Visitors

Tuesday, August 25, 2026

تین نسلیں، تین فلمی کردار اور بدلتا ہوا پاکستانی ذہن

پاکستانی معاشرے کی گزشتہ سات دہائیوں کی تاریخ کو اگر صرف سیاست، حکومتوں اور حکمرانوں کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو شاید ہماری اجتماعی نفسیات کی ایک اہم کہانی ہم سے چھپ جائے۔ اس کہانی کو سمجھنے کے لیے پاکستانی سینما بھی ایک اہم آئینہ ہے، کیونکہ فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ وہ اپنے عہد کے خواب، محرومیاں، خواہشیں، خوف، معاشرتی تضادات اور اخلاقی تصورات بھی اپنے اندر سمیٹتی ہے۔

یہ کہنا شاید درست نہ ہو کہ فلموں نے پاکستانی معاشرے کو بنایا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ فلموں نے معاشرے میں پہلے سے موجود رویوں کو کردار، مکالمے اور کہانی دے کر عام ذہن تک پہنچایا اور بعض رویوں کو قابل قبول، قابل تقلید یا قابل فخر بھی بنا دیا۔

پاکستان کے ابتدائی برسوں میں بننے والی فلموں میں سماجی، گھریلو، اصلاحی اور رومانوی موضوعات نمایاں تھے۔ غربت، طبقاتی فرق، خاندانی مسائل، عورت کی مشکلات، معاشی محرومیاں اور سماجی ناانصافیاں بھی فلموں کا حصہ بنتی رہیں۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ پاکستانی سینما نے ہمیشہ معاشرے کو غلط سمت دکھائی۔ بہت سی فلموں نے لوگوں کو ان کے مسائل کا آئینہ دکھایا، سوچنے پر مجبور کیا اور زندگی کے بہتر راستے کی طرف رہنمائی بھی کی۔

اسی دور میں رومانوی فلمیں بھی بہت مقبول ہوئیں۔ محبت، قربانی، جدائی، حسن اور بہتر زندگی کے خواب ان کہانیوں کا حصہ تھے۔ لیکن رومانویت کا یہ تصور معاشرے کے ہر طبقے کے لیے یکساں نہیں تھا۔ ایک طرف معاشی طور پر خوشحال طبقہ تھا جس کے پاس خواب دیکھنے، محبت کو زندگی کا مرکزی مسئلہ بنانے اور آسودہ زندگی کے تصور سے لطف اندوز ہونے کی گنجائش تھی، جبکہ دوسری طرف غریب اور محروم طبقہ تھا جس کے لیے زندگی کا بنیادی سوال روٹی، روزگار، گھر، عزت، انصاف اور معاشی تحفظ تھا۔

یوں ایک ہی معاشرے میں دو مختلف دنیائیں پروان چڑھ رہی تھیں۔ ایک دنیا محبت، حسن اور رومان کے خواب دیکھ رہی تھی اور دوسری دنیا معاشی بقا اور عزت کے لیے جدوجہد کر رہی تھی۔

پھر پاکستانی سینما کے پردے پر ایسے کردار بھی مقبول ہوئے جنہوں نے ہمارے اجتماعی اخلاقی رویوں کو ایک عجیب جواز فراہم کیا۔ 1956 کی فلم سرفروش میں سنتوش کمار کے چور کے کردار سے منسوب مشہور مکالمہ تھا:

”چوری میرا پیشہ ہے، نماز میرا فرض۔“

کہانی میں چوری کرنے والا شخص اذان سن کر نماز کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ ایک فلمی مکالمہ تھا، لیکن بعد کی دہائیوں میں یہ ہمارے معاشرتی رویے کی ایک علامت بن گیا۔ مسئلہ نماز نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ انسان نے اپنے غلط عمل کو ترک کرنے کے بجائے اس کے ساتھ ایک مذہبی عمل جوڑ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کا راستہ تلاش کر لیا۔

