاء کی مخصوص نسبت میں ذرا برابر تبدیلی بھی کائنات کے نظام کو بگاڑ کر رکھ دے گی۔ انسانی جسم کا تقریباً 99 فیصد حصہ آکسیجن، کاربن، ہائیڈروجن، نائٹروجن، کیلشیم اور فاسفورس پر مشتمل ہوتا ہے، جبکہ 0.85 فیصد پوٹاشیم، سلفر، سوڈیم، کلورین اور میگنیشیم پر مشتمل ہوتا ہے۔

اگر ایک انسان کے جسم میں موجود عناصر کی قیمت کا تخمینہ لگایا جائے تو وہ تقریباً 1985.77 امریکی ڈالر بنتی ہے، جو آج کے پاکستانی کرنسی کے حساب سے تقریباً 2,45,987 روپے بنتی ہے۔ لیکن اگر کسی انسان کو کروڑوں روپے بھی دے کر کہا جائے کہ اپنی ایک آنکھ دے دو، تو وہ کبھی ایسا نہیں کرے گا۔

انسانی جسم کے یہ عناصر مختلف مرکبات (Compounds) کی صورت میں موجود ہوتے ہیں، اور موت کے بعد یہ مرکبات تحلیل ہو کر دوبارہ عناصر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ سائنسدانوں کے مطابق، انسانی موت کی منصوبہ بندی کہیں پہلے سے ہی اس کے ڈی این اے (DNA) میں شامل ہوتی ہے، جو ایک گھڑی کی طرح موت کے لمحات گنتی رہتی ہے۔ جیسے ہی وقت مقرر آتا ہے، خلیوں کی توڑ پھوڑ شروع ہو جاتی ہے اور انسان موت کی وادی میں چلا جاتا ہے۔

موت کے بعد جسم کا درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، جسے "برودۂ موت" (Algor Mortis) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد تعفن پیدا ہوتا ہے (Decomposition) اور لاش کے اکڑ جانے کے عمل میں مختلف کیمیائی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ جدید طب اور ٹیکنالوجی نے موت کو دل اور سانس کی حرکت رک جانے سے تعبیر کیا ہے، جبکہ آج کا طبیب دماغی موت (Brain Death) کو حیاتیاتی موت (Biological Death) قرار دیتا ہے۔

انسانی جسم پر غور کریں، تو معلوم ہوتا ہے کہ بال اگ رہے ہیں، آنکھیں دیکھ رہی ہیں، دل دھڑک رہا ہے، سانس چل رہی ہے، کان سن رہے ہیں اور دماغ سوچ رہا ہے۔ اس کارخانے کے انجن کا نام "روح" ہے۔ اسی طرح پوری دنیا کے کارخانے میں دریا اور سمندر بہہ رہے ہیں، ہوائیں چل رہی ہیں، سورج روشنی دے رہا ہے، دن اور رات اپنے وقت پر آ جا رہے ہیں۔ مگر ان سب کے پیچھے ایک ہی قوت ہے: اللہ تعالیٰ۔

"تمہاری ترکیب خاکی ذرات سے ہوئی، جس کے انتشار کا وقت بھی مقرر ہو چکا ہے۔" (سورۃ انعام، آیت 6)

انسانی بدن کی تخلیق اللہ کا ایک حیرت انگیز اعجاز ہے، جسے دیکھ کر عقل سربسجود ہو جاتی ہے۔ بدنِ انسانی کی تخلیق خلیوں سے ہوتی ہے، ابتدا میں یہ خلیہ ایک ہوتا ہے، پھر دو، چار، آٹھ میں تقسیم ہو کر بدن کی تشکیل کرتا ہے۔ بعض خلیے کان، بعض آنکھ، بعض ناک اور بعض دیگر اعضاء کی تشکیل پر لگ جاتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ خلیے سازش یا بغاوت کر کے کان کی جگہ ناک اور ناک کی جگہ آنکھ بنا دیں، کیونکہ ایک عظیم طاقت ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہی ہے۔

"ارض و سما کی ہر چیز مشیّتِ ایزدی کو بجا لانے پر مجبور ہے۔" (سورۃ آل عمران، آیت 83)

یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے، اور اسی کی مشیت کے مطابق ترکیبِ عناصر اور تحلیلِ عناصر کا یہ سفر جاری ہے۔

 انسانی جسم کے بنیادی عناصر

کل مالیت ($)

قیمت فی کلوگرام ($)

جسم میں مقدار (kg)

عنصر (Element)

129

3

43

آکسیجن

384

24

16

کاربن

700

100

7

ہائیڈروجن

7.2

4

1.8

نائٹروجن

200

200

1.0

کیلشیم

234

300

0.78

فاسفورس

140

1000

0.14

پوٹاشیم

70

500

0.14

سلفر

25

250

0.10

سوڈیم

0.14

1.5

0.095

کلورین

0.7

37

0.019

میگنیشیم

0.3

72

0.0042

آئرن


عناصر اور ان کے استعمالات

استعمالات
عنصر (Element)
سانس لینے، خون میں آکسیجن کی ترسیل، توانائی کی پیداوار
آکسیجن
ڈی این اے، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور چربی کی تشکیل
کاربن
پانی کا بنیادی جز، خلیوں میں توانائی کے عمل میں مددگار
ہائیڈروجن
پروٹین اور ڈی این اے کی تشکیل، خلیوں کی نشوونما
نائٹروجن
ہڈیوں اور دانتوں کی مضبوطی، خون کے جمنے کا عمل
کیلشیم
ڈی این اے، توانائی کے مالیکیول (ATP) کی تشکیل
فاسفورس
پٹھوں اور اعصاب کی فعالیت، بلڈ پریشر کو متوازن رکھنا
پوٹاشیم
امینو ایسڈز اور پروٹین کی تشکیل
سلفر
اعصابی سگنلز کی ترسیل، پانی کے توازن کا برقرار رکھنا
سوڈیم
جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹس کے توازن کو برقرار رکھنا
کلورین
اعصابی اور عضلاتی نظام کی درستگی، ہڈیوں کی مضبوطی
میگنیشیم
خون میں ہیموگلوبن کی تشکیل، آکسیجن کی ترسیل
آئرن