میسوجنی (عورت دشمنی) ایک ہمہ جہتی سماجی مسئلہ
میسوجنی، جسے اردو میں عورت دشمنی کہا جاتا ہے، ایک ایسا منفی رویہ
اور سوچ ہے جس کے تحت عورتوں کو کمتر، کمزور یا غیر اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ صرف کسی
فرد کی ذاتی نفرت تک محدود نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی مسئلہ ہے
جو صدیوں سے مختلف معاشروں میں مختلف شکلوں میں موجود رہا ہے۔ میسوجنی کا اثر
عورتوں کی زندگی کے ہر پہلو پر پڑتا ہے، چاہے وہ تعلیم ہو، روزگار ہو، گھریلو
زندگی ہو یا سماجی شرکت۔ میسوجنی کی جڑیں تاریخ میں بہت پیچھے تک پھیلی ہوئی ہیں۔
قدیم معاشروں میں اکثر مردوں کو طاقت اور اختیار کا مرکز سمجھا جاتا تھا جبکہ
عورتوں کو گھریلو دائرے تک محدود رکھا جاتا تھا۔ وقت کے ساتھ یہ سوچ روایات،
رسومات اور سماجی اقدار کا حصہ بنتی چلی گئی۔ مثال کے طور پر بعض معاشروں میں لڑکی
کی پیدائش کو خوشی کی بجائے بوجھ سمجھا جاتا ہے، جبکہ لڑکے کی پیدائش پر جشن منایا
جاتا ہے۔ یہ امتیاز بچپن ہی سے ذہنوں میں بیٹھ جاتا ہے اور بڑے ہو کر یہی بچے اسی
سوچ کو آگے بڑھاتے ہیں۔
تعلیم کے میدان میں بھی میسوجنی واضح نظر آتی ہے۔ کئی علاقوں میں آج
بھی لڑکیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی یا ان کی تعلیم کو غیر
ضروری سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر دیہی علاقوں میں اکثر والدین یہ سوچ رکھتے
ہیں کہ لڑکی نے آخرکار شادی کر کے گھر سنبھالنا ہے، اس لیے اس پر زیادہ سرمایہ
کاری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس کے برعکس لڑکوں کی تعلیم کو مستقبل کی ضمانت
سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً خواتین کی بڑی تعداد اپنے حقوق اور مواقع سے محروم رہ جاتی
ہے۔
ملازمت اور پیشہ ورانہ زندگی میں بھی عورتوں کو امتیازی سلوک کا سامنا
کرنا پڑتا ہے۔ بہت سی خواتین کو برابر کام کے بدلے کم تنخواہ دی جاتی ہے، یا انہیں
اہم عہدوں تک پہنچنے سے روکا جاتا ہے۔ ایک عام مثال یہ ہے کہ کسی دفتر میں اگر ایک
مرد اور ایک عورت برابر صلاحیت رکھتے ہوں، تو اکثر ترقی مرد کو دی جاتی ہے کیونکہ
اسے زیادہ "قابل" یا "مستحکم" سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح کام کی
جگہ پر ہراسانی، غیر مناسب رویہ اور خواتین کی قابلیت پر شک بھی میسوجنی کی نمایاں
شکلیں ہیں۔
گھریلو سطح پر میسوجنی کا اثر اور بھی گہرا ہوتا ہے۔ بہت سی عورتیں
گھریلو تشدد کا شکار ہوتی ہیں، مگر سماجی دباؤ یا بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی
ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی عورت اپنے شوہر کے ظلم کے خلاف آواز اٹھانا چاہے تو
اسے اکثر یہ کہہ کر روک دیا جاتا ہے کہ "گھر کی بات گھر میں ہی رہنی
چاہیے"۔ اس طرح ظلم کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور عورت کی زندگی مشکلات کا شکار
ہو جاتی ہے۔ میڈیا اور ثقافت بھی میسوجنی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈراموں، فلموں اور اشتہارات میں اکثر عورت کو کمزور، جذباتی یا صرف خوبصورتی کی
علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ مرد کو طاقتور، فیصلہ ساز اور کامیاب
دکھایا جاتا ہے۔ اس طرح کے کردار عوام کے ذہنوں میں ایک خاص تصور پیدا کرتے ہیں جو
حقیقت سے مختلف ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اکثر اشتہارات میں عورت کو صرف گھر کے کام
کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے جبکہ مرد کو باہر کے کاموں میں مصروف دکھایا جاتا ہے۔
میسوجنی کی ایک اور خطرناک شکل آن لائن دنیا میں نظر آتی ہے۔ سوشل
میڈیا پر خواتین کو ہراساں کرنا، ان پر تنقید کرنا یا ان کی کردار کشی کرنا عام
ہوتا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی خاتون اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے
منفی تبصروں، دھمکیوں یا طنز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ اسی بات پر مرد کو سراہا
جاتا ہے۔ یہ رویہ خواتین کو اپنی آواز بلند کرنے سے روکتا ہے۔
میسوجنی کے نفسیاتی اثرات بھی نہایت گہرے ہوتے ہیں۔ مسلسل امتیازی
سلوک اور تحقیر کا سامنا کرنے سے خواتین میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
وہ خود کو کمتر سمجھنے لگتی ہیں اور اپنی صلاحیتوں پر شک کرنے لگتی ہیں۔ مثال کے
طور پر ایک باصلاحیت لڑکی اگر بار بار یہ سنے کہ وہ کسی کام کے قابل نہیں تو وہ
آہستہ آہستہ اپنی صلاحیتوں کو استعمال کرنا چھوڑ دیتی ہے۔ یہ مسئلہ صرف عورتوں کے
لیے ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ جب آدھی آبادی کو پیچھے رکھا
جائے تو معاشرہ اپنی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکتا۔ مثال کے طور پر اگر خواتین کو
تعلیم اور روزگار کے برابر مواقع ملیں تو وہ معیشت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں،
جس سے ملکی ترقی میں اضافہ ہوتا ہے۔
میسوجنی کے خاتمے کے لیے سب سے اہم قدم تعلیم ہے۔ بچوں کو بچپن سے ہی
یہ سکھانا ضروری ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں اور دونوں کو یکساں عزت اور حقوق
حاصل ہیں۔ تعلیمی نصاب میں بھی صنفی برابری کو شامل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کے ساتھ یکساں سلوک کریں۔ قانون سازی
بھی اس مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حکومت کو ایسے قوانین بنانے اور ان
پر سختی سے عملدرآمد کروانے کی ضرورت ہے جو خواتین کے حقوق کا تحفظ کریں۔ مثال کے
طور پر ہراسانی، گھریلو تشدد اور امتیازی سلوک کے خلاف قوانین کو مؤثر بنایا جائے
اور متاثرہ خواتین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کو
بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے۔ انہیں ایسے مواد کو فروغ دینا چاہیے جو
خواتین کو مضبوط، باصلاحیت اور خودمختار دکھائے۔ مثبت کردار اور کامیاب خواتین کی
کہانیاں معاشرے میں ایک اچھا پیغام دے سکتی ہیں۔
مذہبی اور سماجی رہنما بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہیں چاہیے کہ وہ اپنے خطبات اور تقاریر میں عورتوں کے حقوق اور احترام پر زور
دیں اور غلط روایات کی حوصلہ شکنی کریں۔ اسلام سمیت تمام مذاہب عورت کو عزت اور
حقوق دیتے ہیں، لیکن ان تعلیمات کو صحیح انداز میں سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت ہے۔
مختصر یہ کہ میسوجنی ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس کا حل صرف ایک فرد یا
ادارہ نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب
ہم اپنی سوچ
بدلیں گے، دوسروں کا احترام کریں گے اور انصاف کو فروغ دیں گے، تب ہی ہم ایک ایسا
معاشرہ تشکیل دے سکیں گے جہاں عورت اور مرد دونوں برابر کے حقوق کے ساتھ ایک بہتر
زندگی گزار سکیں۔
No comments:
Post a Comment