چوری بھی جاری، نماز بھی جاری۔

بددیانتی بھی جاری، خیرات بھی جاری۔

ظلم بھی جاری، مذہبی شناخت بھی جاری۔

یوں ہمارے ہاں ایک خطرناک ذہنی رویہ پیدا ہوا کہ اگر انسان کچھ برے کاموں کے ساتھ کچھ نیک کام بھی کر رہا ہے تو شاید اس کے برے اعمال قابل معافی یا قابل قبول ہو جاتے ہیں۔ کردار کی اصل قدر اس کے مجموعی عمل سے ہونے کے بجائے اس کی ظاہری نیکیوں سے ہونے لگی۔

پھر وقت بدلا اور 1970ء کی آخری دہائی اور 1980ء کی دہائی میں پاکستانی خصوصاً پنجابی سینما میں ایک نیا ہیرو سامنے آیا۔ سلطان راہی جیسے اداکاروں نے ڈاکو، باغی، طاقتور اور قانون سے بے نیاز کرداروں کو مقبولیت دی۔ مولا جٹ، رنگا ڈاکو اور اس نوعیت کی بے شمار فلموں میں ایک ایسا ہیرو سامنے آیا جو طاقتور لوگوں سے ٹکراتا، ان سے بدلہ لیتا اور بعض اوقات دولت چھین کر غریبوں کی مدد کرتا تھا۔

یہ کردار محض ایک فلمی کردار نہیں تھا۔ اس کے پیچھے ایک پورا سماجی اور نفسیاتی پس منظر موجود تھا۔ جب ایک عام آدمی کو محسوس ہو کہ قانون طاقتور کے لیے مختلف اور کمزور کے لیے مختلف ہے، جب انصاف تک رسائی مشکل ہو اور بااثر لوگ اپنے اثر و رسوخ سے قانون کو شکست دیتے نظر آئیں تو پھر سینما کا وہ ہیرو عوام کو اپنی خواہش پوری کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے جو خود قانون ہاتھ میں لے کر طاقتور سے حساب لیتا ہے۔

اسی لیے سلطان راہی کا کردار ایک خاص طبقے کے غصے، محرومی اور بے بسی کا اظہار بھی بن گیا۔

لیکن یہاں بھی ایک خطرناک تصور پیدا ہوا۔ انصاف اور انتقام کے درمیان فرق دھندلا ہونے لگا۔ قانون اور طاقت کے درمیان فاصلہ کم ہونے لگا اور یہ تصور مقبول ہونے لگا کہ اگر مقصد اچھا ہو تو طریقہ بھی قابل قبول ہو سکتا ہے۔

یہی وہ ذہنی رویہ تھا جو پہلے چور کو نماز کے ذریعے اپنے عمل کا جواز فراہم کرتا تھا اور اب ڈاکو کو غریب پروری کے ذریعے اپنے عمل کا جواز فراہم کرنے لگا۔

یعنی کردار بدل گیا، مگر منطق کہیں نہ کہیں وہی رہی:

میں غلط کام ضرور کر رہا ہوں، لیکن میرے پاس اپنے غلط کام کو درست ثابت کرنے کی ایک بڑی وجہ موجود ہے۔

یہی سوچ بعد میں ہماری حقیقی زندگی میں بھی مختلف شکلوں میں دکھائی دینے لگی۔ کوئی کرپشن کرتا ہے اور مسجد بناتا ہے، کوئی دوسروں کا حق مارتا ہے اور خیرات کرتا ہے، کوئی ظلم کرتا ہے اور پھر غریبوں میں راشن بانٹ کر اپنے لیے عزت خرید لیتا ہے، کوئی ناجائز دولت بناتا ہے اور اس کا ایک حصہ فلاحی کاموں میں لگا کر خود کو محسن ثابت کرتا ہے۔

یوں سوال یہ نہیں رہتا کہ تم نے کیا کیا، بلکہ سوال یہ بن جاتا ہے کہ تم نے اس کے ساتھ کتنا اچھا کام بھی کیا۔

یہاں آ کر ہماری اخلاقی ترجیحات میں ایک بنیادی خرابی پیدا ہوئی۔ کیونکہ اخلاقیات کا اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ عمل درست ہے یا غلط، نہ کہ یہ کہ غلط عمل کے ساتھ کتنے اچھے کام شامل کر دیے گئے ہیں۔

لیکن پاکستانی سینما کی پوری کہانی صرف منفی نہیں تھی۔ اس دوران بے شمار سماجی، گھریلو اور اصلاحی فلمیں بھی بنتی رہیں جنہوں نے عام آدمی کے مسائل، غربت، خاندانی تنازعات، طبقاتی فرق، عورت کے مسائل، معاشرتی ناانصافی اور معاشی مشکلات کو موضوع بنایا۔ ان فلموں نے کئی لوگوں کو سوچنے، سوال کرنے اور بہتر زندگی کی طرف دیکھنے کا موقع بھی دیا۔

اس لیے فلم کو تمام خرابیوں کا ذمہ دار قرار دینا بھی درست نہیں۔ فلم معاشرے کی پیداوار بھی ہے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے والی طاقت بھی۔ وہ کبھی آئینہ ہوتی ہے اور کبھی ذہن پر اثر انداز ہونے والی قوت۔

پھر 1980ء کی دہائی کے بعد حالات مزید بدلتے گئے۔ تشدد، طاقت، بدلہ، غیرت اور ذاتی انصاف پر مبنی کہانیاں زیادہ نمایاں ہوئیں۔ ایک ایسی نسل بھی پروان چڑھی جس کے لیے طاقتور ہونا، مخالف کو ختم کرنا، اپنا حق خود لینا اور قانون سے بالاتر ہو کر فیصلہ کرنا ایک خاص قسم کی مردانگی اور بہادری کی علامت بن گیا۔

لیکن اب ہم ایک بالکل مختلف زمانے میں داخل ہو چکے ہیں۔

2000ء کے بعد پروان چڑھنے والی نئی نسل کے ہاتھ میں گنڈاسا نہیں، موبائل فون ہے۔ اس کے سامنے صرف ایک فلم نہیں بلکہ پوری دنیا موجود ہے۔ وہ ایک ہی کہانی کو آخری سچ سمجھنے کے بجائے مختلف زاویے دیکھ سکتی ہے۔ وہ سوال کرتی ہے، دلیل مانگتی ہے، ثبوت تلاش کرتی ہے اور شخصیت سے زیادہ عمل کو اہمیت دینے لگی ہے۔

وہ پوچھتی ہے کہ اگر کوئی شخص بہت مذہبی نظر آتا ہے تو کیا اس کے معاملات بھی دیانت دار ہیں؟

اگر کوئی غریبوں میں پیسہ بانٹتا ہے تو یہ پیسہ آیا کہاں سے؟

اگر کوئی خود کو محب وطن کہتا ہے تو کیا اس کے اعمال بھی اس دعوے کی تصدیق کرتے ہیں؟

اگر کوئی ظلم کرتا ہے اور پھر خیرات کرتا ہے تو کیا خیرات اس ظلم کو ختم کر دیتی ہے؟

یہاں ایک نئی اخلاقی سوچ جنم لے رہی ہے۔

پہلے شخصیت دلیل تھی، اب دلیل شخصیت سے بڑی ہونے لگی ہے۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ بہت نیک آدمی ہے، اس لیے اس پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ نئی نسل پوچھتی ہے کہ اس نے کیا کیا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ بڑا متقی ہے۔ اب سوال ہوتا ہے کہ اس کا کردار کیسا ہے؟

پہلے کہا جاتا تھا کہ وہ غریبوں کا بہت خیال رکھتا ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ اس دولت کا ذریعہ کیا ہے؟

یہ صرف نسلوں کا اختلاف نہیں، بلکہ اخلاقی معیار کے بدلنے کی علامت ہے۔

پرانے معاشرے میں ظاہری نیکی اکثر کردار کا ثبوت سمجھی جاتی تھی۔ نئی نسل کہتی ہے کہ نیکی کا اصل ثبوت مستقل کردار ہے۔

یہاں آ کر پرانی اور نئی نسلوں کے درمیان اصل تصادم شروع ہوتا ہے۔

ایک نسل کے پاس جواز ہیں، دوسری کے پاس سوال۔

ایک نسل کہتی ہے کہ وہ نماز پڑھتا ہے، اس لیے اچھا آدمی ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ نماز اپنی جگہ، مگر اس نے دوسروں کے ساتھ کیا کیا؟

ایک کہتی ہے کہ وہ غریبوں میں بہت بانٹتا ہے۔ دوسری پوچھتی ہے کہ جو بانٹ رہا ہے وہ آیا کہاں سے؟

ایک کہتی ہے کہ وہ ہمارا محسن ہے۔ دوسری کہتی ہے کہ کسی کو محسن کہنے سے پہلے اس کا پورا کردار دیکھو۔

شاید پاکستانی معاشرے میں آنے والی سب سے بڑی تبدیلی یہی ہے۔ یہ مذہب سے بغاوت نہیں، نیکی سے بغاوت نہیں، خیرات کے خلاف نہیں اور عبادت کے خلاف بھی نہیں۔ یہ دراصل مذہب، نیکی، عبادت اور اخلاقی کردار کو دوبارہ ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش ہے۔

کیونکہ نماز اپنی جگہ عبادت ہے، خیرات اپنی جگہ نیکی ہے اور مذہبی شناخت اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہے، لیکن کسی انسان کے کردار کا اصل امتحان اس کے ساتھ رہنے والے انسانوں کے حقوق، اس کی دیانت، اس کے معاملات، اس کے رویے اور اس کے اختیار کے استعمال میں ہوتا ہے۔

شاید اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ کتنے مذہبی ہیں، بلکہ اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہونا چاہیے کہ آپ کتنے دیانت دار ہیں۔

شاید یہ بھی نہیں کہ آپ نے کتنی خیرات کی، بلکہ یہ کہ آپ نے کسی کا حق تو نہیں مارا۔

شاید یہ بھی نہیں کہ آپ کتنے بااثر ہیں، بلکہ یہ کہ آپ نے اپنے اختیار کے ساتھ کیا کیا۔

ایک وقت تھا جب ہم فلمی کرداروں میں اپنے لیے جواز تلاش کرتے تھے۔ پہلے چور کے پاس نماز کا جواز تھا، پھر ڈاکو کے پاس غریب پروری کا جواز آیا، پھر طاقتور کے پاس خیرات اور فلاحی کاموں کا جواز آیا۔

اب شاید ایک نئی نسل ان تمام جوازوں سے آگے بڑھ کر صرف ایک سوال پوچھ رہی ہے:

آپ کا اصل کردار کیا ہے؟

اور شاید یہی سوال پاکستانی معاشرے کی اگلی اخلاقی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

کیونکہ حقیقی نیکی یہ نہیں کہ انسان اپنے غلط کاموں کے ساتھ کچھ اچھے کام بھی کرتا رہے۔ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان اپنے غلط کام کو غلط تسلیم کرے، دوسروں کا حق نہ مارے، اپنے اختیار کا ناجائز استعمال نہ کرے اور اپنے کردار کو مذہبی، سماجی یا فلاحی پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش نہ کرے۔

ہماری فلمیں بدلتی رہیں، ہمارے ہیرو بدلتے رہے، ہمارے مکالمے بدلتے رہے، لیکن اب شاید ناظر بھی بدل رہا ہے۔

اور جب ناظر بدل جائے تو پھر ہیرو بھی بدلنا پڑتا ہے۔

 


No comments:

Post a Comment